انقلاب اور اندھی عقیدت - نورین تبسم

انقلاب باہر کی نہیں اندر کی کیفیت کانام ہے۔ اپنی ذات کے کونوں کھدروں تک رسائی حاصل کرنے، اپنی صلاحیتیں جانچنے، مقصدِحیات کو جاننے پہچاننے کے بعد انسان اور انسانیت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دینا عظیم انقلاب کی راہ کا پہلا قدم ہے تو اپنی کتابِ زندگی کا ہر ورق کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے عیاں ہونا اس راستے کی شرط اولین ہے۔

قائدِانقلاب کی ذات کا ہر نقش اگر واضح ہوتا ہے تونہ صرف دوست بلکہ دُشمن بھی اس کے افعال و کردارکی سچائی کی گواہی دیتے ہیں۔ دوست پہچان کر جان کی بازی لگاتے ہیں تو دُشمن محض انا اور خودغرضی کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہٹ دھرمی سےباز نہیں آتے۔

معاشرتی سطح پر انقلاب کے لیے سب سے پہلے ایک رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔ بجا کہ انقلاب ایک فرد سے کبھی نہیں آتا لیکن حق یہ بھی ہے کہ بارش کے پہلے قطرے کے بغیر بارش کا تصور ہی ناممکن ہے۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

اخلاص
فردِ واحد کا اخلاص بارش کا وہ پہلا قطرہ ہے جس پر کامل یقین سے رہِ انقلاب کی رم جھم موسلادھار بارش بنتے دیر نہیں لگاتی۔ اسلامی تاریخ کی زریں مثالوں اور قلب و روح میں اترے واقعات کے ساتھ ساتھ رواں صدی میں دیکھیں تو ایک غیرمسلم کی ستائیس برس کی چکی کی مشقت ہو (نیلسن منڈیلا، جنوبی افریقہ)۔ امام خمینی کی سولہ برس کی جلاوطنی ہو، یا پھر دُشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر، دلیل کے زور پر، اُس کے رنگ میں رنگ کر قائل کرنے اور اپنا آپ منوانے سے لے کر اپنا آپ "فنا" کر دینےتک کی ہمارے قائد جناب "قائدِاعظم محمدعلی جناح" کی شاندار اور بامراد جدوجہد ہو، ہمارے لیے نشانِ راہ اور راہِ عمل متعین کرتے ہیں۔

انقلاب ان دلوں پر دستک دیتا ہے جن کی آنکھیں کھلی ہوں، عقل کے اندھے کبھی انقلاب کے ساتھی نہیں بن سکتے۔ اندھاانقلاب صرف فتنہ ہے

انقلاب افراد کے لیے آتا ہے، افرادی قوت کی بیساکھی پر چل کر نہیں۔ اندھا انقلاب اندھی عقیدت کا وہ ناجائز اور معذور بچہ ہے جو لاکھ عزت و تکریم کے مینار کھڑے کر دے، اپنے حسب نسب کی شہادت دینے سے قاصر رہتا ہے۔ ہمیشہ دوسروں کے کاندھوں کی ہوس میں، لایعنی خواہشوں کے اُڑن کھٹولے پر سفر کرتا ہے اور مادی آسائشوں کی آغوش میں منہ چھپا کر سو جاتا ہے۔ دوسری طرف اندھی عقیدت کی عینک پہننے والا نہ صرف اپنے آپ کو بھلابیٹھتا ہے بلکہ اپنے محبوب کو بھی فراموش کر کے عالمِ بےخودی میں رقص کیے جاتا ہے۔ ہاتھ کسی کے کچھ نہیں آتا نہ طالب کے اور نہ مطلوب کے۔ عقیدت کا چمتکار دنوں، مہینوں یا سالوں مریدین اور زائرین کا جمگھٹا لگا سکتا ہے۔ فصلی بٹیروں کا مجمع اکٹھا کر سکتا ہے جو مفت کے لنگر کے لیے کہیں بھی ڈیرہ لگانے سے نہیں ہچکچاتے۔ عقیدت مند اپنی غرض کے ساتھ آتے ہیں۔ مراد بر نہ آئے تو آستانے اُجڑ جاتے ہیں۔ ڈیرے ویران ہو جاتے ہیں، اگر کچھ باقی بچتا ہے تو جعلی عاملوں کا برے وقت کے لیے بچا سرمایہ یا پھر غلط مشیروں پر اعتماد کرنے کا پچھتاوا۔ پیر کا کمال اُس کا لبادہ ہوا کرتا ہے۔ ذرا قربت ملے تو پیاز کے چھلکوں کی طرح شخصیت کے لبادے اترنے لگتے ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں اور پیروں سے ہم عوام کی سراسر جہالت پر مبنی عقیدت ناقابلِ معافی ہے کہ یہ نسلیں کھا جاتی ہے، دوسری طرف علم سے نسبت اور علم والوں سے عقیدت نسلیں سنوار دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کم عقل عورت - مدیحہ ریاض

اصل کہانی عقیدت سے محبت تک کا سفر ہے جو بہت کم کسی کا نصیب ہے کہ عقیدت مند اپنی منتیں پوری نہ ہوتے دیکھ کر بہت جلد مایوس ہو کر راستہ بدل لیتے ہیں یا کہیں اور کوئی اُن کی عقیدت خرید لیتا ہے۔ جبکہ محبت کرنے والا بےغرض آتا ہے، خود مالامال ہوتا ہے اور لینے والے کو بھی سرشار کر دیتا ہے۔ محبتوں کے ڈیرے سدا آباد رہتے ہیں، عقیدت سے محبت تک کا سفر محبوب کو زمانوں کے لیے امر کر دیتا ہے۔ آنے والی نسلیں اُس کی گواہی دیتی ہیں۔ عظیم صوفیائےکرام کے آستانے ہوں یا پھر ایک نظریے، ایک مقصد کے حصول کے لیے دیوانہ وار محنت کرنے والے عالمی رہنما اور مفکرین جو اپنے افعال و کردار کی بدولت تاریخ کے صفحات میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔

بحیثیت قوم ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ہمیں دیوتا سمان پیرومرشد تو بہت ملے جن کے کارگر تعویز بلاؤں اور وباؤں سے وقتی طور پر بچاتے رہے، یوں اُن کی گُڈی چڑھی رہی لیکن اُن کی محنت کی ہمیں بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ قوم کو آج تک اُس رہنما کی تلاش ہے جو اپنے قول و فعل سے ہمیں ایک کر سکے۔ دنیائے عالم میں سر اُٹھا کر چلنے کا فخر عطا کرے۔ قوم (جسے اب ہجوم کہا جانے لگا ہے) ہر چہرے میں اُس نجات دہندہ کو ڈھونڈتی ہے، کچھ دیر ٹھہرتی ہے اور پھر مایوس ہو کر آگے بڑھ جاتی ہے۔

ہمیں بیرونی طاقتوں سے زیادہ خود ہماری ہی منتخب کردہ یا ہم پر مسلط کردہ قیادت نے نقصان پہنچایا ہے اور اغیار نے صرف موقع سے فائدہ اُٹھایا ہے۔ جب تک ہماری صفوں سے رہنما نہیں اُٹھے گا حالات نہیں بدلیں گے۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ ہماری ملکی سیاست میں ایوانِ اقتدار کا طواف کرنے والے آج کے قومی رہنما خواہ اُن کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، سب کی کڑیاں بیرونِ ملک جا ملتی ہیں۔ سات عشرے گزرنے کے باوجود عام عوام کا کوئی فرد محض اپنی قابلیت ولیاقت اور خلوص نیت کے بل بوتے پر کسی اہم منصب کے قریب بھی نہیں پھٹک سکا۔ اس میں شک نہیں کہ باکردار چہرے سامنے آتے رہے لیکن بہت جلد وہ ناانصافی کی دھول کی نذر ہوگئے، یا پھر اُن کے اپنوں نے پیٹھ میں چُھرے گھونپ دیے۔ تاریکی میں روشنی کا روزن اس وقت کھلے گا جب عوام کو عقل آئے گی، اس کے لیےدعا ہی کی جا سکتی ہے۔ یاد رہے دعا بھی پورے یقین اور خلوص کے ساتھ مانگی جائے پھر ہی اثر رکھتی ہے۔
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

یہ بھی پڑھیں:   یہ ملاقات بڑی دیر کے بعد آئی ہے - جویریہ سعید

آخری بات
انقلاب ان دلوں پر دستک دیتا ہے جن کی آنکھیں کھلی ہوں، عقل کے اندھے کبھی انقلاب کے ساتھی نہیں بن سکتے۔ اندھاانقلاب صرف فتنہ ہے، اور کچھ بھی نہیں جتنا سمیٹتے جاؤ اُتنا ہی پھیلتا جاتا ہے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.