ریا کاری کیا ہے؟ محمد رضی الاسلام ندوی

جو اعمال اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی عمل کوئی شخص اس لیے انجام دے کہ اس سے لوگوں کی خوشنودی حاصل ہو، وہ اسے متقی و پرہیزگار سمجھیں، اس کے علم و فضل کا چرچا کریں اور اسے بڑا سمجھیں تو یہ ریاکاری ہے.

ریاکاری کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے سخت وعید سنائی ہے، اور اسے 'شرک' قرار دیا ہے. (ترمذی :1535) اور اسے مسیح دجّال کے فتنے سے بڑھ کر بتایا ہے، (ابن ماجہ :4204) ایک حدیث قدسی میں ہے کہ "اللہ تعالی فرماتا ہے: میں تمام شرکاء میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جسے میرے ساتھ کسی اور کے لیے بھی انجام دیا تو میں اسے اور اس کے عمل کو چھوڑ دیتا ہوں." (مسلم :2985) آپﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا: "مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے. یہ اندیشہ نہیں کہ وہ سورج، چاند، یا مٹی پتھر کے بت پوجنے لگیں گے، بلکہ اس کا اندیشہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کا دکھاوا کرنے لگیں گے." (احمد:17120) آپ ﷺ نےفرمایا: "جس شخص نے آخرت کا کوئی عمل دنیا کے لیے کیا، اسے آخرت میں اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا." (احمد :21221)

اللہ کے رسول ﷺ نے ان اعمال کی بھی نشان دہی فرمائی ہے جن میں دکھاوا کیا جا سکتا ہے. آپ نے فرمایا: "جس شخص نے نماز پڑھی، روزہ رکھا اور صدقہ کیا، لیکن اس کا مقصد محض دکھاوا تھا، اس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا." (احمد: 17140) مشہور حدیث ہے کہ "قیامت کے دن بارگاہِ الہی میں 'شہید' (اللہ کی راہ میں اپنی جان نچھاور کرنے والا) 'عالم' (اپنے علم سے انسانوں کو خوب فیض پہنچانے والا) اور 'سخی' (اپنے مال سے غریبوں کی خوب مدد کرنے والا) پیش کیے جائیں گے، لیکن انھیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا، محض اس لیے کہ انھوں نے یہ عظیم الشان اور انتہائی قابلِ قدر کام صرف دکھاوے، نام و نمود اور شہرت طلبی کے لیے انجام دیے ہوں گے." (مسلم :1905) علماء کے لیے تو حدیث میں خاص طور پر وعید آئی ہے. آپ ﷺ کا ارشاد ہے: "جس شخص نے علم حاصل کیا، تاکہ لوگوں کے چہرے اپنی طرف پھیر لے، وہ جہنم میں جائے گا." (ابن ماجہ :253)

یہ بھی پڑھیں:   نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ان احادیث کو پڑھ کر اور ان وعیدوں کو سن کر ہر مسلمان کے رونگٹے کھڑے ہوجانے چاہییں اور اس پر لرزہ طاری ہوجانا چاہیے. ہر ایک کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے. کہیں دل کے کسی گوشے میں اللہ کی رضا کے ساتھ ریاکاری، دکھاوا اور شہرت طلبی کی آمیزش تو نہیں ہوگئی ہے. اگر ایسا ہے تو وہ فوراً اللہ تعالی کی طرف پلٹے اور سچے دل سے توبہ کرے، اللہ تعالٰی معاف کرنے والا اور اخلاص نصیب کرنے والا ہے.

ہر شخص کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اندروں کو ریاکاری کے جراثیم سے پاک کرنے کی کوشش کرے، نہ کہ دوسروں کے اندر ریاکاری تلاش کرنے کی جدّوجہد کرے. اللہ تعالٰی نے اسے داروغہ نہیں بنایا ہے کہ وہ دوسروں کے دلوں کو ٹٹولے، انھیں الٹے پلٹے، ان کے اعمال کو خوردبین کے ذریعے جانچے اور پھر اپنا فیصلہ سنادے کہ انھیں اخلاص سے انجام دیا گیا ہے یا ریاکاری مقصود ہے. دلوں کو چیر کر حقیقت تک رسائی پانے کا اختیار اللہ تعالی نے اپنے کسی بندے کو نہیں دیا ہے. دلوں کا حال جاننے والا صرف اور صرف اللہ تعالی ہے اور اسی کو فیصلہ سنانے کا اختیار ہے.

بہت سے لوگ ہیں جو اپنے معاملے میں اتنے حسّاس اور فکرمند نہیں ہوتے جتنا دوسروں کے بارے میں فیصلہ سنانے کے لیے بے چین رہتے ہیں. انھیں دوسروں کی عقبی بنانے کی اتنی زیادہ فکر ہوتی ہے کہ اپنا احتساب کرنے اور جائزہ لینے کا موقع ہی نہیں نکال پاتے. انھوں نے ایک ایسے کام کی ذمے داری اپنے سر اوڑھ لی ہے جسے اللہ تعالی نے ان کے سپرد نہیں کیا ہے. انھیں اپنی خیر منانی چاہیے اور اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہیے.

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں