نوازشریف کو اصل خوف کیا ہے؟ اوریا مقبول جان

اگر بددیانتی، کرپشن، منی لانڈرنگ اور وسائل سے زیادہ جائیدادیں بنانے کے الزامات آج سے پندرہ سال پہلے لگائے گئے ہوتے، کسی ڈکٹیٹر نے تفتیش کروا کر فوجی عدالتوں سے سزا سنائی ہوتی یا کسی حکومتی ادارے نے گزشتہ ادوار کی طرح ثبوتوں کے انبار جمع کیے ہوتے، دنیا بھر کے ملکوں میں خاک چھان کر جائیدادوں کی تفصیل جمع کی ہوتی تو نواز شریف کبھی اتنے پریشان نہ ہوتے۔

وہ 1999ء میں نکالے گئے تو پوری دنیا میں ان کی لوٹی ہوئی دولت سے سرمایہ کاری کرنے کے راستے کھلے تھے۔ ان کے ہم پیشہ سیاست دان آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو بھی انہی کی طرح یہ سب کچھ کرتے چلے آ رہے تھے۔ انہوں نے سیف الرحمن کے ذریعے بہت محنت کے ساتھ آصف زرداری اور بے نظیر کے اثاثوں کی چھان بین کروائی‘ سرے محل سے لے کر قیمتی ہار تک بے شمار جائیداد و دولت جس کا وہ حساب نہیں دے سکتے تھے۔ لیکن دنیا شاید ابھی کرپشن کے خلاف اس قدر سنجیدہ اور متحد نہیں ہوئی تھی۔ غریب ممالک کے سیاسی رہنما اور فوجی ڈکٹیٹر عوام کا پیسہ لوٹ کر مغرب کی جنت میں مزے کے دن گزارتے اور کاروبار کرتے۔ غریب ملکوں کی لوٹی ہوئی دولت سے امیر ممالک میں سرمایہ کاری ہوتی اور ان کی معیشت مضبوط اور مستحکم ہوتی۔ لیکن 9/11 سے جنم لینے والے خوف سے جہاں دنیا بھر میں عالمی طاقتوں کی وحشت اور تشدد کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر قانونی حیثیت ملی اور مسلمان دنیا آگ اور خون کے دریا میں نہلا دی گئی، وہیں اس خوف نے 2003ء میں اقوام متحدہ کو ایک عالمی عہد نامہ رکھنے پر مجبور کیا جسے united nations convention against corruption (اقوام متحدہ کا کرپشن کے خلاف عہد نامہ) کہتے ہیں۔ اس عہد نامے کے باب نمبر پانچ(V) کے مطابق قوموں کے چوری کئے گئے اثاثوں اور دولت کو ان قوموں تک واپس لوٹانا عالمی ترجیح (Priority) ہے، اس کے بعد اقوام متحدہ نے ورلڈ بنک کے ساتھ ایک تفصیلی معاہدہ کیا جس کے تحت ایک مشترکہ پروگرام شروع کیا گیا جس کا ہدف ان چوری شدہ اثاثوں کی تلاش تھی۔ اس پروگرام کا نام stolen Asset Recovery initiative ہے۔ اقوام متحدہ نے کرپشن کے خلاف اس کنونشن کے عہد نامے پر 166ممالک نے دستخط کئے ہیں اور اقوام متحدہ اور عالمی بنک کے چوری شدہ اثاثوں کی تلاش کے پروگرام کو ناروے، سویڈن، سوئٹزر لینڈ، فرانس، برطانیہ اور ہالینڈ ایک ٹرسٹ کے تحت سرمایہ فراہم کرتے ہیں اور ورلڈ بنک کی مالی مدد بھی اسے حاصل ہے۔ اس عہد نامے کے تحت وہ تمام چوری شدہ اثاثے جو بنک اکاؤنٹ، جائیداد گاڑیوں اور کاروباری شیئرز کی صورت میں ہوں گے اور جن کے بارے میں ان لوگوں کی حکومتیں ایک قانونی طریق کار کے ساتھ اپنے ملک میں اعلیٰ ترین عدالت کے ذریعے یہ ثابت کر دیں گی کہ یہ چوری کیے گئے ہیں کیونکہ ان کے مالک کے پاس ان اثاثوں کو بنانے کے لیے حاصل کی گئی آمدنی کا کوئی ثبوت نہیں تو پھر یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اثاثوں کو اس ملک کو واپس کر دے۔

یہ بھی پڑھیں:   کرپشن کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ اسماء طارق

2003ء سے پہلے ان بددیانت حکمرانوں سے دولت واپس اپنے ملک میں لانا ایک خواب تھا لیکن اس عہد نامے اور عالمی برادری کے منی لانڈرنگ کے خوف نے یہ ثابت کر دیا کہ ایسا ممکن ہے اس کی سب سے بڑی مثال نائیجیریا کے ڈکٹیٹر سنی اباچا sani Abacha کی ہے جو 1993ء سے 1998ء تک پانچ سال وہاں کا حکمران رہا۔ اس نے 1.2 ارب ڈالر کی بیرون ملک جائیدادیں بنائیں۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے محمد اباجا نے یہ دعویٰ کیا کہ تمام جائیدادیں اسے خاندانی طور پر ورثے میں ملی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اسی کنونشن کے تحت جب محمد اباچا منی ٹریل ثابت کرنے میں ناکام ہوگیا اور عدالت نے فیصلہ کر دیا تو نائیجیریا کو 1.2 ارب ڈالر کی لوٹی ہوئی دولت واپس کر دی گئی۔ ابھی صرف تین سال قبل 7اگست2014ء کو امریکہ کے محکمہ انصاف نے اباچا کے نام پر موجود 480 ملین یعنی 48 کروڑ ڈالر اس کی اولاد کو نہیں دیے بلکہ فیصلے میں لکھا کہ اس نے عوامی عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے یہ دولت کمائی، اس لیے یہ 48کروڑ ڈالر نائجیریا کی حکومت کو واپس کیے جاتے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے اس فیصلے میں ایک اصطلاح استعمال کی۔kleptocracy یعنی چوری کے جنون میں گرفتار حکومتی افراد یہ لفظ ایک نفسیاتی بیماری kleptomania سے نکلا ہے جس میں ایک مریض اپنی چوری کرنے کی طلب پرقابو نہیں پا سکتا۔

اپنے ملک کے چوری شدہ اثاثوں کو واپس لانے کے لیے ایک طریق کار وضع کر دیا گیا ہے، اس میں سب سے پہلے
(1) ملک اپنے چوری شدہ اثاثوں کا سراغ لگائے۔
(2) اور اسے کسی عدالتی کارروائی سے ثابت کرے۔
(3) اس کے بعد جس ملک میں اثاثے ہیں، وہاں باہمی مددmutual Legal Assistance کے اصول کے تحت رابطہ کرے۔
(4) جس کے نتیجے میں اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔
(5) پھر اپنے ملک کی سپریم کورٹ سے ان اثاثوں کی واپسی کا حکم نامہ لے کر آئے تو سب کے سب اثاثے اس ملک کو لوٹا دیے جائیں گے۔

اس سارے طریق کار کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا۔
(1)اثاثوں کا معلوم کرنا(tracing)
(2) اثاثوں کو منجمد کروانا (Freezing)
(3) عدالتوں سے ضبط کروانا(confiscation) اور
(4) اثاثوں کی ملک واپسی (Repatriation)
اس عہد نامے کے مطابق اس وقت دنیا میں پچاس سے زیادہ حکومتی اور نیم حکومتی ادارے اپنی چاروں بنیادوں اصولوں کے مطابق کام کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ اور عالمی بنک کے تحت متحد ہیں۔

عالمی بنک کے مطابق ان بددیانت، چور اور کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے غریب ملک کا ہر سال ایک ہزار چھ سو ارب ڈالر یعنی 1.6ٹریلین ڈالر چوری ہو کر مغربی ممالک میں جاتا ہے۔ جس میں سے چالیس ارب ڈالر وہ کمیشن ہے جو دنیا بھر کی کمپنیاں ان حکمرانوں کو بڑے بڑے منصوبوں جیسے موٹر وے‘ میٹرو‘ ایئر پورٹ ڈیم اور اسلحہ کی خریداری وغیرہ میں دیتی ہیں اور وہ باہر کا باہر ان کے اکاﺅنٹوں میں جمع ہو جاتا ہے۔ صرف نائیجیریا کے سنی اباچا کی بات نہیں ایک طویل فہرست ہے ان بددیانت ‘ چور اور کرپٹ حکمرانوں کی، جن کی دولت واپس ان کے ملکوں کو لوٹائی جا رہی ہے۔ نکاراگوا کے صدر آرنولڈو الیمان ”arnolodo Aleman“کو ہیں ملک کی حکومت نے 2002ء میں منی لانڈرنگ اور کرپشن پر 20سال قید کی سزا سنائی، فلپائن میں موجود اس کے 27ملین ڈالر کے اثاثے واپس کر دیے گئے۔ یوکرین کے وزیر اعظم پاﺅ لازرینکو Pavlo Lazernekoپر الزام تھا کہ اس نے 200ملین ڈالر چوری کر کے سوئٹزر لینڈ میں رکھے ہیں اس پر ملک میں مقدمہ چلا سوئٹزر لینڈمیں گرفتار ہوا، ضمانت پر رہا ہوا، یوکرین نے اس کا مقدمہ نہ چلانے کا استحقاق ختم کیا، یوکرین کی عدالت نے اس کی کرپشن ثابت کی، وہ امریکہ بھاگ گیا، وہاں مقدمہ چلا اور اس کے 22 ملین ڈالر یوکرین کو واپس مل گئے اور ابھی تک 200 ملین دیگر ملکوں سے واپسی کے عمل میں ہیں۔ ایک طویل فہرست ہے پیرو کا صدر البرٹو فیوجی موری alberto Fujimori، ہیٹی کا صدر جین کلاڈ Jean claude، یوگوسلاویہ کا صدر سلابیڈان میلا سووچ، تیونس کا زین العابدین علی اور ایسے کئی اور جن کے ملکوں کی اعلیٰ عدالتوں نے ان کے اثاثوں کو کرپشن اور بددیانتی سے بنایا ہوا ثابت کیا اور پھر وہ اثاثے ملکوں کو واپس کر دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   اگر معجزہ ہوجائے؟ شیخ خالد زاہد

آصف زرداری، الطاف حسین، بے نظیر، پرویز مشرف یا کسی اور کے خلاف حکومتوں نے عدالتوں میں جا کر مقدمات چلانے اور ان کے اثاثوں کو غیر قانونی قرار دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ سب چور تھے اور ایک دوسرے کو بچاتے رہے۔ سب سیاسی بیان بازی کرتے رہے اور نیب اور دیگر اداروں کو احکامات دیتے رہے کہ عدالت میں ثبوت مت لے جانا۔ آصف زرداری اور بے نظیر کو نواز شریف نے بچایا اور نواز شریف کو آصف زرداری نے اور دونوں نے مل کر پرویز مشرف کو بچایا۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے خوف کی ایک لہر ہے جو ان سب کے جسموں میں سرائیت کر چکی ہے۔ اگر یہ مقدمے اپنے منطقی انجام تک پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ کر دیا تو پھر لندن، دبئی، جدہ، اور سوئٹزرلینڈ میں سب جائیدادیں پاکستانی قوم کو واپس مل جائیں گی۔ شریف خاندان اپنی اتفاق فاﺅنڈری، زرداری بمبینو سینما، مشرف فارم ہاؤس اور دیگر سیاستدان کو بھی شاید اپنی آبائی دولت واپس نہ مل سکے۔ یہ ہے اصل خوف جس نے نواز شریف کو ریلی نکالنے اور عدلیہ کو بدنام کرنے پرمجبور کیا ہے۔