ماضی، حال اور مستقبل؟ - عائشہ تنویر

ہم اکثر سنتے ہیں "آزادی ایک نعمت ہے، اس کی قدر کریں" لیکن عمل کرنا تو دور کی بات، اس جملے کی گہرائی میں جائے بغیر ہم اسے سمجھ بھی نہیں سکتے۔ آزادی صرف جسمانی سہولیات و آسائشوں کی موجودگی کا نام نہیں، یہ تو ذہنی سکون ہے، وہ احساس جو رگ و پے میں سرائیت کر جائے۔

اگر ہم بر صغیر پاک و ہند کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالیں تو مسلمانوں کا طویل دور حکومت دکھائی دیتا ہے لیکن بد قسمتی یہ کہ بت شکن کہلانے والے اور باب الاسلام وا کر کے اپنے حسن سلوک سے لوگوں کو دائرہ اسلام میں لانے والے نہ رہے اور حکومت کی باگ ڈور نسل در نسل بادشاہت کی صورت نا اہل حکمرانوں کے ہاتھ میں آ گئی۔

اپنی رعایات کے تمام شہریوں، خواہ وہ کسی مذہب سے ہوں، اکثریت سے تعلق رکھیں یا اقلیت سے، سب کا خیال رکھنا مسلم حکمران کی ذمہ داری ہے لیکن بادشاہ یہ توازن نہ رکھ سکےاور اپنی عیاشی کے سبب اپنے مذہب کی بھی حفاظت نہ کر سکے۔ بدعات اور شرک معاشرے میں عام ہوتا چلا گیا اور یہ نام نہاد مسلمان شراب و شباب کے نشے میں گم، اپنی پہچان بھلائے اور موت کا خوف دل میں رکھے بغیر بالآخر اپنے انجام کو پہنچے اور اقتدار انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا۔

انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے لی تھی اور بہادر شاہ ظفر جیسے بادشاہ اور میر جعفر و صادق جیسے غداروں کے ساتھ ساتھ انہوں نے ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ جیسے سچے، بہادر مسلمان بھی دیکھ رکھے تھے۔ اس لیے انہیں ہمیشہ مسلمانوں سے بغاوت کا خوف رہا اور انہوں نے مسلمانوں کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وہ مسلمانوں کی کمزوریوں سے بخوبی واقف تھے اور بروقت ان کا استعمال جانتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک روایت درج ذیل ہے:

ایک انگریز افسر نے ایک مسلمان سے کہا تھا، ہندوستان میں تین قومیں ہیں ، مسلمان، ہندو اورانگریز ۔ انگریزوں کے دو دشمن ہیں اور وہ ہیں ہندو اور مسلمان۔ ہندوؤں کے بھی دو دشمن ہیں یعنی انگریز اور مسلمان جبکہ مسلمانوں کے تیں دشمن ہیں ، ہندو، انگریز اور خود مسلمان ۔ مسلمانوں کو جب بھی نقصان پہنچتا ہے، مسلمانوں ہی کی وجہ سے پہنچتا ہے ۔ ورنہ اس گئے گزرے دور میں بھی مسلمانوں کو دوسرے لوگ نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ ( ملفوظات حکیم الامت - ص: 128، ج: 7 )

ہم نے "پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الااللہ" کی بنیاد پر پاکستان تو حاصل کرلیا لیکن جلد یہ یہ وطن بیرونی کے ساتھ ساتھ اندرونی خطرات کا بھی سامنا کرنے لگا۔ وسائل کی کمی تھی لیکن ہم نے دن رات محنت کر کے ملک کو ترقی کی شاہراہ پرڈالا، دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر منہ توڑ جواب دیا لیکن دوسری طرف دشمن عوام میں تفرقہ ڈالنے میں کوششوں کو نہ روک سکے۔ جس دشمن کو 1965ء میں بدترین شکست دی، اسی نے 1971ء میں پاکستان کو دو لخت کردیا اور وجہ وہی آستین کے سانپ تھے۔

آج ہم ایٹمی طاقت تو ہیں لیکن اپنی مسلم روایات اور ثقافت کھو بیٹھے ہیں۔ حکمرانوں سے لیکر عوام تک سرتاپا کرپشن، رشوت، سفارش، اقربا پروری کے گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں لیکن آج بھی جوان سرحد پر جان دینے کو تیار ہیں۔ جشن آزادی کے نام پر، ایک طبقہ اگر فضولیات میں پڑ جاتا ہے تو وہیں آج بھی کچھ لوگ زمین سے گری جھنڈیاں جمع کرتے پھرتے ہیں۔ ایک طرف امن و امان کی صورتحال بگڑی ہے، اسٹریٹ کرائمز عروج پر ہیں، ذات پات اور لسانیت کے جھگڑے عروج پر ہیں تو دوسری طرف سیلاب، زلزلے میں پوری قوم دیوانہ وار مدد کو بھاگتی ہے۔ حکمران بے حس ہیں تو ایدھی، چھیپا، عالمگیر اور سیلانی جیسے عوام کا آسرا ہیں۔

مسلمان بالخصوص پاکستانی قوم کے مزاج کی یہ دو رنگی ابتداء سے ہے۔ ایک طرف اعمال کی گرمی ہے تو دوسری طرف رحمت الٰہی کی نرمی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو معاشرے کی برائیاں تسلیم ہی نہیں کرتے، سامنے نظر آتے گناہ سے نظر چرا لیتے ہیں، دوسری طرف وہ لوگ جو تاریک پہلو دکھا دکھا کر معاشرے میں مایوسی اور قنوطیت پھیلاتے ہیں۔

سب سے صرف یہ عرض ہے کہ جو پا لیا وہ ماضی ہو گیا، جو کھو دیا وہ نا اہلی! اب بات کریں کیا پانا ہے؟ اہداف طے کریں، زبانی جمع خرچ سے آگے نکلیں۔ میر جعفر، میر صادق بھی ہم میں سے تھے تو ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ بھی ہمارے ہیں ۔ فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے کیا بننا ہے اور نئی نسل کو کیا بنانا ہے؟ کسی قسم کا احساس کمتری اور برتری رکھے بغیر دل کی سنیں، حق پر چلیں۔ وطن کو آج بھی آپ کی ضرورت ہے کہ آزادی قائم رکھنا پانے سے زیادہ مشکل ہے۔ آزادی کا چمن ہمیشہ خون جگر سے ہرا بھرا ہوتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com