عمران خان پر بہتان اور بدنیتی - مجیب الحق حقی

بڑی حیرت ہوئی جب عمران خان پر تہمت کے حوالے سے شور غل اور اٹھنے والے مطالبات کی نوعیت پر غور کیا۔ جتنا زیادہ غور کیا اتنا ہی اپنے سیاسی لیڈروں، دانشوروں اور اینکر حضرات کی دانش پر اعتبار مجروح ہوا۔ آئیے آپ بھی غور کریں۔ اس میں آپ کو سازش اور بدنیتی کے ناقابل تردید ثبوت ملیں گے۔

سب سے پہلے تو یہ بات کہ خاتون اپنا فون دکھانا نہیں چاہ رہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟ ان کو اپنا فون سب سے پہلے دکھانا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر میں عمران کی جگہ ہوتا تو مجرم ہونے کی صورت میں سب سے پہلے سارے میسج ڈیلیٹ کر دیتا۔ اگر عمران کے فون میں میسج کا ہونا ہی جرم کا ثبوت ہے تو اس نشان کو تو وہ خود مٹا سکتا ہے۔ تو ثابت یہ ہوا کہ اصل ثبوت خاتون کے فون میں ہی ہے جس کو اس نے سنبھال کر رکھا ہے۔ اسی سے عمران کے میسج ملیں گے۔ اب اگر خاتون کے پاس میسج قابل اعتراض ہیں تو تحقیق آگے جائے گی اور سیلیولر کمپنی سے اس کی تصدیق کی جائےگی کہ آیا یہ عمران کے فون سے بھیجے گئے ہیں یا نہیں۔ پھر عمران کے فون کا تجزیہ باقی ثبوت بہم پہنچائے گا۔ اس طرز تحقیق سے اگر عمران بےگناہ ہے تو اس پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔

عمران کے فون کی حوالگی کا مطالبہ تعلیم یافتہ لوگ کر رہے ہیں۔ ایک اچھے لکھاری جنھیں ہم سب جانتے ہیں، عامر خاکوانی صاحب کی پوسٹ پرمجھے بھی قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اپنے اوپر الزام کی صفائی کے لیے عمران کو اپنا فون تحقیق کے لیے دے دینا چاہیے۔ میرا مؤقف یہی ہے کہ اس طرح تو کوئی بھی کھڑا ہوکر کسی پر الزام لگا کر فون کا مطالبہ کرے گا اور ذاتی نوعیت کی معلومات تک رسائی حاصل کر لے گا۔ کیا آپ یہ برداشت کریں گے؟ مثلاً میں یہ اعلان کردوں کہ فلاں وزیر نے مجھے دھمکی دی ہے تو پہلے وہ میسج تو مجھے دکھانا ہوگا۔ اس لیے عمران سے فون کا مطالبہ کم علمی ہے یا پھر بدنیتی۔ یعنی اچھے خاصے پڑھے لکھے صحافی اور سیاستدان یا تو جان بوجھ کر کسی مقصد کے تحت عمران کو نشانہ بنا رہے ہیں، یا پھر عقل استعمال ہی نہیں کر رہے، بس ایک بھیڑ چال میں لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   احتساب کا چورن - شکیل نواز

اس کا دلچسپ پہلو عمران مخالف چینل کے ایک مشہور صحافی کا سنسنی پھیلاتا بیان تھا کہ انہوں نے یہ میسج دیکھے۔ اب اس کا قصّہ بھی سنیں کہ بھرے سیٹ پر سب کے سامنے یہ کارروائی کی گئی تاکہ بہت سے لوگ گواہ بن جائیں۔ یہ ایک اور غالباً سوچا سمجھا عمل تھا کیونکہ کمال ہوشیاری سے صرف یہ کہا کہ میں نے میسج دیکھا، جس کا عام تاثر یہ بنا کہ الزام صحیح ہے۔ جب اس بات کا خوب شہرہ ہوگیا اور عمران کا امیج خراب کر دیا تو پھر ایک اینکر کے پوچھنے پر کہ کیا میسج بےہودہ تھے تو وہ بولے میں نے نہیں پڑھے، میں تو ڈیٹ دیکھ رہا تھا اور یہ کہ یہ عمران صاحب کے ہیں یا نہیں۔ بہت خوب، کچھ سمجھے آپ یا نہیں؟ اسی کو میں نے غیر ذمہ دارانہ فعل لکھا تو ایک لکھاری ان کی مدد کو آئے۔

اس بہتان تراشی اور عمران کی طرف سے جوابی الزام کو بھی کامن سینس سے دیکھیں۔ عمران نے الزام لگایا کہ ایک سیاسی لیڈر نے اس خاتون کو اکسا کر میرے خلاف سازش کی ہے، میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اب کوئی یہ مطالبہ نہیں کر رہا کہ اس لیڈر کے فون کا تجزیہ ہونا چاہیے تاکہ عمران کے الزام کی بھی تحقیق ہو جائے۔ یہاں پر صحافیوں اور اینکر حضرات کی سستی اور خاموشی معنی خیز ہے۔

اب صورتحال یہی بنتی ہے کہ خواہ کسی پلیٹ فارم پر ہو پہلے عمران کے الزام کی تحقیق ہونی چاہیے کیونکہ اس کی عزت پر حملہ ہوا ہے۔ لیڈر اور خاتون کے فون چیک کیے جائیں کہ ان میں رابطے ہوئے یا نہیں، کیونکہ لیڈر اور خاتون نے اس کی تردید کی ہے۔ اب اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ ان کے بیان کے برعکس ان میں رابطہ تھا تو پھر عمران کے بجائے ان دونوں کی گرفت ہونی چاہیے۔ لیکن اگر ان دونوں کا رابطہ ثابت نہیں ہوتا تو پھر خاتون کے فون میں سے عمران کے میسج نکال کر پہلے یہ تعیّن ہو کہ یہ واقعی بیہودہ ہیں، اس کے بعد سیلولر کمپنی سے یا فرانزک ٹیسٹ وغیرہ سے اس کی تصدیق کرکے فرد جرم لگائی جائے۔ اور اگر خاتون تحقیق میں تعاون سے انکار کرے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کے سیاسی مستقبل سے جڑے اہم معاملات - نعیم احمد

تو اس سارے عمل میں عمران پر تحقیق تو سب سے آخر میں ہوگی۔ اس سے پہلے تو خاتون اور لیڈر کے فون اور رابطوں کی تحقیق ہونا عین عقلی، منطقی اور قانونی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا اور محض سیاسی انتقام میں غلط روایت قائم کی گئی تو ہر دوسرے روز لیڈران کرام بلیک میل ہوتے رہیں گے۔ عقل مند کو اشارہ کافی۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • Where is IMRAN GUDDO DAUGHTER?

    ن کے اپنے تازہ کارکن بابر اعوان نے ہی پی پی پی سے اپنی وابستگی کے دور میں عمران خان کے سامنے بیٹھ کر ان کی بیٹی ٹیریان اور اس کی ماں سیتا وہائٹ سے تعلقات کے چند حقائق سامنے رکھ کر پریشان کیا تھا۔ آج وہ پی پی پی چھوڑ کر آپ کے وفادار کارکن بنے ہوئے ہیں۔ 15؍جون 1992ء کو پیدا ہونے والی ٹیریان جیڈ نامی بچی اب 25سال کی جوان خاتون ہے۔ ریاست کیلیفورنیا میں مقدمہ نمبر BF-009322 مدعی خاتون اینالوئسا وہائٹ (سیتا وہائٹ) بنام عمران خان کا عدالتی فیصلہ 13؍اگست 1997ء بھی ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں عمران خان کو کمسن بچی ٹیریان کا فطری باپ قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 1959ء میں پیدا ہونے والی سیتا وہائٹ جب کینسر کا شکار ہوکر 15؍مئی 2004ء کو موت کی آغوش میں جانے سے قبل عمران خان کو اپنی بیٹی ٹیریان جیڈ کو اپنی حوالگی میں لینے کے لئے پیغامات بھیج چکی تھی اور پھر آپ نے بھی مسلسل کئی سال کے انکار کے بعد بالآخر امریکہ آکر 13سالہ ٹیریان جیڈ کو اپنی حوالگی میں لینے کی کارروائی خاموشی سے مکمل کی اور اسے لے جاکر برطانیہ میں گریٹ خاتون اپنی مطلقہ بیوی جمائما خان کی نگرانی میں چھوڑ دیا اور خود کو صرف اپنے دو بیٹوں کا باپ ہی قرار دیتے رہے پرویز مشرف کی حکومت میں وزیر قانون ڈاکٹر شیر افگن نے امریکہ سے یہ تمام عدالتی ریکارڈ حاصل کرکے ریاست کیلیفورنیا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ اور پھر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے اس کی تصدیق کروانے کے بعد پاکستان کے سفارت خانہ واشنگٹن سے بھی تصدیق کروا کر ان دستاویزات کو پاکستان اور امریکہ میں حتمی قانونی اور جائز شکل دیتےہوئے عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تو حکمراں پرویز مشرف نے مداخلت کرکے معاملہ ٹھپ اور عمران خان کو مشرف حکومت کی مخالفت کرنے سے چپ کرادیا