ملکی سیاست اور عوامی شعور - سالک وٹو

پاکستانی عوام کی عمومی شعوری سطح شدت پسندی اور جذبات سے بھری ہوئی ہے، ہماری اکثریت کسی نہ کسی طرح شدت کی شخصیت پرست واقع ہوئی ہے.
مذہبی مباحثہ ہو یا سیاسی دنگل ہم نے بس اپنے اکابر اور اپنے لیڈر کا ہی دفاع کرنا ہوتا ہے، خواہ اس کے لیے ہمیں قرانی آیات کی من پسند تشریحات ہی کیوں نہ کرنی پڑیں.
جیسے ہر مذہبی فرقہ اپنے آپ کو سوادِ اعظم اور دوسرے کو گمراہ و بے دین ثابت کرنے کی ہر کوشش کرتا ہے، بالکل ایسے ہی ہر ووٹر اپنی سیاسی قیادت کو صادق و امین اور دوسرے کو کاذب و بد دیانت سمجھتا ہے.

موجودہ سیاسی صورت حال میں بھی ہر طرف اپنی پارٹی کے لیڈران کو دودھ کے دھلے اور مخالفین کو گنگا اشنان کرنے کا سیاسی دنگل جاری ہے.
جب ہم اپنے شعور پہ ذاتی وابستگی اور مفاد کی پٹی باندھ لیتے ہیں تو ہمیں اپنا لیڈر ملک دوست اور مخالف ملک دشمن ہی نظر آتا ہے.
ہر کوئی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نعرے بھی لگاتا ہے اور سرمایہ دار یا جاگیر دار کو رام رام بھی کرتا ہے.

ہمیں اس شعوری قید سے اوپر اٹھ کر حقائق کو سمجھنا ہوگا.
ایک سچا محب وطن شہری وہی ہے جو ہمیشہ پاکستان کی فلاح کو مقدم رکھتا ہے.

مکمل کوئی بھی نہیں. ہر کوئی عیب دار ہے. ہم سبھی مجموعی طور پہ ذہنی کرپٹ ہیں. ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق لوٹ رہا ہے.
اگر کوئی وزیر 50 کروڑ کی کرپشن کرتا ہے تو ایک ریڑھی والا بھی ریٹ اضافی لے کر خراب چیز دیتا ہے اور ناپ تول میں بھی ڈنڈی مارتا ہے.
بدنگاہی سے بچا ہوا وہی ہے جو آنکھوں سے محروم ہے۔ ہم شعوری پسماندگی کا شکار ہیں۔ ہم اپنے لیڈر کے دفاع کو اپنی انا کا مسلہ بنا لیتے ہیں اور یہ شعوری قید ایسی ہے کہ ہم بار بار اس کا انکار بھی کرتے ہیں اور اپنی شعوری آزادی کا اعلان بھی کرتے ہیں لیکن پھر بھی اپنی پارٹی کا ہر غلط قدم بھی ہمیں صراط مستقیم لگتا ہے اور مخالف پارٹی کا ملکی مفاد کا عمل بھی ہمیں غداری کا پیش خیمہ نظر آتا ہے.

ہمیں پارٹی دفاع یا لیڈر پرستی کی بجائے اپنے ملک کی سلامتی کو مقدم سمجھنا چاہیے۔ وقت کے تقاضوں اور حالات کی نزاکت کو سمجھنا چاہیے.
سچ اور حق اکثریت کا محتاج نہیں ۔ ہمیں اپنے خالق و مالک کی بارگاہ میں سرخرو ہونا ہے.
نفرتوں کے اس دور میں محبتوں کی شمع جلانا ہوگی۔ حد سے زیادہ سیاسی وابستگی بھی معاشرے میں نفرت کو فروغ دیتی ہے.

پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان ہی ہماری آزادی کا دوسرا نام ہے۔ جو پاکستان کے لیے مفید ہے وہی ہمارا لیڈر ہے اور ملکی مفاد پہ ذاتی مفاد کو ترجیح دے یا خود کو ہی عقل کل سمجھے اس سے بچنے میں ہی عافیت ہے.
ملکی مفاد کا کام اپنا کرے یا مخالف اس کی تائید لازمی کریں اور معاشرے میں بد اخلاقی و بد زبانی کا جو باعث بنے اسے لازمی تنبیہہ کرنی چاہیے.

یا اللہ ہمارے ملک کو ترقی و سلامتی عطا فرما۔ آمین
پاکستان زندہ باد

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com