فیصلہ محفوظ، کیا نوازشریف بھی؟ آصف محمود

فیصلہ محفوظ ہوگیا ہے اور ہر آدمی خود کو اس سوال کی گرفت میں پاتا ہے: صرف فیصلہ یا نواز شریف بھی؟

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں فیصلے دو طریقے سے ہوتے آئے ہیں۔
اول: قانون کے مطابق۔
دوم: نظریہ ضرورت کے تحت۔
قانون کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے تو شہنشاہ (یعنی میاں صاحب کا اقتدار) اور شہنشاہیت (یعنی میاں صاحب کے بچوں تک اقتدار کی منتقلی) دونوں خطرے میں ہیں۔ اور نظریہ ضرورت کے تحت معاملہ ہوتا ہے تو امکان ہے کہ شہنشاہ بچ جائے گا، شہنشاہیت ختم ہو جائے گی۔ میں اپنی تاریخ میں نظریہ ضرورت کے جبر کو یکسر نظر انداز تو نہیں کر سکتا لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ فیصلہ نظریہ ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ قانون کے مطابق آ ئے گا۔ سادہ لوحی کہہ لیجیے لیکن میں بہت پر امید ہوں۔

قانونی پوزیشن تو بہت واضح ہے۔ شہنشاہ بچتا نظر آ رہا ہے نہ شہنشاہیت۔ پانامہ کیس، ہمیں یاد ہے، جب پہلے مرحلے پر سپریم کورٹ کے سامنے آیا تو دو معزز ججوں نے کہا: میاں صاحب صادق اور امین نہیں رہے، تین ججز نے کہا: تھوڑی مزید تحقیق کر لیتے ہیں لیکن کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ میاں صاحب صادق اور امین ہیں۔ چنانچہ تحقیقات شروع ہو گئیں۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں جتنے بھی نئے شواہد سامنے آئے، وہ سب کے سب میاں نواز شریف کے خلاف آئے۔ میاں صاحب کے حق میں کوئی ایک ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔ تو فیصلہ ان کے حق میں کیسے آ سکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں جب وزیراعظم کے خلاف ثبوت کم تھے تو کوئی ایک جج بھی یہ نہ کہہ سکا کہ میاں ساحب صادق اور امین ہیں تو اب جب کہ ثبوتوں کی ٹرالیاں موجود ہیں، میاں صاحب صادق اور امین کیسے قرار دیے جا سکتے ہیں۔

جے آئی ٹی نے تو سب کچھ کھول کر بیچ چوراہے میں رکھ دیا۔ حکمرانوں کا نامہ اعمال بےنقاب ہو کر آج کوچہ بازار میں زیرِ بحث ہے۔ جےآئی ٹی نے حکمرانوں کی اصلیت یوں بےنقاب کر دی، تیز دھار چاقو سے جیسے کوئی پیاز کو چھل کر اس کے ساری تہیں عیاں کر دے۔ اقتدار کے جملہ وسائل اور قانونی ماہرین کے لشکر مل کر جے آئی ٹی رپورٹ پر ڈھنگ کا ایک اعتراض بھی نہ کر سکے اور ایک شکست خوردہ فریق کی طرح ان کا سارا زور حجتیں تراشنے میں اور آئیں بائیں شائیں کرنے میں صرف ہوتا رہا۔ دوسری جانب حکمرانوں کی جعل سازیاں بھری عدالت میں پکڑی جاتی رہیں۔ مشکوک خطوط سے لے کر جعلی ڈاکومنٹ تک کون سی واردات تھی جو انہوں نے نہیں ڈالی۔ یہاں تک کہ عدالت کو بھی برہمی اور حیرت کا اظہار کرنا پڑا کہ یہ لوگ کس دیددہ دلیری سے جعل سازی کر رہے ہیں۔ عدالت کو انہیں یاد دلانا پڑا کہ جعلسازی کی کیا سزا ہے۔ آپ نواز شریف کی اخلاقی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ راجہ ظفرالحق جیسے لوگوں نے میاں صاحب کے دفاع میں ایک لفظ نہیں کہا اور میاں صاحب کو اپنے دفاع میں کچن کیبینٹ کے دو تین لوگوں کے علاوہ طلال چودھری اور دانیال عزیز جیسے نابغوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ قانون پر کفایت کریں تو منظر بالکل واضح ہے: جی کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   الحمد للہ ایکسٹینشن کی ٹینشن ختم ہوئی - سید طلعت حسین

یہ صرف قانون ہے جو نواز شریف صاحب کے خلاف جا رہا ہے، زمینی حقیقتیں ان کے حق میں جا رہی ہیں۔ یوں گویا ہم دوراہے پر آن کھڑے ہیں۔ یہ فیصلے کی گھڑی ہے کہ قانون کی عملداری یا زمینی حقیقتوں کا راج؟ یہ حقیقتیں کیا ہیں؟ میں عرض کر دیتا ہوں۔ فرض کریں میاں نواز شریف نااہل ہو جاتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سلسلہ یہیں رک جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ مسلم لیگ نون ایک طوفان کھڑا کر دے گی کہ ہمارا احتساب تو ہو گیا، اب دوسروں کا بھی کرو۔ پھر بات عمران خان تک پہنچے گی، وہ بھی نااہل ہو جائیں گے، پھر زرداری اس کی زد میں آ ئیں گے۔ اگلے روز پی پی پی کے ایک سینیٹر ڈوبتے لہجے میں کہنے لگے: آصف بھائی یہ مائنس ون یا ٹو نہیں ہو گا، یہ مائنس دو تین سو ہونے جا رہا ہے۔ جب ان رہنماؤں کا اقتدار میں براہ راست سٹیک نہیں رہے گا تو یہ مل کر مطالبہ کریں گے کہ قانون کے نفاذ کے لیے صرف سیاست دان کیوں؟ تعزیر کا کوڑا صرف اہلِ سیاست کی کمر پر کیوں برسے؟ ججوں اور جرنیلوں کا احتساب کیوں نہ ہو؟ صحافیوں اور وکیلوں کا احتساب کیوں نہ ہو؟ جب تین بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے احتساب کا مطالبہ کریں گے جو ہر مقدس اور غیر مقدس بارگاہ پر دستک دے تو پھر کیا ہوگا؟ یہ وہ صبح روشن ہوگی جس میں ’مقدس گائے‘ کا تصور ختم ہو جائے گا۔ قانون سب پر نافذ ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ اس سسٹم کے بالادست اور مقتدر طبقات یا اس سسٹم سے فیض پانے والے طبقات یہ کڑوی گولی نگل پائیں گے؟ یہاں آ کر پھر یہ خوف جنم لیتا ہے کہ قانون کی حقیقی عملداری کے خوف سے ڈر کر یہ سب آپس میں مل جل کر ہنسی خوشی رہنے کا فیصلہ نہ کر لیں؟

یہ بھی پڑھیں:   ’بیان لینے کمیشن آئے اور طبیعت بھی دیکھ لے‘

ن لیگ کی جانب سے سازش کی تھیوری سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ چین، ترکی، سعودی عرب اور امریکہ بھی نواز شریف کے حامی نہیں تو اس درجے میں مخالف بھی نہیں کہ ان کے خلاف کسی سازش کا حصہ بنیں۔گویا عالمی اسٹیبلشمنت کا اگر کوئی کردار ہے تو وہ نواز شریف کے حق میں ہوگا۔ اس صورت میں ہو سکتا ہے شہنشاہ بچ جائے، شہنشاہیت ختم ہو جائے۔ یعنی نواز شریف کے بچے اقتدار کے امیدوار نہ رہیں، نا اہل ہو جائیں، موروثیت کا عمل رک جائے لیکن نوازشریف کا اقتدار قائم رہے۔ نواز شریف کمزور بھی ہو جائے اور نظام میں اس کا سٹیک بالکل ختم بھی نہ ہو کہ وہ حقیقی احتساب کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑا ہو۔ تاہم یہ ایک امکانی منظر نامہ ہے، جو مایوسی سے پھوٹتا ہے۔ہم خوابوں کے بیوپاری تو اپنی امید کی دوری سے بندھے ہوئے ہیں کہ بس اب قانون کی عملداری کے موسم اس دھرتی پر اترنے کو ہیں۔

اب فیصلہ جو بھی ہو، یہ طے ہے کہ صدیوں یاد رکھا جائے گا۔ قانون کی روشنی میں ہوا تو لکھا جائے گا، یہ وہ فیصلہ تھا، جو پاکستان پر قانون کی حکمرانی کا نقش اول بنا۔ زمینی حقیقتوں پر ہوا تو کہا جائے گا، یہ وہ موڑ تھا جب پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی امید کا ٹمٹماتا دیا بجھ گیا۔ فیصلہ محفوظ ہو چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا نوازشریف بھی؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.