دختران ڈسکہ ہم شرمندہ ہیں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دختران ڈسکہ! ہم شرمندہ ہیں.
تمہاری حرکت پر بھی اور تمہیں گھیر کر کھڑے معززین ڈسکہ کی حرکات پر بھی.
شاید تمہیں بھوک اس ڈگر پر لے آئی ہوگی.
شاید لالچ نے تمہارا دامن تھاما ہوگا.
لیکن معززین و مہذبین کو نامناسب اور غیر مہذب انداز اپنانے پر کس چیز نے مجبور کیا؟

کیا معزز ہونا بجائے خود محض ایک نقاب ہے جو مناسب موقع ملتے ہی اتار پھینکنے میں آپ دیر نہیں کرتے. جیسے پاؤں سے چھوٹے نمبر کی جوتی موقع ملتے ہی اتار دی جاتی ہے، یہ تہذیب کا چولا بھی اتار کر ہی سانس آتا ہے. ایسا کوئی بھی واقعہ کہیں بھی دیکھوں تو یوں محسوس کرتی ہوں ''کمہار پر بس نہ چلا،گدھے کے کان اینٹھے'' کے مصداق زورآور کا غصہ کمزور پر نکلتا ہے. شاید ماضی میں ہوئے حادثات، دھوکے، جبر اور برداشت کے کڑوے گھونٹوں کی کڑواہٹ کے ساتھ بجلی کے ہوشربا بلبلاتے بل اور جنریٹر میں ڈالے ڈیزل کا دھواں آنکھوں کے سامنے ایک وحشیانہ چادر تان دیتا ہے، جس کے پار ہاتھ باندھ کے بیٹھا دھوکے باز مظلوم وہ پنچنگ بیگ نظر آتا ہے جس پر پر کوئی اپنی فرسٹریشن نکال سکتا ہے. اور اس کی سفید پوشی پر کو چھینٹا بھی نہیں آتا.

ہمارے معاشرے میں بڑھتا عدم برداشت کا طوفان دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس معاشرے میں مثبت تفریح کے مواقع معدوم ہو رہے ہیں. تمام دن معاش کی چکی میں پستا انسان گھر پہنچنے پر بجلی کی عدم دستیابی کا شکار ہوتا ہے. جب اسے دال ساگ کے ساتھ روٹی تو مل جاتی ہے، لیکن دل کو لبھانے والے رنگارنگ فروٹ جن کو دل چاہنے کے باوجود وہ خرید نہیں پاتا. ہر گھر میں موجود ایک دو بیمار لیکن عزیز ہستیوں کی دوا کو ہی پورا کر لے تو کافی ہے، ایسی تلخیوں میں جب کریڈٹ پر دکان میں رکھا مال کوئی چراتا ہوا پکڑا جائے تو اپنی ذات کی ہر تلخی کا لاوا اسی دھوکے باز پر نکل جاتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   زیادتی اور ہمارا بےحس معاشرہ - شیبا خان

فی زمانہ خواہشیں اور ضروریات دونوں ہی نامکمل ہیں اور اسی کشمکش میں اچھے بھلے لوگ نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں. مذکورہ ویڈیو یا اس جیسے دوسرے واقعات میں جب بھی آپ ہجوم کی سائیکی پر غور کرتے ہیں تو ابتدائی غصے کے بعد لطف اندوز ہونے کا عنصر نظر آتا ہے جیسے بلی اور چوہے کا کھیل. دھوکہ دہی پر غصہ آنا غلط نہیں، اس سے لطف کشید کرنا آپ کی نفسیات کی صحت پر سوال اٹھاتا ہے.

میرا سوال یہ ہے کہ کیا انسان بنیادی جبلت میں وحشی ہے؟ جسے ارتقا نے کسی بھی جانور کی طرح سدھا کر تہذیب کے پنجرے میں قید کر رکھا ہے؟ کیا بحیثیت مجموعی ہم سب ایذا پسند قوم بن چکے ہیں؟

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.