مغرب ہمارے رشتوں کو بھی کھا رہا ہے - نوفل ربانی

صاحب مادیت پرستی مغرب کے انسانی حسن کو کھاگئی ہے، وہاں سڑکوں پارکوں ہوٹلوں عمارتوں کو حسین کردیا گیا، لیکن انسانوں کو ننگا کرکے جذبات سے عاری کرکے رشتوں کا تقدس پامال کرکے نیوڈ سوسائٹی قائم کرکے انسانوں کو حیوان کر دیا۔

وہاں شرم، لحاظ، مروت، ادب، ایثار، قربانی، طہارت، پاکیزگی، پاکیزہ تمدن، خوبصورت انسانی رویوں کا بری طرح سے تیا پانچا کیاگیا ہے۔
وہاں کا نوجوان "غض بصر" کی چاشنی سے محروم ہے۔ وہاں کی عورت احترام جنس سے خالی ہے۔ وہاں کا بچہ پیہم رشتوں کی محبت سے ناآشنا ہے۔ وہاں کا بوڑھا توقیر عزت کی نعمت سے نابلد ہے۔
وہاں کا انسان مشین ہے، ماں بھی کمائے باپ بھی کمائے، بیٹا بھی کمائے بیٹی بھی کمائے۔
بس کمائے کمائے کمائے اور سرمایہ دار کی ہوس ارتکاز کی بھینٹ چڑھتا رہے۔
انسانی قدروں سے عاری گوشت پوست کی مشینیں ہیں۔

مغرب ہمارے وسائل ہڑپ گیا ہے، مغرب ہمارا نظام لپیٹ گیا ہے، مغرب ہمیں ایڈز کینسر ہیپاٹائٹس تھما گیا ہے، ہمارے ندی نالے جھرنوں کو منرل واٹر بزنس کی خاطر آلودہ کرگیا ہے، صنعتی چمنیوں سے سانس کی ہوا کو بھی گندا کرگیا ہے.
کتنا گندا ہے مغرب، ہر چیز ہی گندی کر دی.

لے دے کہ ہمارے پاس رشتوں کا حسن باقی ہے، اقارب کی زنجیر ہمارے پاس ہے، جس کی کڑیاں بہت ہی مضبوط ہیں، خاندان کا سسٹم بڑا ہی مربوط ہے، جس سے جڑا انسان کتنا محفوظ ہے، عزیزوں کی خوشیوں غمیوں کی ساجھے داری خوشی کو کتنا دوبالا کرتی ہے اور غم کو کتنا بانٹ بانٹ کر ختم کر دیتی ہے۔

چچازاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، خالہ زاد، تایا زاد کتنے ہی بازو آپ کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں. ممانی، پھوپھی، خالہ، چچی، تائی، نانی، دادی، کتنے ہی پہرے ہوتے ہیں بچے کی تربیت پر، دیورانی جیٹھانی ساس کتنے ہی تجربے ملتے ہیں نئی دلہن کو آغاز زندگانی میں.

بچے کو ماموں، تایا، چاچا، دادا، نانا، خالو، پھوپھڑ کا مکس متنجن قسم کی محبتیں ملتی ہیں. گھروں میں دادا دادی، نانا نانی کی زمانہ شناس نگاہوں کا کتنا کڑا پہرا ہوتا ہے کہ گھروں کی سلامتی اسی کے مرہون منت ہوتی ہے۔

مغرب ان سب سے عاری ہے، اس لیے وہ رشتوں کے دن مناتا ہے!
ہم سب کو رکھتے ہیں اس لیے ہمیں دن نہیں، عمر بھر ان کا دن منانا ہے اور مناتے رہنا ہے.

مدر ڈے وہ منائے جس کے ہاں روز مدر ڈے نہ ہو!
ہمارے پاس تو روز شام کو مدرنائٹ ہوتی ہے، جب ایک آہٹ پر ہی ماں بہو کو للکارتی ہے، دروازہ کھولو، میرا بیٹا تھکا ہارا آیا ہے، صبح جس کو روز ماں کے ہاتھ کو سر پر پھروانا ہو۔
وہ کیسے ان چونچلوں میں پڑے ؟

وہ کیوں فادر ڈے منائے جس نے ہر کام سے پہلے ابا جی سے مشورہ کرنا ہے، ہر نماز میں اباجی کے ستھ مسجد میں جانا ہے، کوئی کاروبار، کوئی رشتہ، کوئی خریداری، کوئی تعمیر اباجی کے صلاح کے بغیر نہیں کرنا۔
وہ فادرڈے کیوں منائے؟

وہ کیوں خواتین کا دن انجوائے کرے سال میں ایک دفعہ جس نے روز کام سے واپسی پر مسکراتی لہلہاتی بیوی کو دروازہ کھلتے ہی دیکھنا ہے۔ بیگ پکڑتی بیوی اسے کیوں صرف ایک دن ہی یاد آئے گی؟ گرما گرم کھانے کی اچھلتی دل فریب خندہ پیشانی اور زیرلب اگلی رات کا دو ہونٹوں کو دبانے ہی میں سارا پلان افسانہ بیان کرنے والی بیگم جان کی موجودگی میں کہاں ٹائم ہے کہ ایک دن چاکلیٹ خرید کر عورتوں کا عالمی دن منائے۔ اس کی تو ہر رات شب برات ہر دن دن عید ہے !!!

وہ کیوں ٹیچر ڈے منائے؟
جو استاد کے آنے پر کھڑا ہو جائے۔ جو استاد کی مار کو کھاد سمجھے۔ جو دور گلی میں بھی استاد کو دیکھ کر سگریٹ احتراما چھپا لے کہ استاد آرہے ہیں۔
کیوں منائے وہ ٹیچر ڈے جو ٹیچر کو باپ کا مان سمان دے۔

میرے کلچر کا حسن تو یہ ہے کہ میرے سب سے زیادہ سخت اور مالدار وجیہ ماموں مجھے دیکھ کر سگریٹ پھینک دیتے ہیں. چھوٹوں نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یار ہے تو بھانجا، اولاد کی جگہ ہے۔ پر ہے مولوی اور سنت رسول رکھی ہوئی ہے، اس لیے اس کو دیکھ کر سگریٹ نہیں سلگاتا.

نٹ کھٹ بہنوں کی بلائیں لینے والا، تقدس کی مورتیوں کے سر پر شفقت برادرانہ نچھاور کرنے والا، کیوں سسٹر ڈے منائے؟
یہ میرے کلچر میں ہمہ گیر ہے، کل وقتی ہے۔
مغربی تہذیب میں جز وقتی اور سالانہ ہے، میرے دین میں روزانہ ہے۔

مدر ڈے، فادرڈے، سسٹر ڈے، ٹیچر ڈے، یہ سب ان کے ہیں جن کو یہ نعمتیں ایک دن یاد آتی ہیں، میرے تو یہ روز کے دن ہیں۔ اور روز ہی یہ رشتوں کو مٹھاس محسوس کرتا ہوں۔
خیر صاحب یہ نظم جابر غاصب میرے آپ کے رشتوں کو کھانے کو آ رہا، ہوش کریں، اپنے پیاروں سے جڑیں، سالانہ ڈے نہیں، روزانہ ڈے منائیں.

تکلفات میں کیوں پڑتے ہیں؟
شریعت کے مطابق سب کے ساتھ برتاؤ رکھیں، سارے خوش رہیں گے، سب کے ساتھ تعلق استوار ہوگا، خاندان مضبوط ہوگا، روزانہ ہی مدر، سسٹر، ٹیچر، فادر، برادر، وومین ڈے مناتے چلے جائیں، دنیا بھی بنے گی آخرت بھی سنورے گی.
غم آئے گا تو سب بانٹ لیں گے، خوشی آئے گی تو سب مل کر منالیں گے، خوشی بڑھ جائے گی.

اس گندی تہذیب کو اپنے رشتوں میں، خاندانوں میں، رویوں میں، قدروں میں جگہ نہ دیں. محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کو پکڑ لیں، رشتے ناطے سب محفوظ ہوجائیں گے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com