کامیاب تعلقات، کامیاب زندگی - روبینہ شاہین

کامیاب زندگی کا دارومدار کامیاب تعلقات میں پوشیدہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر آپ بالکل کنگال ہو جائیں آپ کا بینک بیلنس زیرو ہو جائے مگر آپ کے ساتھ مخلص لوگوں کا ساتھ موجود ہے تو آپ ناکام نہیں ہو سکتے۔

کامیاب تعلقات کے پیچھے 70 فیصد کمیونی کیشن سکل کام کر رہی ہوتی ہے۔ کامیاب تعلقات ایک فن ہے جسے تھوڑی سی ذہانت اور محنت سے سیکھا جا سکتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق کامیابی کے پیچھے 85 فیصد ہاتھ کامیاب تعلقات کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ذیل میں کچھ ٹپس ہیں جن کو اپنانے سے کامیاب تعلقات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسروں کی بات غور سے سنی جائے

آداب گفتگو کا پہلا اصول ہے کہ دوسروں کی بات کو غور سے سنا جائے۔ فی زمانہ ہر کوئی اپنی سنانا چاہتا ہے۔ کوئی دوسرے کی بات سننا پسند نہیں کرتا۔ سائیکالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ بات سنتے وقت سنانے والے کے چہرے کی طرف دیکھیں۔ بات سننے کے دوران تھوڑی تھوڑی دیر بعد گردن کو اوپر نیچے ہلائیں۔ اپنے چہرے پر نرم بھری مسکراہٹ رکھیں۔ اگر سنانے والا خاموش ہو جائے تو اس کے بارے میں مزید سوالات کریں اور جواب غور سے سنیں۔ اگر ہو سکے تو سنانے والے کے آخری بات کو دہرائیں۔ اس سے سننے والے کی مزید تسلی ہو گی۔ اگر سنانے والا مشورہ مانگے تو اسے سوچ سمجھ کر بہترین مشورہ دیں۔ اگر وہ غصے اور جذبات میں ہے تو ایک دو دن بعد مشورہ دیں۔ اگر کوئی بات ایسی ہے جس کا چھپانا مقصود ہو تو اسے چھپایا جائے۔ یہ آپ کا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے۔ اس سے لوگوں کا آپ پر اعتماد بڑھے گا اور لوگ آپ کی قدر کریں گے۔ لوگوں کی زندگی میں محبتیں زیادہ اور نفرتیں کم ہوں گی۔ فی زمانہ طلاق کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے بہت بڑا ہاتھ راز افشا کرنا، چغلی اور غیبت ہے۔ جنہوں نے ہمارا سکون غارت کر دیا ہے۔

سفید اور سیاہ سوچ سے اجتناب

سایکالوجسٹ کہتے ہیں کہ سفید اور سیاہ سوچ سے بچا جائے۔ سفید سوچ یہ کہ جو چیز ہمیں پسند آجائے اس سے اچھی تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور سیاہ یہ کہ جو لوگ ہمیں برے لگتے وہ دنیا کے بدترین لوگ ہیں۔ یہ دو انتہائیں ہیں۔ ان سے بچنا لازمی ہے۔ انسان خوبیوں اور خامیوں کا مرکب ہے۔ ان میں عیب بھی ہوتے ہیں اور اچھائیاں بھی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص مکمل طور پر برا ہو اور مکمل طور پر اچھا ہو۔ ہمیں اس بات کو مدنظر رکھ کر لوگوں سے تعلقات استوار کرنا چاہیے۔ جب ہم ایسا کریں گے تو پھر ہمارے تعلقات خراب کم ہوں گے اور مضبوط زیادہ۔ کسی نے بہت اچھی بات کہی ہے کہ جب کسی سے دوستی کریں تو ایک قبر بنائیں جس میں اس شخص کی خامیاں دفن کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سوچنا منع ہے - اے وسیم خٹک

سوشل انٹیلی جینس کے ماہرین کہتے ہیں کہ لوگوں کو سمجھ کر ان سے ڈیل کریں۔ ان کی پسند نا پسند جانیں۔ یہ نہیں کہ اگلا بندہ بس ہمیں سمجھے، ہمیں جانے، ہماری سوچ کے مطابق چلے۔ دوستی کا رشتہ یکطرفہ نہیں ہوتا اگر یہ یکطرفہ نہیں ہے تو پھر یکطرفہ مطالبات بھی نہیں ہونے چاہیے۔

میٹھے بول میں جادو ہے

میٹھے بول میں جادو ہے ایک محاورہ بن چکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں طنز، بیہودہ مذاق، چھیڑ چھاڑ اتنے رواج پا چکے ہیں کہ عورتیں تو عورتیں مرد بھی پیچھے نہیں رہے۔ خصوصاً اپنے قریبی رشتوں میں زبان کا استعمال کرتے وقت بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اگر کوئی بات اچھی لگے تو تعریف ضرور کریں لیکن خوشامد نہیں تعریف۔ تعریف کا مقصد اگلے بندے کی حوصلہ افزائی ہو نا کہ مکھن لگانا۔ تعریف سے اگلے بندے کے مزاج پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے جس سے تنقید کرنے والے شخص کی تنقید کم اور غصہ کرنے والے شخص کا غصہ کم ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جس شخص کی تعریف کر رہے ہیں اس کا اعتماد بھی بڑھے گا جو کہ کامیاب تعلقات کا باعث بنتا ہے۔ ڈاکٹر غزالہ موسیٰ اسی تکنیک پر بہت زور دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ تنقید کی عادت کو چھوڑ کر تنقید کی عادت کو اپنائیے اس سے آپ کا گھریلو ماحول اور کاروبار دونوں ترقی کریں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے مشورے پر ایک کمپنی نے اپنے آٹھ سوملازمین کی وضاحت کے ساتھ تعریف کرنا شروع کر دی۔ چند ماہ میں سارے ملازمین کی کارکردگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اس سلسلے میں ضروری بات کہ اچھے کام کی تعریف کریں، برے کی نہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کی برائی کے جواب میں اس کی تعریف ایک مشکل کام ہے۔ اس کے لیے دماغ کی پروگرامنگ کے زریعےغصہ کو کنٹرول کرنے کی تکنیک سیکھئے۔ ڈاکٹر غزالہ کے مطابق جب مجھے کسی کی بات ناگوار لگتی ہے۔ تو میں اس کی دو تین نیکیوں کو تصور میں لاتی ہوں۔ پھر ان نیکیوں کو دس گناہ بڑھا دیتی ہوں۔ اور تصور کرتی ہوں کہ نیکیوں کا پہاڑ میرے سامنے کھڑا ہے۔ اور پھر تصور کرتی ہوں کہ اس کی برائی نیکی کے پہاڑ کے کونے پر پڑٰ ہے۔ پھر میں اپنے آپ سے کہتی ہوں۔ مٹٰی ڈالو اور معاف کردو۔۔۔ میرا اسی فیصد غصہ اسی وقت دور ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دماغ کی پراگرامنگ سے میری زندگی بہت خوبصورت ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم اور ہمارے بدلتے رویّے - محمد جمیل اختر

حکمیہ انداز کی بجائے مشورہ طلب کیجیے

دوسروں کو زور زبردستی اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا۔ ہاں کچھ چیزوں میں تبدیلی کر کے ہمیں ان سے خاطر خواہ کام لے سکتے ہیں۔ میرے ایک ٹیچر بتاتے ہیں کہ میں نے اپنی کئی طالبات کو شادی شدہ زندگی میں کامیابی کا ایک گر بتایا، جس سے خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی۔ وہ گر یہ تھا کہ جب کوئی کام کرنا ہو تو یہ کہیں کہ اگر آپ کو مناسب لگے تو یہ کر لوں۔ اس سے اگلے بندے کو لگتا ہے کہ میری اتھارٹی کو تسلیم کیا گیا ہے، خصوصاً شوہر حضرات۔ اس طرح کے سوالات کیجیے، کیا آپ پڑھائی کے ساتھ ساتھ کوئی ہنر سیکھ سکتے ہیں؟کیا آپ بہترین کامیابی کے لیے نماز کی پابندی کر سکتے ہیں؟کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو سیلف گرومنگ کی ضرورت ہے؟

برداشت کا کلچر اپنائیے

عدم برداشت کے اس دور میں "برداشت کا کلچر پیدا کیجیے۔" اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی اندر قوت برداشت کو بڑھایا جائے۔ ڈاکٹر علی ساجد کہتے ہیں کہ برداشت کے کلچر کو سالانہ کے حساب سے بڑھایئے اور مانیٹر کیجیے۔ اس کی شدید ضرورت ہے۔ عدم برداشت کے لیے ضروری ہے کہ فوری ری ایکٹ سے پرہیز کریں۔ اگر کسی شخص پر بہت غصہ آ رہا ہو تو خود سے کہیں کہ اس سے کل نبٹوں گا اور کل تک غصہ خودبخود اتر جائے گا۔

قوت برداشت کی کمی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہماری خوراک اور ماحول ان میں سے اہم ترین ہیں۔ خوراک کی کمی سے لوگ اعصابی بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ لہذا اپنی خوراک پر توجہ دیجیے۔ سال میں تین ماہ لگاتار بادام کھانا اپنا معمول بنا لیں۔ فاسٹ فوڈ کی بجائے پھلوں کا استعمال کیجیے۔ انٹرنیٹ، موبائل اور ٹی وی کی بجائے واک اور ورزش کیجیے۔ بلیک چائے اور کافی کی بجائے گرین ٹی کا ستعمال کیجیے۔ ریشے دار غذاؤں اور پانی کا استعمال کثرت سے کریں۔ عبادات کی پابندی کیجیے۔ اللہ سے تعلق آپ کو مضبوط بنائے گا اور آپ کو دوسرے لوگوں کو معاف کرنا آسان ہو جائے گا۔ واصف علی واصف ؒ کے بقول معاف کرنا اور بھی آسان ہو جاتا ہے جب آپ کسی کی محبت میں کسی کو معاف کریں۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کو معافی پسند ہے۔ ان کی محبت میں معاف کرنا سیکھیئے۔ معافی اور شکر وہ خزینے ہیں جو ہماری روحانی اور جسمانی قوتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

تحائف دیجیے

تحفہ دینا سنت نبویﷺ ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے جس کا مفہوم ہے کہ تحفہ دینے سے محبت بڑھتی ہے۔ اور تعلقات کامیاب ہوتے ہیں۔

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں