جے آئی ٹی کا خوف اور آئندہ الیکشن - مجیب الحق حقی

میرا ایک دوست ہمیشہ کہتا ہے کہ صرف ایک ایماندار انسان جو صاحب اختیار ہو، ایک ادارے کو ٹھیک کر سکتا ہے، اور اسی طرح کوئی ایک ہی انسان پورے ملکی نظام کو صحیح کر سکتا ہے۔ بس بات ہے مقام ِاختیار پر متمکّن شخص کے خلوص، ایمانداری، ہمّت، دور اندیشی اور فرض شناسی کی۔ ملک کی موجودہ صورتحال میں اس بات کے سچّا ہونے کی جھلک نظر آئی۔

ہمارے یہاں کی سیاست ہی سب سے زیادہ بدعنوان ہے۔ لوگ سیاست میں حصّہ لیتے ہی پیسہ بنانے کے لیے لیکن کہا بہر حال یہی جاتا ہے کہ عوام کی خدمت مقصود ہے۔ اس بات میں کتنی سچّائی ہے یہ اب سب پر عیاں ہے۔ لیکن سیاست سے مفر بھی نہیں کہ ضرورت ہے۔ بدعنوان لالچی اور پیسے کی ہوس میں مبتلاعناصر کے اقتدار میں رہنے سے ہی معاشرے کے تمام طبقات میں رفتہ رفتہ کرپشن کا زہر پھیلا۔ بد عنوانوں نے کمال ہوشیاری سے تمام محکموں میں اپنے وفادار بھرتی کیے اور ان اداروں میں صاحب اختیار بھی اپنے من مانے افراد مقرر کیے، اس طرح میرٹ کا قتل ہوا اور نااہل مشکور ہو کر جی حضوریہ بنا۔ جن لوگوں پر نوکری کا احسان کیا گیا، وہ ہر دور حکومت میں کسی نہ کسی عہدے پر خدمت کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ اس انتظامی کارروائی کے بعد تمام حساّس انتظامی کلیدی عہدے سیاسی پارٹیوں کی جیب میں آگئے اور بیشترحکمران دیمک بن کر ملک کے جسد میں پیوست ہوئے۔ پھر منظم پیمانے پر لوٹ کھسوٹ شروع ہوئی تو نتیجے میں چیختی چلّاتی عوام کو قانون کی کارروائی کے نام پر بیوقوف بنایا جاتا رہا۔ آنکھوں دیکھے جرم کے گواہ ملنے مشکل ہوئے، سرکاری ادارے نابینا ہوئے تو وکیل کے دلائل کند ہوئے، نتیجتاًقانونی کارروائی مذاق بن کر رہ گئی۔ جرم کرنے والے قانون سے زیادہ چالاک ہوگئے۔ کسی جرم کو ثابت کرنا ناممکن ہوگیا، کیونکہ اب بہت ساری شاخوں پر اُلّو بیٹھا ہے۔ دوسری طرف وائٹ کالر کرپشن اور رشوت کو سرکار کے اندر بیٹھے مددگار ملے تو سرمایہ باہر منتقل ہوتا رہا، ملک قرض کی دلدل میں دھنستا گیا باہر اکاؤنٹ وزنی ہوتے رہے۔ افسوس کہ ملک اور قوم کا درد سیاست کے سینے میں مدفون ہوا۔ لیکن جب پانی سر سے گزرتا ہے تو قدرت کا نظام بھی حرکت میں آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خورشید ندیم کا عدالت سے عصبیت تک کا منطقی سفر - عماد بزدار

یہاں کسی ایک پارٹی کی نہ حمایت مقصود ہے نہ ہی مخالفت، بس بدلتے حالات میں ہمارے گھمبیر مسائل کے حل کے امکانات اور روشن صبح کے طلوع ہونے کی امّید کی جھلک کا اظہار۔ موجودہ حالات کے زیر و بم کا ذمّہ دار بظاہر ایک شخص اور ایک ادارہ ہی ہے۔ چیف جسٹس نے ٹھانا کہ اب انصاف ہوتا دکھانا بھی ہے تو انہوں نے اپنے اطراف سے چند افراد کو چنا کہ یہ دیانت سے کام کریں گے۔ ان اصحاب نے ویسا ہی کیا، پھر مزید چھان بین چاہی گئی تو عدالت کے اعتماد کے اچھی شہرت کے افراد کا انتخاب کیا گیا اور ان کو تحفظ دیا جو توقعات پر پورا اُترے اور ایک مفصل انکوائری سامنے آئی۔ اب یہ ایک قانونی دستاویز ہے جس پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ کوئی جیتے گا کوئی ہارے گا، لیکن ایک بات سامنے آئی کہ جے آئی ٹی تو پہلے بھی بنتی رہیں اور کسی حکومت نے اس پر اعتراض نہیں کیا، لیکن اس بار کیا بات ہوئی کہ بہت سے لوگ چراغ پا ہوئے۔ یہ منظم بدعنوانی، سفارش، حق تلفی، رشوت کے پراسرار نظام کی ناکامی ہے جو ہر مثبت پیش رفت کو تباہ کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہے۔ گویا صرف ایک شخص کی باہمّت اور مثبت پیش قدمی نے حالات کا رخ بدل دیا۔ جے آئی ٹی کی اصطلاح بدعنوانوں کے لیے خوف کی نشانی بن گئی۔ موجودہ حالات کی پیش رفت کا ممکنہ نتیجہ خواہ کچھ ہو لیکن یہ آئندہ کے لیے امید کی کرن ہے۔

یہ عیاں حقیقت ہے کہ صرف قانون کا کوڑا ہی ہر بپھرے گھوڑے کو راہ راست پر لاسکتا ہے۔ ہمارے ہاں قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کرانے والے مصلحت کا شکار۔ حالات کی حالیہ پیش رفت سے اس وقت تمام بدعنوان عناصر کی آنکھیں کھل گئی ہیں کہ اب آئندہ کیا ہو سکتا ہے۔ اگر مخلص مقتدر حلقے اس وقت ملکی نظام کے اس دہکتےگرما گرم ٹیڑھے میڑھے لوہے پر چوٹ مار کر اسے سیدھا کر دیں تو بہت سی بڑی بد عنوانیوں سے ایک حد تک عوام کی نجات ہوجائے گی۔ اس وقت الیکشن کمیشن اس بات کا اعلان کر دے کہ آئندہ الیکشن میں حصّہ لینے والے اور خاص طور پر الیکشن جیتنے والے امیدواران اور ان کے پارٹی لیڈروں کے اثاثہ جات اور آمدنی کی کڑی جانچ پڑتال جے آئی ٹی کے ذریعے ہوگی جس میں آئی ایس آئی، ایم آئی بھی شامل ہوگی اور جو ایسے ہی اختیارات کی حامل ہوگی جیسا کہ پانامہ لیکس کے سلسلے میں بنی۔ یہ بھی اعلان ہو کہ اس کارروائی میں غلط بیانی ثابت ہونے پر تمام جائیداد نہ صرف ضبط ہوگی بلکہ مجرم کو کڑی سزا دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   پانامہ کیس کے بعد، اب کیا ہوگا؟ احسن سرفراز

موجودہ حالات میں ایسا اعلان ہی آئندہ الیکشن میں بدعنوانوں کا صفایا کر دے گا کیونکہ کالے دھن والا خطرات سے دور ہی رہنا پسند کرتا ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن ہی فی الوقت ایسا کام کر سکتے ہیں جو کوئی سیاسی پارٹی کبھی نہیں کرے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان دوسرے اہم اداروں کی مشاورت سے آئندہ الیکشن کے سلسلے میں کوئی سوموٹو لے کر عوام کو صاف ستھری حکومت دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے کی قانونی رکاوٹیں بھی یہ ادارے مل کر ہی دور کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنا اب وقت کی ضرورت بھی ہے کیونکہ کسی ایک یا دو سیاسی حلقوں پر پڑنے والی ضرب شفّافیت کے بجائے جانبداری کا منفی تاثر دے گی۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے ایسے ہی اقدامات کا دائرہ وسیع کرکے عوامی تائید حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے ماضی کے مقدمات اور الزامات بھی خواہ کسی سیاسی پارٹی یا لیڈرکے خلاف ہوں، ان کی بھی ایسی ہی تفتیش دوبارہ شروع کی جائے تاکہ کوئی فریق دوسرے کی نااہلی کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھا پائے۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں