ایمان اور الحاد کی لاحاصل بحث - محمد رضوان

عموماً مذہب کو کسی عقیدے پر ایمان سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ہر انسان چاہے وہ کسی عقیدے کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو ہمیشہ کسی مذہب پر کاربند ہوتا ہے۔ شروع میں خواہ یہ بات کچھ عجیب سی لگے لیکن غور کرنے پر بالکل قابلِ فہم ہے۔ مذہب کے معنیٰ "راستہ" ہے۔ جو لوگ کسی الہامی ہدایت پر یقین نہیں رکھتے ان کو لادین یا بے مذہب کہنا درست نہیں کیونکہ وہ جن افکار و نظریات کے قائل ہوتے ہیں، در حقیقت وہی ان کا مذہب ہوتا ہے۔ الہامی مذہب کی طے شدہ تعلیمات کے بر عکس انسانوں کے مابین سوچ کے تنوع اور وسعت کے باعث انہیں طے شدہ خانوں میں بانٹنا چونکہ ممکن نہیں اس لیے انہیں ملحد یا لا دین قرار دے کر ایک ہی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا ہے۔

اس تناظر میں تمام انسانوں کو باآسانی عقیدے اور الحاد کے خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ ایمان اور الحاد دونوں کی بنیاد عقل اور تحقیق پر ہے۔ حقیقت یہ ہے اور اس کا ہم اپنی عمومی زندگی میں مشاہدہ بھی کرتے ہیں کہ زندگی کے اکثریتی معاملات جن پر انسان بلا تعمل یقین رکھتے ہیں ان کی بنیاد قطعاً تحقیق یا غور وفکر سے حاصل کردہ منطقی نتائج پر نہیں ہوتی بلکہ ایک عمومی بھروسے کی بنیاد پر ہوتی ہے جو کہ غیر ارادی اور بالکل فطری طور پر پیدا ہوتا ہے۔ ایک عام شخص جو قطب شمالی یا جنوبی کے بارے میں تھوڑا بہت سن یا پڑھ چکا ہے مگر وہاں پر کبھی گیا نہیں، ان کے وجود کے بارے میں شک میں مبتلا نہیں ہوتا۔ جراثیم اور دیگر خوردبینی اجسام کے بارے میں جو معلومات اس تک پہنچتی ہیں وہ براہِ راست ذاتی تحقیق کی ضرورت محسوس کیے بغیر ان پر اعتماد رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایمان کا تھرڈ کلاس درجہ - اسری غوری

یہاں یہ امر قابلِ غور ہے کہ اعتماد بعد از تحقیق ہو یا بلا تحقیق، یہ خالصتاً ایک غیر ارادی عمل ہے۔ خارجی دباؤ تو درکنار، انسان خود پر دباؤ ڈال کر اور زور زبردستی یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا ورنہ وہ نفسیاتی مسئلہ جنم لے لیتا ہے جہاں انسان اپنے کسی یقین یا کسی بے یقینی کو پوشیدہ رکھنے کے لیے کسی موقف پر بضد قائم ہو جاتا ہے۔

اب ان ایک آدھ مثال جیسی بے شمار دیگر مثالوں کا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ انسان بسا اوقات بلا تحقیق بھی یقین پر آمادہ ہو جاتا ہے اور کبھی بعد از بسیار تحقیق بدستور شک و شبہ میں مبتلا رہتا ہے؟

دراصل انسان اپنی بنیاد میں ایک عقلی نہیں بلکہ ایک احساساتی وجود ہے۔ سوچنے سے بھی قبل انسان کا اولین امر محسوس کرنا ہے۔ یعنی انسانی عقل سوچتی ہے مگر کیا سوچتی ہے اس کا فیصلہ انسان کے احساسات کرتے ہیں۔ انسان بنیادی طور پر جو محسوس کرتا ہے اسی کو سمجھنا چاہتا ہے اور یوں انسانی سوچ جنم لیتی ہے۔ لہذا عقل کا کل فریضہ انسان کا اطمینان ہے اور اطمینان محسوساتی عمل ہے۔

ہمارے ایک دوست شاہد آفریدی کے بہت دیرینہ پرستار ہیں اور ایک دوسرے دوست اتنے ہی بڑے ناقد۔ اتفاق کی بات ہے کہ دونوں ہی بڑے مدلّل انداز سے اپنے اپنے موقف کی وکالت کرتے ہیں۔ عقلی و منطقی معیارات پر دونوں کے دلائل انتہائی جاندار اور باوزن بھی ہوتے ہیں مگر ایک تعریف میں رطب اللسان ہے اور دوسرا تنقید و تنقید پر کمر بستہ۔ اس تضاد کی وجہ عقلی دلائل نہیں بلکہ دونوں کے محسوسات میں فرق ہے جو انہیں ایک دوسرے سے مخالف استدلال تلاش کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

خدا پر یقین ایک باطنی احساس کا نتیجہ ہوتا ہے اور خدا پر ایمان لانے والوں کو حقیقت میں کسی تحقیق کی سرے سے ضرورت نہیں ہوتی، یہ ساری مشقت وہ اصل میں اپنے یقین کا دوسروں کے سامنے جواز ثابت کرنے کے لیے کرتےہیں۔ اسی طرح بہت سے انسانوں کا باطنی احساس ہی کسی الہامی یقین پر مزاحم ہوتا ہے اور وہ اپنے اسی احساس کو جواز بخشنے کے لیے عقل و فکر کے مینار کھڑے کر تے رہتے ہیں۔ الغرض یہ معاملات دلوں کے ہیں، عقل کے نہیں، مگر بنا دیے گئے ہیں ایک ہمیشہ کے لےناتمام بحث لاحاصل کے لیے جبکہ ساری مشق دلوں کو جیتنے کی ہونی چاہیے۔ بحث کرنی ہو تو مرغی اور انڈے کی قدرے بہتر اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے۔