وزیراعظم استعفٰی کیوں دیں؟ احسان کوہاٹی

مولانا فضل الرحمان پاکستانی سیاست کے ’’سرسید‘‘ ہیں، آپ ان پر تبرا بھیجیں، پھبتیاں کسیں، ابن الوقت کہیں یا بےاصولی کا طعنہ دیں یا کچھ بھی کہہ لیں، وہ ملکی سیاست کی راہ میں ایسی دیوار ہیں جسے ہاتھ لگائے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا، یہ انھی کا کمال ہے کہ یہ اپنے شہر سے اس مسلک کے لوگوں کے ووٹ بھی لے لیتے ہیں جن کے راہنمائی کے دعوے دار اہل دیوبند کو تکفیری کہہ کر ساتھ بیٹھنے سے بھی انکاری ہیں، اور پھر یہ ان مدارس کے بھی مولا بن جاتے ہیں جہاں اس مسلک کے لوگوں کے لیے بلاشک و شبہ ایک ہی رائے پائی جاتی ہے.

سیلانی انھیں اقتدار کی کشتی کے عرشے پر بندھی لائف بوٹ کہتا ہے، مشکل میں حکمرانوں کو ڈوبنے سے بچانے والی لائف بوٹ۔ سیلانی کے استاد ان کے بارے میں کہتے ہیں مولانا ہمیشہ receiving end پر ہوتے ہیں، ایسا بہت کم ہوا ہے کہ ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا ہو، مولانا تین روز سے کراچی والوں کے ہاتھ آئے ہوئے تھے، اور پھر وہ لگے ہاتھوں مولانا نورانی مرحوم کے گھر بھی تشریف لے آئے، وہ آئے تو ان کے پیچھے پیچھے میڈیا بھی پہنچ گیا. مولانا مرحوم کے صاحبزادے اویس نورانی سے ملاقات کے بعد میڈیا کے سامنے جلوہ افروز ہوئے اور انہوں نے وہی کہا جو ان سے توقع تھی اور بالکل ٹھیک ہی کہا کہ
پانامہ کا کرپشن سے کوئی تعلق نہیں۔
مشرف کے دور میں بنی نیب کے خاتمے کے لیے میں نے تب ہی حکمرانوں سے کہا تھا لیکن انہوں نے کہا دنیا کیا کہے گی اور اب یہ اسی نیب کے ہاتھوں رو رہے ہیں۔
حکومت کے چار برسوں میں جی ڈی پی کی شرح اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ چاربرسوں میں حکومت پر کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں بنا۔
مجھے بعض آئینی ماہرین نے بتایا کہ جے آئی ٹی بنانا عدالتی نہیں انتظامی استحقاق ہے۔
ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں۔
ہمیں عدالت سے انصاف کی توقع ہے تحریک انصاف کی نہیں۔۔۔
لب لباب یہی کہ نوازشریف استعفٰی کیوں دیں اور یہی سیلانی کا بھی مؤقف ہے کہ نوازشریف آخر کیوں استعفٰی دیں۔

نورانی ہاؤس میں کیمروں کے سامنے مولانا محترم نپے تلے الفاط میں حکومت کے ساتھ دامے درمے سخنے کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کر رہے تھے، میاں صاحب کے جذبات کی ترجمانی فرما رہے تھے اور قوم کو سمجھا رہے تھے کہ مستعفی ہونے والی ایسی کون سی بات ہے جس پر وزیر اعظم میرے عزیز ہم وطنو کہہ کر سرکاری ٹیلی ویژن پر آخری خطاب میں شرمندگی کا اظہار کریں اور وزیر اعظم ہاؤس سے جاتی امراء کے محل تشریف لے جائیں۔

اخلاقی دباؤ اور ضمیر کے کچوکوں کا یہاں کیا کام؟ سیلانی مولانا کے فرمودات پر سر دھن رہا تھا اور اسے احمد پور شرقیہ کی دو سو سے زائد سوختہ لاشیں یاد آرہی تھیں، یہ کوئلہ بنی لاشیں جیتے جاگتے جسم تھے، آئل ٹینکر الٹا، تیل بہنا شروع ہوا، قریبی بستی میں تیل کا نلکا کھلنے کی خوشخبری پہنچی تو 72 روپے لٹر تیل مفت میں لوٹنے کے لیے جوان تو جوان ادھیڑ عمر بھی پھولی سانسوں کے ساتھ ہاتھ میں پیپے کنستر لیے پہنچ گئے، عورتوں کو علم ہوا تو انہوں نے گود کے بچے چارپائیوں پر پھینکے اور دیگچیاں ڈبے لے کر تیل لوٹنے پہنچ گئیں، سیلانی کے الفاظ تو سخت ہیں لیکن یہ لوٹ مار ہی تو تھی، اس تیل پر بستی کے لوگوں کا کیا حق تھا جو وہ لوٹنے پہنچے، کس قانون اور کس اصول سے وہ لوٹ مار جائز تھی؟

یہ بھی پڑھیں:   حلقہ این اے 120؛ چند انکشافات - صاحبزادہ محمد امانت رسول

مولانا کے دلائل پر سیلانی کو فیس بک پر وائرل ہونے والا ایک اور کلپ بھی یاد آگیا، کولا مشروب بنانے والی کمپنی کا ٹرک کہیں الٹ گیا تھا، کسی کے موبائل کیمرے سے بنے ویڈیو کلپ میں ٹرک سڑک پر الٹا ہوا دکھائی دے رہا تھا اور مشروبات کی سینکڑوں بوتلیں سڑک پر بکھری ہوئی تھیں، دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس کے لوگ بلا تخصیص جنس، عمر، صحت ان بوتلوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے پہنچ گئے، جو گھر سے تھیلا لے کر سبزی لینے نکلا تھا، اس نے تھیلے کا منہ کھولا اور بوتلیں ٹھونس ٹھونس کر رزق کو بےحرمتی سے بچانے کی کوشش کرنے لگا، جس کے پاس تھیلے کی نعمت نہیں تھی اس نے جھولی میں بوتلیں بھرنا شروع کر دیں، جس نے بدقسمتی سے قومی لباس نہیں پہن رکھا تھا اس نے ہاتھوں ہی میں بوتلیں اٹھالیں، مشروبات کی بوتلوں نے راہ چلتے راہگیر تو راہگیر رکشوں پر گزرنے والی سواریوں کو بھی رکشوں سے اترنے پر مجبور کر دیا۔

چند برس پہلے سندھ میں سیلاب آیا، لوگ بےگھر ہو کر کھلے آسمان تلے آگئے، اہل خیر کو مدد کے لیے پکارا گیا، میڈیا نے دہائیاں دیں، لوگوں کے دل پسیجے، کراچی سے بھی لوگ مدد کے لیے نکلے اور خوب نکلے. ایک دوست کو کسی نے مشورہ دیا کہ فطری بشری کمزوریوں کا بھی خیال رکھو، بےگھر خواتین اور بچیاں بڑی مشکلوں میں ہوں گی اور وہ بےسروسامانی میں کس سے کیا کہیں گی؟ اس نے خواتین کے استعمال کی مخصوص اشیاء اور کچھ ایسا ہی سامان ساتھ لیا اور کچھ دوستوں کے ساتھ نکل کھڑاہوا، ابھی یہ کراچی کی حدود سے نکلے ہی تھے کہ گھگھر پھاٹک پر چھ موٹرسائکلوں نے ان کی گاڑی کو حصار میں لیا اور روڈ سے اتار کر ایک طرف لے گئے کہ ہم بھی تو مستحق ہیں، غربت یہاں بھی ہے اتنا دور جانے کی کیا ضرورت ہے؟ ان ’’مسکینوں‘‘ میں سے کسی نے مال غنیمت کا جائزہ لینے کے لیے ایک تھیلا چاک کیا تو اندر سے برآمد ہونے والے سامان نے اسے سیخ پا کر دیا، مغلظات دیتے ہوئے مار پیٹ شروع ہوگئی کہ یہ سامان بھی کوئی خیرات کرتا ہے؟ اور اگر یہ سامان تھا تو جس وقت ہم آئے تھے اسی وقت بتا دیتے، ہمارا وقت تو ضائع نہ ہوتا!

مولانا کی گفتگو جاری تھی اور سیلانی کو چند روز پہلے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ہونے والی عید ملن یاد آگئی، وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ اسٹیج سے تقریر کر کے میزبانوں کے ساتھ دوسری طرف بنے دفتر کا افتتاح کرنے پہنچے اور پیچھے غدرمچ گیا. مہمانوں نے دیگوں کا منہ کھولا اور خود ہی لنگر کا آغاز کر دیا، یار لوگ آتے پلیٹ تھال پرات ڈش جو بھی ہاتھ میں لگتا دیگ میں ڈالتے، اور بھر کر ایک طرف لے جا کر بیٹھ جاتے، جب تک میزبان واپس آئے لنگر ختم ہو چکا تھا، قافلہ لٹ چکا تھا.

یہ بھی پڑھیں:   آصف زرداری کی بریت - آصف محمود

سیلانی کو وہ مساجد اور مدارس بھی یاد آگئے جن کے سامنے زیر تعمیر کا بورڈ لگے ہوئے برسوں گزر چکے ہیں، لوگ ان کے چندہ بکسوں میں سرخ سبز نوٹ ڈال ڈال کر تھک گئے ہیں لیکن وہ مساجد مدارس مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لیتے اور یہ تو روز کا مشاہدہ ہے کہ سفید پوش ٹریفک پولیس والے کسی بھی بار بردار گاڑی کو رکنے کا اشارہ کرتا ہے اور ڈرائیور کا پیر بریک اور ہاتھ جیب میں چلا جاتا ہے، ہاتھ باہر آتا ہے تو دس دس کے تین نوٹ سپاہی کے ہاتھ میں منتقل ہوجاتے ہیں، اور اس کا پاؤں بریک سے ہٹ جاتا ہے، کوئی نوٹس نہیں لیتا، آس پاس زندگی رواں دواں رہتی ہے.

مولانا درست کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم کیوں کرسی چھوڑیں، جس معاشرے میں بھتہ نہ دینے پر گن پاؤڈر سے مزدوروں سمیت فیکٹری جلا دی جائے اور ضمیر بھنگ پی کر سوتا رہے، جہاں بارہ مئی کو محافظوں کو نہتا کر کے پارٹی کے مسلح ساتھی بھائیوں کو مخالفین کے شکار کا سنہری موقع فراہم کیا جائے، اور کسی کے سینے میں ٹیس نہ اٹھے، جہاں بوڑھا ملازم بیٹے کی ملازمت کے لیے چھت سے کود کر خودکشی کرلے کہ بااصول افسر اس کی باپ کی حیاتی میں بیٹے کو چپڑاسی رکھنے پر معترض ہو، جہاں غربت کی دلدل میں دھنسی ماں بچوں کا ہاتھ پکڑ کر نہر میں کود جائے اور بات صرف ایک خبر تک ہی محدود رہے، اس بےحس، بےشرم اور بے ضمیر معاشرے میں حکمران صرف جھوٹ بولنے اور ناجائز آمدنی سے اثاثے بنانے پر استعفٰی دے دیں؟ یہ کوئی یہودیوں کا اسرائیل تو نہیں ہے جہاں وزیر اعظم کرپشن پر دھر کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے، یہ فرانس بھی نہیں کہ جس کے سابق وزیر اعظم کو آبدوز بیچنے میں رشوت لینے پر بیس برس بعد پکڑ لیا جائے، یہ جاپان بھی نہیں کہ وزیراعظم پر کوئی انگشت نمائی کرے اور وہ دوسرے دن استعفٰی دے دے کہ میں داغدار دامن کے ساتھ اس منصب پر کیسے رہوں؟ یہ پاکستان ہے جی پاکستان۔

سیلانی نے سر ہلا کر مولانا کے مؤقف کی تائید کی اور انھیں آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام، عوام کی امنگوں اور اصولوں کی خاطر عدالتی حکم پر باقاعدہ ملزم ہونے والے وزیر اعظم کے حق میں حق بات کرتے دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا.

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں