تیزاب گردی کے واقعات، حقائق کیا ہیں؟ - محمد عمیر

چند روز قبل بی بی سی ویب سائٹ پر خبریں پڑھتے ہوئے ایک غیر معمولی رپورٹ پڑھنے کو ملی جس میں برطانیہ میں ریشم خان اوران کے کزن جمیل مختار پر تیزاب پھینکنے کے واقعہ کی تفصیلات دی گئی تھیں۔ تیزاب گردی کے واقعہ میں دونوں بری طرح جھلس گئے تھے اور اب ان کا علاج معالجہ جاری ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانیہ میں 2016-17ء میں تیزاب گردی کے 398واقعات رونما ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق تیزاب پھینکے جانے کے واقعات میں 2012ء سے اب تک دو گنا اضافہ ہوا ہے۔

یہ اعدادوشمار پڑھ کر میں کافی حیران ہوا، کیونکہ شرمین عبید چنائے کی پاکستان میں تیزاب گردی کے واقعات پر بننے والی ڈاکومنٹری فلم کے بعد عام تاثر یہی تھا کہ پاکستان میں تیزاب گردی کے واقعات سب سے زیادہ رونما ہوتے ہیں اور شاید ہردوسری خاتون تیزاب گردی کا شکا ر ہے۔ اس فلم پر بعد میں شرمین عبید چنائے کو آسکر ایوارڈ بھی ملا جسے فلمی دنیا کا سب سے بڑا ایوارڈ سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ میں نے کوشش کی کہ پاکستان میں تیزاب گردی کے واقعات کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے۔ ایچ آر سی پی لاہور آفس فون کیا ان سے ڈیٹا کا مطالبہ کیا تو انہوں نے جواب دیا تمام ڈیٹا آن لائن موجود ہے۔ ویب سائٹ پر ڈیٹا کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ پاکستان میں 2004 سے 2017 تک تیزاب گردی کے 513واقعات ہوئے۔ سال 2010 میں 22، سال 2011 میں 49، سال 2013 میں 51 جبکہ سال 2014 میں 61 واقعات رونما ہوئے جبکہ ایسڈ سروائیور فاونڈیشن (ASF) کا کہنا ہے کہ سال 2014کے بعد پاکستان میں تیزاب گردی کے واقعات میں 50فیصد کمی واقع ہوئی۔ دنیا میں تیزاب گردی کے سب سے زیادہ واقعات بنگلہ دیش میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

ایک طرف برطانیہ میں ایک سال میں تیزاب گردی کے 398واقعات ہیں تو دوسری طرف پاکستان میں 13سال میں تیزاب گردی کے 513واقعات ہیں۔ ایک طرف پاکستان میں ان واقعات میں 50فیصد کمی واقعہ ہوئی ہے اور برطانیہ میں دو گنا اضافہ۔ مگر شرمین عبید چنائے کی ایک فلم نے پوری دنیا کو یہ تاثر دیا ہے کہ شاید پاکستان میں تیزاب گردی کے واقعات آئے روز ہوتے ہیں، ہر عورت تیزاب گردی کے باعث عدم تحفظ کا شکا ر ہے۔

شرمین عبید کی اس فلم میں تیزاب گردی کا شکار رخسانہ نامی خاتون کو دکھایا گیا تھا ان کا کہنا ہے کہ شرمین عبید نے ان کو فلم میں کام کرنے کے عوض رقم، گھر اور علاج کا وعدہ پورا نہیں کیا اور بعدازاں فلم میں کام کرنے پران کے شوہر نے ان کو گھر سے نکال دیا۔ تیزاب گردی کا شکار رخسانہ نے اے ایس ایف کے ساتھ ملکر ان کے خلاف عدالت میں دعوی بھی دائر کیااور ان کی فلم ”سیونگ فیس“کو پاکستان میں دکھانے پر پابندی لگادی گئی۔ شرمین عبید کی فلم اور یہ اعداودشمار مختلف کہانی بیان کررہے ہیں۔ جن ممالک کو مہذب پیش کیا جاتا ہے وہاں ہم سے کئی گنا زیادہ تیزاب گردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں مگر بدنام پاکستان ہوا۔ اس ایشو پر بات کرنے اس پر فلم بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، مگر عرض صرف اتنی ہے کہ غیر ملکی آقاؤں کی غلامی میں اتنا نہ گرا جائے کہ رائی کو پہاڑ بنادیا جائے اور دوسروں کے دریا کو کوزے میں بند کردیا جائے۔

انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی

اتنا تو کبھی کوئی سخن ور نہیں گرتا