جنریشن گیپ، ذمہ دار کون؟ حل کیا ہے؟ جویریہ سعید

ہم نوجوانوں اور نو عمر بچوں سے خفا ہی رہتے ہیں. وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمیں ان کی فکر ہوتی ہے، ان کا بھلا چاہتے ہیں، ان کو ہر طرح کے نقصان سے بچانا چاہتے ہیں، ان کو تمام بہترین اوصاف سے مزین مثالی انسان دیکھنا چاہتے ہیں. لیکن نظر یہ آتا ہے کہ وہ لاپرواہ ہیں، جذباتی ہیں، "دنیا" اور اس کی دلچسپیوں کی طرف لپکتے ہیں، بلکہ غیر اہم اور غیر مفید چیزوں اور کاموں کو اپنا جنوں بنا لیتے ہیں، ضروری اور مفید چیزوں میں ان کی دلچسپی کم ہوتی ہے، وقت ضائع کرتے ہیں، ان میں سنجیدگی کا فقدان ہوتا ہے. ہم انہیں سمجھانا چاہتے ہیں، سکھانا اور سدھارنا چاہتے ہیں، مگر ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہماری باتوں کو خاطر میں نہیں لاتے، نظرانداز کرتے ہیں. ہمیں لگتا ہے کہ اس طرح وہ ہمارے ساتھ بد تمیزی کر رہے ہیں، اور بد تمیزی صرف اس لیے بری چیز نہیں کہ ہمارے ساتھ ہو رہی ہے، بلکہ وہ خود ان کی اپنی شخصیت کو بھی تباہ کر دے گی. اور یہ تباہی چونکہ ہمیں کسی طور گوارا نہیں، اس لیے ہم سختی کے ساتھ ان کو بہتر بنانا چاہتے ہیں. کیونکہ اپنے تئیں، نرمی سے ہم کام لے چکے. اس لیے "عصاے کلیمی" استعمال کیا جانا چاہیے. مگر پھر سمجھ نہیں آتا کہ کیا ہوا؟ بچے یا تو علانیہ یا خاموش بغاوت کر دیتے ہیں. مراد یہ کہ یا تو دوبدو معرکوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے، یا پھر ایک دبیز خاموشی چھا جاتی ہے، رابطہ ختم ہو جاتا ہے. وہ آپ کو سنتے ہیں، جواب میں کچھ نہیں کہتے، اس وقت اس کام سے رک بھی جاتے ہیں، جس پر آپ نے اعتراض کیا ہو، مگر آپ کی چھٹی حس ان کی آنکھوں میں چھپی بغاوت کو محسوس کرتی ہے.

کچھ والدین اور بڑے، علماء، ائمہ، شیوخ اور استانیوں کے پاس اپنے بچوں کو لے کر آتے ہیں کہ بچوں کی تربیت کی جائے. ان مربیین کا طریقہ بھی عموما مخصوص ہی ہوتا ہے. نوجوانوں کو ڈپٹ کر یا پھسلا کر، گھنٹہ دو گھنٹہ ایک جگہ بٹھا کر کچھ اخلاقی سبق سننے پر مجبور کیا جاتا ہے. قرآن و حدیث یا متفرق موضوعات پر مبنی "تربیتی نصاب" ترتیب دیا جاتا ہے. مساجد میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ یہ نوجوان سنجیدگی سے بیٹھا کریں، نماز اور عبادات کا اہتمام متقیوں اور زاہدوں کی طرح کریں، سنجیدہ اطوار اختیار کریں وغیرہ وغیرہ. لڑکیوں کی "تعلیم و تربیت" بھی اسی طور کی جاتی ہے. مگر "آج کل" ایسے "حلقے" اور والدین کا طریقۂ تربیت زیادہ پھل دیتا دکھائی نہیں دیتا. نتیجہ وہی آتا ہے جو پہلے بیان کیا.

پھر ایک مشہور زمانہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ "آج کی نوجوان نسل بگڑ گئی ہے. بڑوں کا ادب نہیں کرتی" وغیرہ وغیرہ
ایک دلچسپ مشاہدہ یہ ہے کہ جو والدین فکر مند رہتے ہیں یہ جاننے کے لیے کہ یہ حلقہ جات بچوں کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہو رہے ہیں، ان کا طریق کار یہ ہوتا ہےکہ استانیوں اور اساتذہ سے یہ پوچھتے رہیں کہ کون کون سے اسباق یا کتب پڑھائی جاتی رہی ہیں؟ بچوں نے کیا کچھ زبانی یاد کر لیا ہے؟
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایسے حلقہ جات میں عموما والدین کو اپنی بچیوں کو جبرا بھیجتے دیکھا گیا ہے.
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ نوجوان سنتے کیوں نہیں؟ یہ اس قدر بے حس کیوں ہیں؟ ان کو دین سے دلچسپی کیوں نہیں؟ ان کو پاس ادب کیوں نہیں؟
مغرب میں مصروف کار خواتین و حضرات کا خیال یہ بھی ہے کہ ایک بہت بڑی وجہ زبان کا فرق ہے. مربیین اور ان کے "باغی مریدین" کے بیچ زبان اور ثقافت کی ایک گہری خلیج حائل ہے.
راقم کے نزدیک اصل وجہ کچھ اور ہے... 🙂
ہماری رائے میں وجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے یہ بہی خواہ بزرگ یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی وہ بھی نوجوان تھے۔ اگر آپ مخاطب کی نفسیات سے واقف نہ ہوں یا اس کا لحاظ نہ کریں تو ابلاغ نہیں ہوتا بلکہ وعظ سماعت پر ایک بار گراں محسوس ہوتا ہے۔ یہی مسئلہ واعظین کا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نوجوان خوبصورت نانا / دادا کیسے بنیں؟ معلمہ ریاضی

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم مربیین (خواتین و حضرات) بڑی سی داڑھی لیے ہی پیدا ہوئے تھے، نہ کبھی ہنسے اور کھلکھلائے، نہ کبھی شرارت کی، نہ کبھی ڈانٹ پڑی، نہ کبھی کوئی اچھا لگا، نہ کبھی کسی ایسی شے کے لیے بےقرار ہوئے، جو اب اس عمر میں آکر "غیر ضروری" لگنے لگی ہے۔ شروع سے ہی ایسے ہی پابند نماز و تلاوت قران تھے۔

جو چیزیں اس عمر میں دلچسپی کا سبب ہوتی ہیں، ان سب پر یا ناجائز، معیوب، نامناسب، غیر ضروری یا نقصان دہ ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ جن کو احساس ہوتا بھی ہے کہ ان میں سے کئی "حرکتیں" ہم سے بھی سرزد ہو چکی ہیں، وہ بھی اس خیال سے ان کے تذکرے سے اجتناب کرتے ہیں کہ "کہیں بچوں کی حوصلہ افزائی نہ ہو جائے ایک غلط کام میں!" اخلاقی سدھار کا جوش انسانی نفسیات اور اس کے تقاضوں اور بےضرر پہلوؤں پر بھی تنقید کرنے پر اکساتا ہے۔

ذرا ٹھنڈے دل سے غور کیجے کہ ان بچوں سے آپ کا تعارف اور رابطے کے نکات ہیں کیا؟
آپ متقی، باادب اور باکمال ہیں، آپ کے پاس نصیحتوں کی پٹاری ہے، آپ سے کوئی "انسانی" حرکت سرزد نہیں ہوتی، آپ سے غلطیاں ہوئی ہی نہیں، یا جو ہوئیں بھی تو آپ اب ان سے کہتے پھرتے ہیں کہ تم یہ نہ کرنا جو ہم نے کیا۔ معذرت کے ساتھ کیا آپ محض "حضرت ناصح" نہیں ہیں؟ جن سے نصیحت تو لی جاسکتی ہے، لیکن نہ دل کی بات کی جاسکتی ہے، نہ مشورہ لینے کی غلطی کی جاسکتی ہے، نہ الجھن ڈسکس ہو سکتی ہے۔ کیوں آخر!

بہت برا ہوتا ہے اگر انسان اندر سے بھی بوڑھا ہو جائے۔ کیا برا ہے کہ ہم اپنے اندر کے بچے اور نوجوان کو مر جانے سے بچا لیں؟
ذرا سا یاد کر لیں کہ جب آپ عمر کے اس دور سے گزر رہے تھے تو کیسی گفتگو کیا کرتے تھے؟ دلچسپی کے موضوعات کیا تھے؟ اسی انداز سے گفتگو کیجیے۔
کیا آپ کسی لڑکی سے ملتے ہوئے اس کے بالوں کے انداز، مسکارا یا آئی لائینر کی تعریف نہیں کر سکتیں؟ کیا یہ پوچھنا مشکل ہے کہ تم حجاب کیسے لیتی ہو، ذرا مجھے بھی بتانا؟ اتنا اچھا بیگ کہاں سے خریدا وغیرہ، کیا آپ ان کے پسندیدہ کرداروں یا مشغلوں پر گفتگو نہیں کر سکتیں؟

لڑکوں لڑکیوں کو تراویح کی پوری جماعت میں شریک نہ ہونے پر لعنت ملامت کے بجائے آپ ان سے یہ گفتگو نہیں کر سکتے کہ اتنے لمبے دنوں میں سکول یونیورسٹی کے ساتھ روزے کیسے رکھ رہے ہو؟ کمال ہے بھئی! زبردست!! بہت باقاعدگی سے مسجد آتے ہو ماشاءاللہ! اللہ کریم اس محبت اور تعلق کو قائم رکھے۔ (یاد رکھیے، ان نوجوانوں کے لیے کسی غلط جگہ پر بیٹھنا اور جمع ہونا بھی مشکل نہیں)

یہ بھی پڑھیں:   سوچوں کی گتھیاں - عاصم محمود

ہر وقت وعظ کے بجائے کبھی کتابیں پڑھیے اور پڑھائیے، کہانیاں اور واقعات کہیے سنیے، مختلف موضوعات پر ان سے رائے لیجیے، مکالمہ کیجیے، جو چیزیں نئی ہیں، ان سے کہیے مجھے بھی سکھاؤ۔ انہیں اعتماد ملے گا کہ آپ ان کو بےکار ہی نہیں سمجھتے بلکہ ان کی صلاحیتوں کی قدر کرتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ ہر ملاقات کا موضوع مذہب یا اخلاق ہی ہو۔ بلکہ ضروری ہے کہ ایسا نہ ہو۔ سائنس، کھیل، سماجیات، سیاست، ادب، انسانی جذبات اور انسانی زندگی کے مختلف حالات پر گفتگو کیجے اور انہیں بھی مدعو کیجیے۔

کبھی کبھی خود ان سے کہیے کہ وہ کسی موضوع پر کچھ تیار کر کے لائیں، ان کو غور سے سنیں، وہ کس پہلو سے چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ سیکھیے، نوٹ کر لیجیے، سراہیے، اصلاح کی مچلتی خواہش کو ذرا کچھ دیر کے لیے قابو میں رکھیے اور کسی اور مناسب موقع کے لیے اٹھا رکھیے، جب "rapport" بن جائے تو اتفاق سے شروع کرتے ہوئے اختلاف کو اس طرح بیاں کریں کہ انہیں تضحیک یا تنقید نہ لگے۔

کبھی کبھی اپنی شرارتوں کو بھی بیاں کر دیں، کچھ شرارتوں اور غلطیوں کو نظرانداز کر دیجیے۔ اور حوصلہ رکھیے، جس طرح ہم اس عمر میں سدھر گئے ہیں، وہ بھی سدھر جائیں گے۔

ان کے مسائل اور ضروریات کا ادراک کیجیے۔ اور احساس دلائیے کہ آپ کو ان کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ ان سے پوچھیے کہ آپ ان کی کس طرح مدد کرسکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ابھی نہیں، مگر کسی اور موقع پر انہیں ضرورت پڑے تو انہیں آپ کی آفر آپ کی طرف لے آئے۔

بٹھا کر کیے گئے وعظ کے مقابلے میں نوجوانوں کو عملی کام میں مزہ آتا ہے۔ انہیں باہر لے جائیے۔ سوکر یا کرکٹ کھیلیں، متواتر فلاحی و سماجی سرگرمیاں رکھیں اور اس دوران سیکھنے سکھانے کے مواقع کو استعمال کریں۔ سفر کرنے، باہر گھومنے پھرنے، کام کرنے سے اجنبیت کی دیواریں گرتی ہیں، تعلق استوار ہوتا ہے، اس دوران انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ آپ خیمہ لگانے اور آگ جلانے پر کتنی ہی کلاسیں کروا لیں، جب تک انہیں ایک بار کیمپنگ کے لیے نہیں لے جائیں گے، وہ کبھی نہیں جان پائیں گے کہ یہ کرتے کیسے ہیں؟

سماج کا بہتر فرد بننے کے لیے عملی طور پر انہیں کیا کرنا چاہیے، اس کے لیے ان کے ساتھ مل کر عملی سرگرمیوں کا اہتمام کریں۔ لڑکیوں پر بھی تربیت کے یہ دروازے بند نہ کریں۔ بلکہ ان کے لیے بھی صحت مند سرگرمیوں کا اہتمام کریں۔ کھیل، چہل قدمی، سماجی و فلاحی رضاکارانہ سرگرمیاں، شاعری، مصوری، اہم شخصیات سے ملاقاتیں۔ ان سب کا ہی اہتمام کیا جانا چاہیے۔

الفاظ سے زیادہ عمل، محبت اور شفقت تربیت کرتی ہے۔ نوجوانوں کے لیے ناصح کے بجائے ایک محبت کرنے والا دوست اور ساتھی بنیے۔ یہ سب کہنا اور لکھنا آسان ہے مگر کرنا شاید اتنا آسان نہیں۔ مگر جو اوروں کی تربیت کے لیے پرجوش ہوں، انہیں خود بھی سیکھنے کے لیے مستعد رہنا چاہیے۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں