موجودہ سیاسی حالات میں نجات کا راستہ - صفدر چیمہ

اسے ہماری قومی بد قسمتی کہہ لیجیے کہ جب بھی سول قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین کسی بھی نوعیت کی سرد جنگ کا آغاز ہوتا ہے تو دونوں طرف سے عوام کے کندھوں کو ہی استعمال کیا جاتا ہے اور اس پر سونے میں سہاگہ یہ کہ ہمارے دانشور اور اہل قلم بجائے اس کے کہ کوئی ایسا مضبوط اور پائیدار حل پیش کریں کہ جس سے قوم دونوں فریقوں کے بیچ بٹ کر آپس میں باہمی ٹکراؤ سے بھی محفوظ رہے اور ایک ایسا متفقہ عوامی رد عمل سامنے آئے کہ جس سے سول اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے ٹکراؤ کو بھی روکا جا سکے لیکن افسوس کہ یہ طبقہ بھی دونوں فریقین کے ذاتی ملازمین کا کردار ادا کرنے میں انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے مصروف عمل ہوتا ہے.

پنامہ کے حوالے سے آنے والی جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد وطن عزیز کا سیاسی منظر نامہ کچھ اس قسم کا نقشہ پیش کر رہا ہے.

تصویر کا ایک رخ:
متعلقہ رپورٹ بد نیتی پر مبنی ہے، حکومت کو گرانے کی سازش ہے، سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، سعودیہ اور امریکہ مارشل لاء لگوانے کی سازش کر رہے ہیں، جب بھی کوئی مضبوط سول قیادت سامنے آتی ہے تو اسے کسی نہ کسی فوجی آمر کے ذریعے سے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے، لہذا اب سیاسی قیادت کے مستقبل کے فیصلے سرکاری عدالتوں میں نہیں بلکہ عوامی عدالتوں میں ہوں گے وغیرہ وغیرہ

تصویر کا دوسرا رخ:
یہ رپورٹ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ایک کرپٹ خاندان کے خلاف ہے، وزیر اعظم کے استعفی یا نااہل ہونے سے سی پیک منصوبے کو کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ یہ منصوبہ اصل میں ہے ہی فوج کا اور چائنہ کو اس کی ضمانت دی ہی فوج نے ہے، حکومت کو گرانے کی سعودیہ امریکہ سازش محض پروپیگنڈہ ہے، مضبوط سول قیادت والی بات میں کوئی دم نہیں ہے کیونکہ موجودہ وزیراعظم صاحب وفاقی لیڈر نہیں بلکہ پنجاب کے علاقائی لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں اور اگر مستقبل میں پنجاب کو مزید صوبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تو جناب وزیراعظم صاحب محض لاہور کے لیڈر ثابت ہون گے، آخری بات کہ سیاسی قیادت کے فیصلے عوامی عدالت کرے گی تو یہ سوچ پہلے سے تباہ شدہ اور سخت ترین انتہا پسندی والے معاشرے کو لا قانونیت اور اپنی اپنی عدالتیں لگانے کی جانب دھکیلنے کا باعث بنے گا.

یہ بھی پڑھیں:   فیصلہ محفوظ، کیا نوازشریف بھی؟ آصف محمود

تصویر کا تیسرا اور روشن رخ:
میری ناقص رائے کے مطابق اس ساری صورتحال اور دونوں اطراف کے مؤقف یا پروپیگنڈے کو سامنے رکھتے ہوئے اس نازک اور غیر یقینی والی صورتحال سے بچ نکلنے ایک راستہ ہے اور وہ یہ کہ حکومت مخالف تمام سیاسی جماعتیں حکومت کو اپنا ٹرن اوور پورا کرنے دیں اور پنامہ کیس کی طرح اسی جذبے اور جنون سے عدالتی اور قانونی جنگ جاری رکھیں اور کسی تیسری نا دیدہ قوت کے اشارے یا گائیڈڈ پالیسی کو اختیار کر کے کسی خفیہ سازش کا حصہ نہ بنیں کیونکہ خدا نخواستہ ایک بار پھر وردی والے بھائی آ گئے تو ہر قسم کی تبدیلی کو کم از کم دس سال کے لیے تو بھول جائیے، بلکہ آپ اگر واقعی تبدیلی پسند ہیں اور قوم سے مخلص ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ تمام کرپٹ عناصر کا احتساب ہو بشمول اسٹیبلشمنٹ کے، تو اس کے لیے آپ کو انتخابی اصلاحات اور متناسب نمائندگی کے نظام کی بھرپور تحریک چلانی چاہیے تاکہ آپ کو اپنے علاقوں میں سیٹیں جیتنے والے کرپٹ اور بدمعاش گھوڑوں کی ضرورت نہ پڑے، اور متناسب نمائندگی اور انتخابی اصلاحات کی بدولت ہونے والے شفاف انتخابات سے وجود میں آنے والی ایک مضبوط سول حکومت اور قیادت اس قابل ہوگی کہ وہ بیک وقت تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے کرپٹ عناصر کا بلا امتیاز احتساب کر سکے. اس کے علاوہ تمام کوششیں میرے نزدیک ایک کرپٹ چہرے کو ہٹاکر دوسرے کٹھ پتلی کرپٹ چہرے کو باری دلانی کی کوشش تو ہو سکتی ہیں مگر اس حقیقی تبدیلی کی نہیں کہ جس کا ہمیشہ سے عوام کو خواب دکھایا جاتا ہے.

Comments

صفدر چیمہ

صفدر چیمہ

صفدر چیمہ جدہ میں پروجیکٹ مینیجر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ سیاست اور کوچنگ سے دلچسپی ہے، تربیتی لیکچرز دیتے ہیں۔ میدان عمل سے دوری لکھنے لکھانے کی وجہ ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں