اعتدال پسند سوچ اور دلیل - فارینہ الماس

زخم زخم وجود کو تو سنبھال لینا شاید پھر بھی ممکن ہے لیکن احساس چھلنی ہو جائے تو پھر اک عمر گزر جاتی ہے، اس کے گھائل وجود سے اذیت کے نشتر نکالتے نکالتے۔ احساس کو بنانے اور سنوارنے کے علاوہ گھائل کرنے میں بھی لفظوں کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ الفاظ شخصیت ساز بھی ہیں اور شخصیت کے لیے وجہ بگاڑ بھی۔ لکھاری اپنے لفظوں سے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، اور پڑھنے والے ان لفظوں میں نجات حاصل کرتے ہیں۔ وہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے اس لکھے ہوئے سے اثر قبول کرتے ہیں۔ گویا لکھاری معاشرے کے عکاس ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرہ ساز بھی ہوتے ہیں۔ ان کا لکھا ہوا معاشرے کو مزید احساس کمتری اور خیالات کے جہنم میں بھی جھونک سکتا ہے اور انہیں ان کے احساس کمتری اور گہرے کرب سے باہر بھی نکال سکتا ہے۔ ان معنوں میں لکھنا اک ریاضت اور عبادت بھی ہے اور لکھنا شر پھیلانے کے مترادف بھی ہو سکتا ہے۔

آج سے ٹھیک دو سال پہلے تلک مجھے برق رفتار وقت کے بدلاؤ کا ذائقہ کچھ اس طور معلوم نہ تھا جو ”سماجی رابطے“ کے اس گھن چکر نے مجھے محسوس کروایا۔ یہ سماجی رابطہ جسے عرف عام میں سوشل میڈیا بھی کہا جاتا ہے، شروع شروع میں تو جیسے اچھے اقوال اور اعلیٰ ذوق کی عکاس شاعری کا اک خزانہ معلوم ہوا۔ کیا کیا نہ فلسفہ یہاں لوگ جھاڑتے ہیں اور کیسی کیسی نصیحتوں کے پندار، کہ دل جھوم اٹھے۔ یہ لکھنے پڑھنے کا ایسا وسیع سمندر سمیٹے ہوئے ہے، اس کا مجھے پہلے کوئی ادراک نہ تھا۔ شروع شروع میں لکھنے پڑھنے کے شغف نے یہاں کچھ نامور صحافیوں اور لکھاریوں کی ایک سائٹ سے بھی متعارف کر وادیا، جس پر لکھے گئے مضامین حالات حاضرہ پر بڑی خوبی سے روشنی ڈالتے دکھائی دیے اور بہت سے سماجی و معاشرتی مسائل سے روشناسی بھی ہونے لگی۔

کیونکہ میں پہلے سے ایک اخبار میں وقتاً فوقتاً آرٹیکل لکھتی رہی تھی سو مجھے یہاں لکھنے کا بھی شوق چرایا اور میں اپنی تحریریں یہاں بھجوانے لگی جو چھپ بھی جایا کرتیں۔ یہ ایک سلسلہ تھا جو لکھنے کے شوق اور ذوق کو بڑھاوا دیتا جا رہا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس روشن، لطیف اور خنک صبحوں کی ٹھنڈی دھند اور راتوں کی دمکتی چمکتی کہکشاں جیسے احساسات کچھ مرجھانے سے لگے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے سارا منظرنامہ ہی بدلنے لگا۔ ایک طرف تو دنیا بھر کے خطوں میں اور خود اپنے ملک میں رونما ہونے والے انسانیت سوز اور پر خراش واقعات کی عکاس بنی ویڈیوز کی ایک جھلک سارا سارا دن آنکھوں کو دھندلائے رکھتی، تو دوسری طرف یہ حقیقت بڑی ہیبت ناک اور دلخراش معلوم ہونے لگی کہ یہاں لکھاریوں نے بھی اپنے خیالات کے گورکھ دھندے میں سب کو الجھا رکھا ہے۔ ایسے ایسے نظریات و خیالات کا سیلاب امڈتا چلا آتا ہے کہ جیسے سب کچھ اس کی بے لگام اور طلاطم خیز لہروں میں بہہ جانے کو ہے۔ کوئی قدغن، کوئی اخلاقی ضابطہ، کوئی شرم، کوئی لحاظ، کچھ بھی لکھنے والوں اور چھاپنے والوں پر لاگو نہ تھا۔ گویا یہ بھی ایک طرح کی دکان داری تھی جو لفظوں کی بےحرمتی سے سجائی گئی تھی۔ خیالات کی منفی آبیاری بڑی دیدہ دلیری سے کسی خاص ایجنڈے کے تحت جاری تھی۔ کہنے کو اسے لبرل ازم کا نام دیا گیا تھا، لیکن اس لبرل ازم کی آڑ میں ہمارے احساس اور ہمارے افکار کو پیروں تلے روندا جا رہا تھا۔ لبرل ازم کی انتہا کو پہنچے ہوئے لوگ الحاد کی طرف جا نکلے تھے۔ ان لکھنے والوں کی بےخودی اور سرمستی ان کے لفظوں کے عریاں بیانیے میں صاف چھلک رہی تھی، لیکن میرے احساس کو یہ بیانیہ گھائل کر رہا تھا۔ یوں لگا جیسے سبھی شگفتہ و لطیف خیالات اب انتہائی بد مزہ اور بد ہیئت ہو چکے ہیں۔ خنک راتوں کی دلفریب کہر جیسے لفظ، اب محض اک بوسیدہ، بدبودار اور غلیظ دھواں بنے دکھائی پڑ رہے تھے۔ مذہب جو انسان کی شیطانی اور حیوانی خواہشات کو لگام دینے کا فریضہ انجام دیتا ہے، جو انسان کی ایسی زرہ بکتر ہے جو اسے دوسرے انسانوں کی وحشت سے بچاتا ہے، لیکن اسے ایک بدبودار اور صدیوں کا تاریک قفس قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے فلسفیانہ اور مدبرانہ خیالات کی دھاک بٹھانے کے لیے سر عام گستاخانہ خیالات کا پرچار کیا جا رہا تھا ۔ لادینی اور اسلام کش نظریات کو انتہائی دیدہ دلیری سے پھیلایا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   گالیوں کے ہجوم میں گھرا ہوا شخص - عاکف آزاد

آج دنیا جس طور لادین نظریات اور نظام سے دنیا کو شر انگیزیوں اور غیر انسانی رویوں کی دلدل میں دھکیل رہی ہے، یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ بالکل اسی طرح حد سے ذیادہ مذہب پرستی بھی انسان کو اک وبال میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ اس نے انسان کو انسان ہی کے ظلم، وحشت اور جبر و استبداد کا شکار بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ غرور اور تکبر کی ایسی بھٹی دہکا دیتی ہے جس میں نہ صرف مخالفین بلکہ اسے دہکانے والے خود بھی جل مرتے ہیں۔ گویا لبرل انتہا پسندی، مذہبی انتہا پسندی سے کسی طور جدا نہیں ہے سوائے اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو پیٹھ دکھاکر چل رہے ہیں، لیکن سفر کی منزل اور مقصد جدا نہیں۔ دونوں ہی کا مقصد انتشار پھیلانا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ فلسفے اور منطق کے اکثر لوگ مذہب سے بددل ہو کر اپنے منفی خیالات کا سرعام پرچار کرتے ہوئے دکھائی دیے جو اپنے تئیں مذہبی انتہا پسندوں کے شر سے دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کا مطمح نظر اخلاقی اور سماجی قدروں سے متصادم بھی نظر آتا ہے۔ شاید ان کے خیال میں یہ فرسودہ قدریں بھی چونکہ مذہب سے ہی جڑی ہیں، سو ان کی بیخ کنی بھی ازحد ضروری ہے۔ یہ لوگ مغرب کی اندھی تقلید کا کھلے عام رواج لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں مختصر لباس میں ملبوس خواتین کا پاکستان کی سڑکوں پر منڈلانا ہی پاکستان کی روشن خیالی کا ضامن بن سکتا ہے۔ وہ شاید یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی آزادی اس وقت محسوس ہوگی جب افراد معاشرہ کھلے عام جام نوش کرنے کی، جب مرد اور عورت مغرب ہی کی طرح بنا نکاح کے ساتھ رہنے، اور ہم جنس پرست جوڑے نکاح کی اجازت پائیں گے۔ میں سوچنے لگی، کہ یہ لبرل انتہا پسند، لوگوں کو متوازن اور معتدل سوچ کی طرف لے جانے کے بجائے اک نئی انتہا پسندی کی بھٹی میں جھونک رہے ہیں۔ مجھے لگا جیسے یہ ہماری سوچ اور فکر پر ایسی ضربیں لگا رہے ہیں کہ جو ہمیں گھر کا چھوڑیں گی نہ گھاٹ کا۔ اور سوشل میڈیا پر عین ایسا ہی ہو رہا تھا۔ جس کی نشاندہی ان سارے پیجز سے ہو رہی تھی جو اسلام کو سرعام گالی دینے کے لیے خود ان لبرل پاکستانیوں نے ہی چلانا شروع کر رکھے تھے۔ یہ کیسی روشنی تھی جس میں گمراہی کی آگ دہک رہی تھی، نوجوان نسل کو گمراہ اور بیزار بنا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   نصف صدی کی کہانی، ہارون الرشید کی زبانی - اہم انٹرویو کا آخری حصہ

پھر مجھے اس خاص گروہ کے مقابلے پر کھڑے کچھ لوگ نظر آئے، جو داڑھیوں والے نہ تھے لیکن روشن خیال اور معتدل رویوں کے حامل تھے۔ ان دنوں ہی ”عامر ہاشم خاکوانی صاحب“ نے ایک ویب سائٹ بنانے کی نوید سنائی۔ بہت اچھا لگا کہ عجیب طرح کی اس فرسٹریشن اور کشمکش کے ماحول میں کوئی تو ایسا پلیٹ فارم ہوگا کہ جہاں معتدل خیالات کے حامل لوگوں کو پڑھنے اور ان کی تحریروں سے فیض یاب ہونے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے دلیل کی بنیاد رکھی اور مجھے دلیل پر اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ میں نے خود بھی ٹکراؤ کے اہم موضوعات پر یہاں کھل کر لکھا۔ الحاد، مغرب کی مسلم دشمنی، اسلامو فوبیا، ہم جنس پرستی، برما اور بھارت میں ہونے والی مسلم کشی جیسے موضوعات میرے مضامین کا عنوان بنے۔ کیسا لکھا اور کیا لکھا؟ اس سے کہیں زیادہ اہم میرے لیے یہ تھا کہ مجھے اپنا کتھارسس کرنے کا موقع ملا۔ میں ایک علیحدہ سوچ کی کٹھنائیوں کو اپنے احساس پر ایک گھاؤ کی طرح محسوس کر رہی تھی۔ کبھی سوچتی تھی شاید یہ وقت کا بدلاؤ ہے جس سے آشنا ہونے میں مجھے بہت وقت لگ جائے گا۔ میں اور مجھ جیسے لوگ شاید اصحاب کہف کی طرح کسی بند اور تاریک غار میں مدتوں بے سدھ پڑے رہے۔ لیکن دلیل سے تعارف کے بعد معلوم پڑا کہ یہ زمانے کا بدلاؤ نہیں بلکہ ایک مخصوص طبقے کی زور آزمائی ہے جو وہ سب کچھ بدلنے کی خاطر کر رہی ہے۔ جب لوگ میرے لکھے ہوئے کو سراہتے تو مجھے یقین ہونے لگتا کہ وہ طبقہ کُل نہیں بلکہ محض اک معمولی سا جزو ہے۔

اسی دوران یہ احساس ہوا کہ دلیل پر ایک مخصوص نقطہ نظر کی چھاپ کا رنگ نمایاں ہونے لگا ہے۔ شاید یہ دلیل کی ٹیم کی غلطی نہیں کیونکہ لکھنے والوں پر وہ موضوعات کی پابندی نہیں لگا سکتے، لیکن لکھاریوں کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اس وقت ہمارے معاشرے کو معتدل رویوں کی کس قدر ضرورت ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو اس کے ان گنت سوالات کے جوابات چاہییں۔ اور ہمیں انھیں مطمئن کرنے کے لیے منطقی و سائنسی دلائل سے کام لے کر انھیں تمدنی واخلاقی جواز اور روحانیت کے علم سے روشناس کروانا ہوگا۔

دلیل پر اخلاقی موضوعات پر پرمغز تحریروں کی مسلسل اشاعت اس بات کی گواہ ہے کہ دلیل معاشرے کی اخلاق سازی اور روح سازی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اور امید ہے کہ یہ سائٹ اپنے اس مشن کو جاری رکھے گی ۔ دلیل کے لیے ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں