ہم نے فیس بک کیوں چھوڑ دی! ریحان اصغر سید

ایک دفعہ ایک "چھوڑو" ٹائپ کے صاحب ملے۔ پہلے ایک دو چھوٹی موٹی "چھوڑ" کے انھوں نے زبان کو گرم کیا، پھر فرمانے لگے۔ اے جی، چھوڑیں یہ فائیو جی اور ٹیکنالوجی کی باتیں، ہمارے دور کے انسان کی اوقات ہی کیا ہے۔ رب سبحان تعالی نے ہزاروں لاکھوں سال پہلے ایسی ایسی شاطر اور ذہین مخلوق پیدا فرما دی تھی کہ آج بھی ان کے قصے عقل والوں کے لیے عبرت نگاہ ہیں۔ قوم دجوج کا قصہ تو سن ہی رکھا ہوگا آپ نے؟
ہم نے اپنے سر کو تاسف بھرے انداز میں نفی میں ہلا کر عرض کیا کہ آپ جیسے اہل علم کی صحبت آج ہی نصیب ہوئی ہے، اس سے پہلے اصحاب جاہلین سے ہی یارانہ تھا۔
اللہ اکبر،
وہ ڈاڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے کسی غیر مرئی مخلوق کو دیکھ کے مسکرائے۔ پھر بولے
صدیوں پرے کی بات ہے۔ ایک دفعہ رب تعالی نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ جا اور فلاں بستی کو الٹ دے۔ جبرئیل نے ڈرتے ڈرتے عرض کی۔
یااللہ! کسی کی مجال نہیں جو تیرے حکم کے آگے دم مار سکے۔ بس اپنی خلش مٹانے کے لیے پوچھ رہا ہوں کہ اس بستی کے لوگ تو انتہائی جدید، ماڈرن اور ترقی یافتہ ہیں۔
اللہ نے فرمایا۔
ان کی بستی پر عذاب سے پہلے تو ان میں سے کسی شخص سے گفتگو کر لینا۔ تجھے خود ہمارے حکم کی حکمت کا اندازہ ہو جائے گا۔
سو حضرت جبرائیل مذکورہ بستی میں پہنچے اور صحرا میں بکریاں چراتے ایک چرواہے کے سامنے انسانی شکل میں حاضر ہو کر اس سے پوچھا۔
کیا تو بتا سکتا ہے کہ خدا کا مقرب فرشتہ جبرئیل اس وقت کہاں ہے؟
جاہل سے نظر آنے والے چرواہے نے جماہی لی اور بےدلی سے اپنی بکریوں کو ہانکنے والی چھڑی سے ریت میں لائنیں کھینچ کے کچھ حساب کتاب میں مصروف ہو گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے سر اٹھایا اور بولا،
میرا علم کہتا ہے کہ جبرائیل نہ اس وقت آسمان میں ہے نہ زمین کی تہہ میں، مشرق مغرب، شمال جنوب میں بھی وہ مجھے کہیں نہیں نظر آ رہا۔ اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ ہم دونوں میں سے ہی کوئی ایک جبرئیل ہے، اور ظاہر میں تو ہوں نہیں، اس کا مطلب ہے تم ہی جبرئیل ہو!
اور یہ کہہ کے وہ چہرے پر بےنیازی کے تاثرات سجائے اپنی بکریوں کو ہانکتا ہوا وہاں سے روانہ ہوگیا۔
دوسری طرف جبرئیل یہ سوچ رہے تھے کہ جس قوم کے ان پڑھ چرواہے بھی اتنے ایڈوانس ہو چکے ہیں، اس قوم پر عذاب آنا بنتا ہے۔

"چھوڑو" صاحب تو لمبی سی چھوڑ کے چلے گئے (اللہ تعالی اس گپ پر انھیں معاف فرمائے) لیکن مجھے اپنی قوم کے علم و عرفان کے بارے میں احساس کمتری میں مبتلا کرگئے۔ یہاں تک کہ ہم فیس بکی مخلوق کے علم لدنی سے آگاہ ہوئے۔ ہمیں فیس بک سے متعارف کروانے کے جرم کا ذمہ دار ایک دوست نما دشمن تھا، جس نے ہمیں فیس بک کے ماحول اور افادیت کے بارے میں گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔ مہوشوں سے ان باکس میں ہونے والے راز و نیاز کے بارے میں کچھ بتایا۔ کمنٹ باکس میں ہونے والی رنگین و سنگین گفتگو کے حوالہ جات پیش کیے اور خفیہ گروپوں میں مرد و زن کے درمیان ہونے والے علمی و غیر علمی، ادبی و غیر ادبی شرعی (اور غیر شرعی) معاملات پر ہونے والے مباحثوں کا نقشہ کچھ یوں کھنیچا کہ ہم بےاختیار پکار اٹھے۔ دنیا میں کوئی جنت ہے تو یہی ہے۔ ہم دم دیرینہ اب اور دیر نہ کر، ہمیں بھی اس جادوئی دنیا میں لے چل، تاکہ ہم بھی فیس بک کی رنگینیوں سے اپنی بےرنگ زندگی میں مطلوبہ رنگ بھر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میرا تعلق اس معاشرے سے ہے - در صدف ایمان

فیس بک کے باقاعدہ استعمال کے کچھ ہفتے بعد تک ہم اس مخمصے کا شکار رہے کہ پروفائل پکچر والے خانے میں کون سی فوٹو لگائیں جو ہماری شخصیت، جذبات اور اعلی خیالات کا جامع نمونہ پیش کرے، (ظاہر ہے ہم اپنی فوٹو لگانے کی حماقت کے مرتکب کیسے ہو سکتے تھے؟) لیکن جلد ہی یہ جان کر ہمیں تسلی ہوئی کہ فیس بک پر ہر بڑا آدمی ہماری طرح نیم گنجا، نیم موٹا، نیم ملا اور نیم حکیم ہی ہوتا ہے۔

پہلی بات جو ہم نے فیس بک پر آ کر جانی، وہ یہ تھی کہ جمعہ کی مبارک باد بھی لی اور دی جاتی ہے۔ چونکہ ہم بدعت حسنہ کے جواز کے قائل ہیں، اس لیے ہم نے بخوشی اس بدعت کو نہ صرف اپنایا، بلکہ پورے مذہبی جوش و جذبے سے اتوار اور ہر چھٹی والے دن کی مبارک باد بھی دینے لگے۔

دانشور نامی مخلوق سے بھی ہم فیس بک پر آ کر ہی متعارف ہوئے۔ کچھ دن ہم اس عجیب جانور کو ڈری ڈری نظروں سے تکتے رہے، لیکن پھر یہ جان کر بےخوف ہو گئے کہ یہ سینگ نہیں مارتا، بلکہ اس میں سوائے فسلفہ بگھارنے کے مزید کوئی عیب نہیں پایا جاتا۔

شروع میں ہمیں لائکس کا گورکھ دھندہ سمجھنے میں بھی کچھ وقت لگا۔ پھر یہ جان کے اطمینان قلب حاصل ہوا کہ اصلی دنیا کی طرح یہاں بھی ورتن اور ادلے بدلے کا نظام بخیر و خوبی چل رہا ہے۔ لائک کرو گے تو لائک ملے گا۔ تعریف کرو گے تو تعریف ہوگی۔ کئی لوگ تو لائکس کے لین دین کے معاملے میں اتنے بااصول دیکھے کہ مجال ہے کہ حساب کتاب میں ایک لائک اور کمنٹ کا فرق بھی آ جائے۔

خیر جلد ہی ہم فیس بک کی تمام پرم پرا اور شگنوں کے بارے میں بخوبی جان گئے، اور دل و جان سے ان کا پالن کرنے میں جت گئے۔ سب کچھ صغیح چل رہا تھا لیکن پھر یکے بعد دیگرے (مندرجہ ذیل) کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ ہم فیس بک پر اپنی پیدائش کے صرف پندرہ ماہ بعد ہی اس دار کافرانی سے کوچ کر گئے۔

ایک صاحب آئے دن اپنے قارئین کی طرف سے خود کو ملنے والے تحائف کی تصویریں اپ لوڈ کر دیتے تھے جس میں کبھی وہ عجوہ کجھوریں، قیمتی عطریں، گھڑیاں اور دیگر سامان آرائش و زیبائش کی تشہیر فرماتے ہوئے ہمارا دل جلاتے۔ ہم یہ سوچ سوچ کہ ہلکان ہوتے رہتے کہ پیرزادے ہم ہیں اور نذرانے دربار فلاں میں چڑھ رہے ہیں۔ ہم کیا فیس بک پر امب لینے آئے ہیں۔ لکھ لکھ کے ہمارے سیل کا کی پیڈ گھس گیا تھا، لیکن مجال ہے جو کسی کمبخت نے ہمیں کجھور کی گھٹلی ہی بطور ہدیہ بھیجی ہو۔ سو اس ناشکری اور ناقدری فیس بکی عوام کی اس سے بہتر ہمیں کوئی سزا معلوم نہیں ہوئی کہ انھیں اپنی ہمہ گیر شخصیت کے نور اور فیض سے محروم کر دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

ہم آئے دن یہ دیکھتے تھے کے فیس بک کے نامی گرامی لکھاری فیس بک چھوڑنے کی دھمکی دیتے اور دنیا ان کی پوسٹ پر آمڈ آتی، کوئی پیروں سے لپٹ جاتا تو کوئی بازو تھام کے دہائی دیتا کہ اگر آپ نے فیس بک چھوڑ دی تو گلشن کا کاروبار کیسے چلے گا؟ ہم یتیم ہو جائیں گے۔ خدارا یہ ظلم نہ کرنا۔
یوں وہ لکھاری کچھ نخروں کے بعد مفاد عامہ کی محبت میں ایک دفعہ پھر فیس بک کے جوہڑ میں آسن جما کے بیٹھ جاتا۔
جانے کب ہمارے جی میں یہ سمائی کہ ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے، لیکن اناڑی ہونے کی وجہ سے ہم سے یہ غلطی ہوئی کہ ہم فیس بک چھوڑنے کی دھمکی والی پوسٹ لگانا بھول گئے اور اکاؤنٹ ڈی ایکٹیو کر دیا، اور تب سے انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی آ کر ہمیں منائے۔

فیس بک چھوڑنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پندرہ ماہ میں کسی بھی قابل ذکر ہستی نے ہمیں منہ نہیں لگایا اور ہماری فرینڈ لسٹ 80 کے ہندسے کے آس پاس ہی رہی، جس سے میں سے صرف چار مستورات تھیں۔ ان میں سے بھی دو نے (ہمارے عزائم دیکھتے ہوئے) ہمیں بھائی بنا لیا تھا اور باقی دو کی پروفائل پکچر دیکھتے ہوئے ہم نے انھیں ہمشیرہ ڈیکلیئر کر رکھا تھا۔ آج ہم پورے یقین کے ساتھ یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ فیس بک پر پائی جانے والی جس بےحیائی اور فحاشی کا شہرہ ہے، ہم نے اسے کہیں نہیں پایا بلکہ ہم (ڈھونڈنے سے بھی) کسی آزاد خیال اور ماڈرن خاتون کو دریافت نہیں کر پائے۔

یہ سب پھر بھی قابل برداشت تھا لیکن جب ہمارے فیس بک پر نو وارد اور نو عمر بھتیجے کی بچگانہ پوسٹ کو چھ سو لائکس اور ساڑھے تین سو تعریفی کمنٹس ملے (جبکہ ہماری کسی پوسٹ کو کبھی پندرہ بیس سے زیادہ لائکس نہیں ملے تھے) تو ہم نے مناسب یہ جانا کہ اب نوجوان نسل کے لیے نشست خالی کر دینے کا وقت آ پہنچا ہے۔

فیس بک کی سرزمین کا پانی ہی کچھ ایسا ہے کہ جاہل سے جاہل انسان کے پیتے ہی اسے ہر قسم کےظاہری و باطنی علوم سے منور کر دیتا ہے، اور یوں فیس بکی ہر معاملے میں بےدھڑک اپنی ماہرانہ رائے دینے لگتا ہے۔ اکثر نوعمر طالب علم کیرئیر پروفیشنلز کو ان کی پوسٹ پر مشورے دیتے اور تنقید کرتے پائے جاتے ہیں۔ بطور فیس بک یوزر کئی بقراطیوں کی ایسی پوسٹیں بھی نظروں سے گزریں جنھیں پڑھ کر یہ احساس شدت سے ہوا کہ اب اس کائنات یا کم از کم دنیا کو چھوڑ دینے کا صحیح وقت آ پہنچا ہے۔ کئی افلاطونوں کی پوسٹس پڑھ کر دل میں یہ خوف پیدا ہو جاتا کہ یہ پوسٹ ہمارے لیے دماغی کینسر کا سبب نہ بن جائے، لیکن اللہ کے فضل اور اپنی سخت جانی کے سبب ہم ہمیشہ یہ صدمے جھیل جاتے۔ فیس بکیوں کے اس علم و دانش اور علم غیب کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ وہم سا ہوگیا تھا کہ یہ فیسی بکی بھی قوم دجوج کے قبلیے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے پیشتر اس کے، کہ ان پر عذاب نازل ہو، ہم نے ان سے لاتعلقی میں ہی عافیت جانی۔