اے انسان! رب کو پہچان، دلیل سے - مجیب الحق حقی

ہر فعّال زندگی تخلیق کی قوّت رکھتی ہے۔ ایک پرندے کا گھونسلہ، ایک مصوّر کی تصویر، ادیب کی تحریر، شاعر کے اشعار، آرکیٹیکٹ کا ڈیزائن، انجینیئرز کی بنائی ہوئی عمارتیں، کارخانے، سائنسدان کا روبوٹ، پروگرامر کا سوفٹ وئیر وغیرہ وغیرہ سب تخلیقات ہیں۔ غرض ہمیں اپنے اطراف تخلیقات کا اژدہام نظر آتا ہے۔ انسان ہر لمحے اپنے عمل کے ذریعے دیدہ اور نادیدہ تخلیقات میں محَو ہے۔ ہر خالق کا اپنی تخلیق سے ایک تعلّق بن جاتا ہے کہ وہ تخلیق اسی سے منسوب ہوجاتی ہے۔ مگر یہ تعلّق یک طرفہ ہوتا ہے، یعنی خالق جانتا ہے کہ یہ میری تخلیق ہے لیکن تخلیق نہیں جانتی کہ اس کا خالق کون ہے، کیونکہ ظاہراً سب بےجان ہیں۔ اس میں انسان کا قصور ہے کہ وہ اپنی تخلیق میں اپنی ذات کا شعور منتقل کرنے سے قاصر ہے۔

لیکن کیا انسان اس بات پر قادر ہوسکتا ہے کہ اس کی تخلیقات اسے پہچان سکیں؟

بظاہر یہ ناممکن ہے کیونکہ انسان کی علمی دسترس میں مادّہ ہے جو کہ طبعی ہے۔ انسان اسی طبعی رخ پر تخلیقات کا علم رکھتا ہے اور طبعی پیرایوں میں ہی تخلیق کرتا ہے۔ ذات کا شعور ایک غیر طبعی وصف ہے جو غیر طبعی بنیاد رکھتا ہے اور وہ ہے روح۔ اب اگر انسان اس بات پر قادر ہوجائے کہ اپنی ذات کا کوئی طبعی یا روحی پیرایہ اپنی تخلیق میں ایسے منتقل کردے کہ اس میں یہ صلاحیت بیدار ہوجائے کہ وہ اپنی ذات کا شعور حاصل کر لے تو ایسی صورت میں ذات کی یہ ہم آہنگی اس تخلیق کو اپنے خالق کا شعور دے سکے گی اور انسان کی تخلیقات اپنے خالق کو جان کر اپنا خدا مانیں گی۔

اس کی مثال اور دلیل یہ ہے کہ انسان خود ایک تخلیق ہے جسے لامحدود جہت والی زندگی نے تخلیق کیا۔ اس قادر مطلق زندگی نے انسان کے طبعی جسم میں اپنی ذات کے کسی گوشے کا عکس ڈال کر انسان کو اپنی ذات سے ہم آہنگ کر دیا۔ یعنی انسان کے خالق نے اپنی ذات کا شعور دینے کے لیے انسان میں اپنی ایک نامعلوم جہت جسے روح کا نام دیا گیا داخل کر دی۔ اسی کے بموجب انسان اپنے خالق کو نظرانداز نہیں کر پاتا، ہر انسان خدا کے بارے میں سوچتا ہے اور ایک رائے رکھتا ہے، مانتا ہے یا انکار کرتا ہے، لیکن لاتعلّق نہیں رہ پاتا۔ اسی بحث میں انسان ہر دور میں الجھا رہتا ہے اور فلاسفر اپنا دماغ کھپاتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   "ایک تعلق جو ادھورا رہا تھا" - راحت نسیم روحی

کیا جدید دریافتیں اور علوم کی بلندی انسان کو اس قابل بناسکتی ہیں کہ انسان اپنی تخلیقات کا خدا بن جائے؟

اس بات کے قرائن ہمیں جدید روبوٹ کی انسانی تخلیق میں نظر آتے ہیں کہ شاید انسان کبھی اس قابل ہو جائے کہ روبوٹ کی برین چپ میں انسانی دماغ کے اعصابی سرکٹ کو اس طرح پیوست کرسکے کہ اس کی پروگرامنگ میں انسان کی ذات کا شعور ایک الیکٹرانک منطق کی طرح جذب ہوجائے۔ کیونکہ آخر کو انسان نائب بھی تو ہے، ایک عظیم الشّان خالق کا۔

انسان اسی ہم آہنگ compatible روحی شعور کے بموجب اس قابل ہے کہ اپنے خالق اور رب کو پہچان سکے۔ اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خالق نے اس شعور کے ساتھ انسان کو عقل بھی دی جو دلیل سے نتائج اخذ کرتی ہے۔ اس طرح انسان کے لیے ایک امتحان ترتیب پایا کہ دلیل سے خالق کو پہچانو یا رد کرو! پھرانسان کو دلیل میں گمراہ کرنے والا بھی انسان کے ساتھ کر دیا اور دلیل سے خالق کی پہچان کرانے والے بھی بھیجے۔

تو اے انسان اپنے رب کو پہچان،
نشانیوں سے، عقل سے، دلیل سے۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔