وژن ۔ نوید اقبال

کامیابی پہلے تصور اور خواب بنتی ہے اور پھر حقیقی تعبیر۔ جو کامیابی کا تصور ہی نہیں کر سکتا وہ اسے حاصل کیسے کر سکتا ہے؟

پرندوں کو فضاؤں میں اڑانیں بھرتے دیکھ کر انسان کے دل میں بھی اڑنے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ اس خیال کو عباس ابن فرناس نے حقیقت کا روپ دیا اور اپنے گلائیڈر کے ذریعے اڑتے ہوئے زمین کا نظارہ کیا۔

علامہ اقبال نے ایک ایسے وطن کا خواب دیکھا جہاں مسلمانان ہند اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں ۔ اس خواب کی تعبیر "پاکستان" کی شکل میں آج ہمارے سامنے ہے۔

چاند نگر کی باسی چرخا کاتنے والی بڑھیا کے قصے کہانیاں سن سن کے اور رات کو ٹمٹماتے تارے دیکھ کر، انسان نے خلاؤں کی تسخیر کا ارادہ باندھا جو خلائی سفر کی صورت میں ظہور پذیر ہوا۔

اسی خواب،خیال یا خواب وخیال کے آئینے میں مستقبل بینی کو انگریزی میں وژن(vision)کہا جاتا ہے۔عربی میں اس کو "رؤیة"سے تعبیر کیا جاتا ہے۔لیکن وہی خواب یا خیال وژن کہلانے کا مستحق ہے جسے محنت اور قربانی کر کے عملی شکل میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔محض خیالی پلاؤ اور خواب پریشان، وژن کہلانے کے مستحق نہیں۔

دوسرے لفظوں میں وژن سے مراد:"مستقبل کی وہ شکل و صورت یا تصویر ہے جسے کوئی شخص،کمپنی یا ادارہ،حقیقت کی صورت دیکھنا چاہتا ہے اور اس کے حصول کے لیے ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار رہتا ہے ۔"اس کی مزید وضاحت کے لیے مشہور ملٹی نیشنل کمپنی"نیسلے"کی وژن سٹیٹمنٹ ملاحظہ فرمائیے:" ایک معروف مسابقتی، غذائیت، صحت اور تندرستی سے متعلق کمپنی بننا، ایک پسندیدہ کاروباری شہری، پسندیدہ آجر، پسندیدہ مصنوعات فروخت کرنے والے پسندیدہ سپلائر ہونے کےذریعہ شیئر ہولڈر کو بہتر قیمت فراہم کرناہے۔"

مثبت، با مقصد اور قابل عمل وژن، منزل کا تعین کر کے،زندگی کو ایک رخ دے کر آگے بڑھنے کا شوق پیدا کرتا ہے اور استقامت کے ساتھ زندگی میں کوئی کردار ادا کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔بشرطیکہ اس کے لیے درکار قربانی دے دی جائے۔

اپنے مقاصد،عقائد،نظریات اور نکتہ نگاہ کے اعتبار سے وژن مختلف ہو سکتا ہے۔مثلا ایک کافر کا وژن دنیاوی زندگی کے فوائد و ثمرات سمیٹنے تک ہی محدود ہوتا ہے جبکہ ایک مسلمان اپنے وژن میں صرف دنیاوی فائدہ ہی نہیں دیکھتا بلکہ آخرت کے معاملات بھی اس کے پیش نظر ہوتے ہیں۔

جس طرح ہر خیال یا خواب، وژن نہیں ہوتا ایسے ہی ہر شخص وژنری نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اللہ تعالی کروڑوں لوگوں میں سے چن کر بعض کو وژن اور آئیڈیاز دیتا ہے۔ان کو محنت کرنے کی ہمت اور توانائی دے کر ان وژنز کو عملی صورت دینے کی توفیق بخشتا ہے۔

موجودہ دور میں تھنک ٹینک، وژنری لوگوں پر مشتمل پینل ہوتا ہے جو اپنے ملک و قوم کی ترقی کے لیےعملی منصوبے فراہم کرتا ہے۔

مغرب کی موجودہ ترقی، انہی تھنک ٹینک یا وژنری لوگوں کے پیش کردہ منصوبوں پر عمل کرنے کی وجہ سے ہے۔ وہ لوگ نہ صرف اپنے لوگوں کی قدر کرتے ہیں بلکہ دوسری قوموں کے ٹیلنٹڈ وژنری لوگوں کو کسی بھی قیمت پر اپنے ملک لانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی ترقی اتنی تیز تر ہے کہ ایک عالم ان کا دیوانہ ہے۔

ہمارے ملک میں وژنری لوگوں کی نا قدری ایک افسوس ناک امر ہے اور شاید اسی ناقدری کا نتیجہ ہے کہ ہمارا ملک ترقی یافتہ ملکوں کی پچھلی صفوں میں بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔اگر ہم اپنے ملک میں موجود ٹیلنٹ اور وژنری افراد کی قدر کر سکیں تو ترقی یافتہ ممالک کی اگلی صفیں کوئی ایسا خواب نہیں جو شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔