ہمارےتین لیڈروں کے عدالتی رویے - عمران زاہد

ہمارے دیہاتی بزرگ باباخیر دین، جن کی تمام عمر عدالتوں اور کچہریوں کے چکر کاٹتے گزری ہے، سرشام حقہ لے کر بیٹھک میں آ بیٹھتے ہیں۔ ملنے جلنے والے احباب وہیں جمع ہو جاتے ہیں۔ حقے کا دور بھی چلتا ہے اور گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے۔ ان کے قیمتی تجربات سے ہم بھی فیض یاب ہوتے ہیں۔ ان کے تجربات زیادہ تر عدالتوں اور وکیلوں کے گرد گھومتے ہیں۔ جس طرح سے لوگ باغبانی، ٹکٹیں اور سکے جمع کر نے کا مشغلہ اپناتے ہیں، بابا خیردین مقدمہ بازی کے رسیا ہیں۔ اکثر اوقات نوجوان وکلاء کو قانونی نکات کی وہ وہ باریکیاں بتاتے ہیں کہ وہ منہ میں انگلیاں داب کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے شوقین کلائنٹ کسی بھی وکیل کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں ہوتے، وکلاء کے رزق کا بندوبست بھی ہو جاتا ہے اور ان کو سیکھنے کے لیے بھی بہت کچھ نیا ملتا ہے۔

بابا خیر دین کے خاندان میں وکیل، تھانیدار اور پٹواری بھرے ہوئے ہیں۔ دیہاتوں میں ایسے گھرانے کو بہت زیادہ اثر و رسوخ والا سمجھا جاتا ہے۔ اپنی آل اولاد کو ان پیشوں میں ڈالنا بھی ان کے شوق کا حصہ ہے۔

پچھلی دنوں باباخیر دین بیٹھک میں بیٹھے اس موضوع پر روشنی ڈال رہے تھے کہ اگر کسی معاملے میں آپ واقعی قصور وار ہوں، اور آپ پر مقدمہ قائم ہو جائے تو کیا کیا قانونی داؤ پیچ لڑائے جا سکتے ہیں۔
:
عموما ً پہلا قدم تو عدالت سے باہر تصفیے کا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے پنچایتیں بٹھائی جاتی ہیں، گھرانوں کے بزرگ جمع ہوتے ہیں اور فریقین کا مؤقف سن کر تنازعہ کا تصفیہ کر ڈالتے ہیں۔ لیکن اگر اس کے باوجود سرکاری عدالت میں مقدمہ قائم ہو جائے تو آپ فیصلے سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل حربے اپناتے ہیں۔
(نوٹ: ہم ان میں سے وہ حربے نہیں لکھ رہے جس میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا ذکر ہے۔ ورنہ ہماری آنکھیں کیا نہیں دیکھ چکیں، نہ مدعی بچتا ہے نہ گواہ۔ سب کے سب پیوندِ خاک)
:
1– آپ عدالت کے حقِ سماعت کا انکار کرتے ہیں۔ عدالت کو باور کرواتے ہیں کہ وہ آپ کی مجاز نہیں ہے۔ عدالت اگر اسی نکتے پر آپ کی قائل ہو جائے تو آپ کا بہت وقت اور سرمایہ بچتا ہے اور آپ متوقع فیصلے سے ہونے والے ضرر سے محفوظ ر ہتے ہیں۔
بالفرض اگر عدالت اس نکتے پر آپ کی قائل نہ ہو تو مقدمہ کی سماعت کے عمل میں شریک ہونا پڑتا ہے۔ لیکن فکر نہ کریں، سماعت کے عمل کو بے نتیجہ بنانے کے لیے بھی آپ کے پاس بہت کچھ ہے۔
:
2– کیس کی سماعت شروع ہو ہی جائے تو آپ اس میں بار بار رخنہ ڈالتے ہیں۔ اس عمل کو تاخیر کا شکار کرتے ہیں۔ اسے چلنے ہی نہیں دیتے۔ کبھی مطلوبہ کاغذات جمع نہیں کرواتے، کبھی (اپنی یا وکیل کی) بیماری کا بہانہ کرتے ہیں، کبھی شہر میں نہ ہونے کا عذر پیش کرتے ہیں اور تاریخ پہ تاریخ لیتے جاتے ہیں۔ بعض اوقات جج بھی چھٹی پر ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر مقدمات کی بھرمار کے سبب کسی بھی جج کے لیے مقدمات کو تیزی سے سننا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے طویل تاریخیں دی جاتی ہیں اور مقدمہ تاخیر کا شکار ہوتا جاتا ہے۔ اس تاخیر کے نتیجے میں اکثر ججوں کی مدتِ ملازمت مکمل ہو جاتی ہیں اور انھیں ریٹائر ہونا پڑتا ہے۔ بعض اوقات جج حضرات کو قدرت کا بلاوا آ جاتا ہے اور کیس نئے سے نئے ججوں کے پاس جاتا رہتا ہے۔ جس کے پاس بھی کیس جاتا ہے، اسے تقریباً شروع سے کیس کو سمجھنا پڑتا ہے، لہٰذا مزید وقت ضائع ہوتا ہے۔ فیصلہ جتنا دیر سے ہوگا، آپ اتنی دیر تک محفوظ رہیں گے۔
:
3 – آپ اپنا وکیل بار بار تبدیل کرتے ہیں۔ بعض اوقات حقیقی وجوہات کی بنیاد پر وکیل تبدیل کرنا پڑتا ہے جیسے کہ وکیل کی وفات یا وکیل خود معذرت کر لیتا ہے۔ لیکن ہم وکیل کی اس تبدیلی کی بات کر رہے ہیں جو جان بوجھ کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مقدمے کی کارروائی میں روڑے اٹکانے کے لیے کی جاتی ہے۔ ہر نئے وکیل کو تیاری کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ عدالت بھی عموماً اس عذر کو تسلیم کرتی ہے۔ اسی عذر کے سبب لمبی لمبی تاریخیں پڑتی ہیں۔ عدالتی عمل میں یہ تاخیر بیماری اور سفر کی چھٹیوں کے علاوہ ہے۔ اس تاخیر سے بھی آپ فیصلے کے "شر" سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
:
4 – فریقِ مخالف کا وکیل خرید لیتے ہیں۔ بعض اوقات وکلاء کے پیشے میں کالی بھیڑیں اپنے کلائنٹ، خصوصاً اگر وہ بے وسیلہ اور غریب ہو، کو دھوکا دینے میں حرج نہیں سمجھتیں۔ جھوٹ کے کاروبار میں جھوٹ کو روا سمجھا جاتا ہے۔ فریقِ مخالف کا وکیل آپ سے مل گیا تو مقدمے کو خراب کرنے یا اس کو تاخیر کا شکار کرنے میں آپ کے ساتھ پورا تعاون کرے گا۔
:
5- آپ جج کے ضمیر کو ہی خرید لیتے ہیں۔ کمزور ایمان کے منصف بعض اوقات دباؤ، حرص، خوف یا طمع کی وجہ سے کسی فریق کے ہاتھوں بک جاتے ہیں۔ ایسے منصف مقدمے میں آپ کی مرضی کے مطابق فیصلہ دے سکتے ہیں، یا کوئی ایسا قانونی فائدہ پہنچا دیتے ہیں جو آئندہ سماعتوں میں آپ کے کام آتا ہے۔
:
اوپربیان کردہ طریقوں سے عموماً کیس کئی کئی دہائیوں تک لٹکائے جا سکتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کوئی بہت ہی انصاف پسند جج آ جائے اور وہ آپ کے بے جا عذروں کو قبول کرنے اور آپ کی دولت یا طاقت کے سامنے اپنا ایمان فروخت کرنے سے انکار کر دے تو پھر نکتہ نمبر 6 پر عمل کیا جاتا ہے۔
:
6 – جب عدالت فیصلہ کرنے پر تُل ہی جائےتو پھر آپ عدالت کو متنازع بنا دیتے ہیں۔ اگر کوئی عدالت متنازع ثابت ہو جائے تو اس کا درست فیصلہ بھی رد ہو جاتا ہے۔ متنازع کرنے کے لیے عموماً جج کا فریقِ مخالف سے قرابتی، کاروباری یا کوئی اور تعلق نکالا جاتا ہے۔ جج کا کسی بھی فریق سے تعلق اس کی غیر جانبداری کو متاثر کرسکتا ہے۔ بعض اوقات جج صاحب کی سماعت کے دوران ہونے والی غلطی کو بھی جج یا اس کے فیصلے کو متنازع بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بڑی عدالت میں متنازع فیصلے بہت جلدی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کیسے ملک ریاض نے اپنے خلاف ہونے والے مقدمات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایک چیف جسٹس کے بیٹے کو اپنے جال میں اتارا، اسے اپنے خرچے پر بیرون ملک دورے کروائے اور اس کی رسیدیں سنبھال کر رکھیں۔ مناسب وقت پر ان ثبوتوں کو میڈیا میں لا کر چیف جسٹس کی عدالت کو متنازعہ کر دیا۔ اس وقت سے لیکر آج تک ان مقدمات کا فیصلہ نہیں ہو پایا۔
:
ان سارے حربوں سے عموماً فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور اگر فیصلہ ہو بھی جائے تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو پاتے۔ بالفرض کسی جائیداد پر آپ کا ناجائز قبضہ ہے، بیس پچیس سال تک اس کا فیصلہ ہو بھی جائے تو کیا حاصل؟ اتنے عرصے میں تو اکثر مدعی ہی اللہ کا پیارے ہوجاتے ہیں۔
:
یہ نہ سمجھیے یہ تمام حربے استعمال کرنے والے کوئی مجرم طبع، ان پڑھ، جاہل اور گنوار قسم کے لوگ ہیں۔ واللہ ان میں سے اکثر ایسے لوگ ہیں جو بہترین تعلیم یافتہ، بیرونی یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے، اعلی عہدوں پر فائز اور عوام کے مخصوص حلقوں میں بہت اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ اور بدقسمتی سے یہ ہمارے لیڈر بھی ہیں۔ آپ کو تین مثالیں پیش کرتے ہیں۔
:
آصف علی زرداری:
-----------
آصف زرداری جو کرپشن کے معاملے میں بدنام ترین ہیں اور ان پر طویل ترین مدت کے لیے مقدمات چل چکے ہیں۔ انھیں نے اپنی زندگی کے سات آٹھ سال جوڈیشل کسٹڈی میں گزارے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی ایک مقدمے کا بھی ان کے خلاف فیصلہ نہیں ہو سکا۔ آخر یہ چمتکار کیسے ہو گیا؟

یہ بھی پڑھیں:   ہر لفظ کے آئینے میں ہے چہرہ اپنا - حبیب الرحمن

مشہور صحافی مبشر لقمان کے مطابق مشرف دور میں آصف علی زرداری صاحب نے اپنے خلاف کرپشن کے مقدموں کی تقریباً آٹھ سو سے زائد تاریخیں لیں۔ کبھی وکیل بیمار ہوتا تھا، کبھی بیرونی دورے پر ہوتا تھا اور کبھی زرداری صاحب بیمار ہوتے تھے۔ کئی جج تبدیل ہوئے۔ جج بھی تاریخ دینے میں حرج نہیں سمجھتے تھے کہ وہ خود کو کسی سیاسی تنازع میں ملوث نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اگر یہ تاریخیں روزانہ کی بنیادوں پر لگیں تو سوا دو سال کا عرصہ بنتا ہے۔ جبکہ آپ جانتے ہیں کہ تاریخیں روزانہ کی بنیادوں پر کبھی نہیں دی جاتیں، یہ کبھی ہفتوں اور کبھی مہینوں کے وقفے سے دی جاتی ہیں۔ زرداری صاحب کامیابی سے تقریباً آٹھ سال کا عرصہ بغیر کسی فیصلے کے گزارنے میں کامیاب رہے۔ زرداری صاحب کی خوش قسمتی کہ اتنا وقت بِتانے کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو اور مشرف کے درمیان سیاسی گفت و شنید شروع ہوگئی اور زرداری صاحب کو اعتماد سازی کی علامت کے طور پر رہا کر دیا گیا۔ بعد میں زرداری صاحب خود صدر بن گئے۔ جب ان کی اپنی حکومت آ گئی تو سوئس عدالتوں میں حکومتِ پاکستان کے طرف سے لڑے جانے والے مقدمے سے دستبردار ہوگئے۔ اپنے سفیر کے ذریعے تمام ثبوتوں کو وکیل سے لیکر کر ضائع کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ اپنے تمام تر اختیار اور کوشش کے باوجود سوئس عدالتوں میں وہ مقدمہ بحال نہیں کروا سکی۔

آصف علی زرداری صاحب ایک کیس اسٹڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ واحد سیاستدان ہیں جن کے قانونی و سیاسی داؤ پیچ کے سامنے ہمارے بابا خیر دین بھی کان پکڑتے ہیں۔

میاں نواز شریف:
-------
نوازشریف صاحب کا سیاسی کیرئیر مقدمات سے بھرا ہوا ہے، لیکن انھیں عموماً ہمدرد جج میسر آئے ہیں۔ جب ان کو پہلی مرتبہ 1992ء میں وزیرِاعظم کے عہدے سے معزول کیا گیا تو سپریم کورٹ کے ججوں نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی حکومت کو بحال کر دیا۔ صدر غلام اسحٰق خان کے وکلاء حکومت کی معزولی کے حکم نامے کا دفاع نہیں کر پائے تھے۔
:
میاں صاحب کے دوسرے دورِ حکومت میں سپریم کورٹ (چیف جسٹس سجاد علی شاہ) نے ان کے خلاف توہین عدالت کے ایک مقدمے میں سزا کا عندیہ دیا تو سپریم کورٹ پر دھاوا (28 نومبر 1997ء) بول دیا گیا، جس کے نتیجے میں چیف جسٹس کو مقدمے کی سماعت روکنی پڑی۔ اس دھاوے سے تئیس دن قبل میاں صاحب نے قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی اور اپنے معتمد ساتھیوں سے ایسا طریقہ وضع کرنے کے لیے مشورہ کیا جس کے تحت چیف جسٹس کو استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش کیا جا سکے اور اس کے بعد جمہوری حکومت کے خلاف سازش کرنے کے جرم میں جیل بھجوایا جا سکے۔گوہر ایوب خان نے اپنی خود نوشت میں اس سارے واقعے کی تفصیل درج کی ہے۔ گوہر ایوب نے انہیں اس پاگل پن سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا۔

آج کل پانامہ کے مقدمے میں عدلیہ اور جے آئی ٹی کے تیکھے تیور دیکھتے ہوئے نون لیگ کے وزراء نے اسے متنازع بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ عدلیہ کی جے آئی ٹی بنانے کے لیے ایس ای سی پی کے سربراہ کو پراسرار وٹس ایپ ( یا فیس ٹائم) کالز، خفیہ اداروں سے خفیہ رپورٹس، نامعلوم ذرائع سے حسن نواز کی تصویر کا لیک ہونا، بعض جے آئی ٹی ممبران کے سیاسی مخالفین سے خاندانی تعلقات اور قطری شہزادے سے بیان کے نہ لیے جانے کو بنچ اور ٹیم کو متنازعہ بنانے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان عوامل کو اسٹیبلشمنٹ کی جمہوریت کے خلاف سازش کی علامات قرار دیا جا رہا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ اپنے خلاف آنے کی صورت میں عدلیہ کے فیصلے کو اس قدر متنازع بنا دیا جائے کہ عوام میں اس کی حیثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہ رہے۔ ایک دفعہ یہ فیصلہ متنازعہ ہو گیا تو اس کی بنیاد پر عوام سے ہمدردی کے ووٹ حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔
:
عمران خان :
------
سن 2015ء کے اوائل میں ان کی پارٹی کے ہی ایک ناراض ورکر نے شکایت درج کروائی کہ عمران خان صاحب نے غیر قانونی بیرونی ذرائع سے اپنی پارٹی کے لیے فنڈز جمع کیے، لیکن انھیں الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن نے اس کیس کی سماعت شروع کی تو اس کے بعد سے اوپر بیان کردہ تمام تاخیری حربے استعمال کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا خطاب، وابستہ توقعات اور میری رائے - منیم اقبال

1- الیکشن کمیشن کے حقِ سماعت کا انکار کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نہیں مانا تو اس کے حقِ سماعت کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں مقدمہ پیش کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی سماعت کو الیکشن کمیشن میں مقدمے کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے وکلاء کی یہ استدعا قبول نہیں کی۔

2۔ الیکشن کمیشن پر عوامی احتجاج کا دباؤ ڈالنے کی دھمکی دی گئی، تاکہ کمیشن کو ڈرایا جا سکے اور اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کیا جا سکے۔ کمیشن نے ان بیانات کو بھی درخورِ اعتنا نہ سمجھااور دھونس میں آنے سے انکار کر دیا۔

3۔ کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگایا گیا۔ اسے متعصب اور جانبدار کہا گیا۔ اس کے خلاف عوام کوگھروں سے نکالنے کی بات کی گئی۔ اس کی توہین کی گئی۔ کمیشن کے استفسار پر پی ٹی آئی کے وکیل نے معافی نامہ جمع کروایا تو ایک ٹی وی پروگرام میں عمران خان صاحب نے فرمایا کہ وہ معافی انھوں نے نہیں، وکیل نے اپنی ذاتی حیثیت میں مانگی ہے، وہ بد ستور اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ الیکشن کمیشن اس بیان کو بھی توہینِ عدالت گردانتا ہے۔ اس سلسلے میں خان صاحب کو بار بار وضاحت کرنے کے لیے تاریخ پر تاریخ دیے جا رہا ہے، لیکن جواب ہے کہ جمع ہی نہیں ہو رہا۔ اصل مقدمے کے ساتھ ساتھ اب یہ مقدمہ بھی چل رہا ہے۔

4۔ وکیل تو اتنی با ر تبدیل کیے کہ ان کے نام بھی یاد نہیں رہے، قریباً درجن بھر کے قریب تو وکیل تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان میں سے حامد خان، انور منصور خان، فواد چودھری، شاہد گوندل اور بابر اعوان کے نام یاد رہ گئے ہیں۔ بابر اعوان ان کے نئے وکیل ہیں۔

5۔ کبھی سفر اور کبھی بیماری کا حربہ استعمال کیا گیا۔ توہین عدالت کے جواب میں بیان جمع کروانے کا کہا گیا تو وکیل صاحب کی طرف سے ایک دفعہ یہ کہہ دیا گیا کہ عمران خان صاحب سے بات نہیں ہو سکی کیونکہ وہ نتھیا گلی میں ہیں۔ تقریباً پندرہ دن بعد کی تاریخ میں یہ عذر پیش کر دیا گیا کہ وہ چترال گئے ہوئے ہیں۔گویا صرف ایک بیان جمع کروانا ایک امرِ محال بن چکا ہے۔

ان تمام تاخیری حربوں کے سبب یہ مقدمہ قریباً ڈھائی سالوں سے التواء کا شکار ہے۔ انہیں امید ہے کہ ان حربوں سے مقدمے کو اس قدر کھینچا جائے کہ الیکشن کمیشن تبدیل ہو جائے یا اپنی مرضی کی حکومت آ جائے، کوئی ہمدرد کمیشن آ گیا تو مقدمہ خارج کرانے میں آسانی ہوگی۔ آخری امید یہ ہے کہ مدعی ہی اللہ کو پیارا ہو جائے۔

عمران خان کی طرح کمیشن کو متنازعہ بنانے کا مقصد وہی ہے جو مسلم لیگ نون کی طرف سے جے آئی ٹی اور عدالتی بینچ کو متنازعہ کرنے کا ہے۔ یعنی اپنے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں اسے عوام میں غیر مقبول کیا جائے اور واویلا کر کے ہمدردی کے ووٹ لیے جا سکیں۔ فیصلہ آنا ہی آخری منزل نہیں ہے۔ اس کے بعد فیصلے کو بالائی عدالتوں میں چیلنج کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور وہاں بھی یہی تاخیری حربے استعمال کر کے مقدمے کو بے اثر بنا دیا جاتا ہے۔
:
اوپر بیان کردہ افراد مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہ ہیں۔ قوم کی قیادت کر رہے ہیں۔ ہماری قوم ان سے تبدیلی، بہتری، اور ترقی کی امید لگا کر بیٹھی ہوئی ہے۔ آخری تجزیے میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ ویسے جتنی مرضی قانون کی عملداری کی باتیں کرلیں لیکن جب معاملہ عمل کا آتا ہے تو سب انصاف کے عمل کو تاراج کرنے کے لیے ایک جیسے حربے استعمال کرتے ہیں۔

علامہ اقبال مرحوم نے اپنے ایک مصرعے میں بڑی خوبصورتی سے اس حقیقت کا اظہار کیا تھا کہ تبدیلی کے دعویدار ہوں یا اسٹیٹس کُو کے علمبردار، اس حمام میں سب ایک سے ہیں۔
؎
زمامِ کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا!
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی کے نمائندے ایک دوسرے پر اداروں کا احترام نہ کرنے اور اداروں کو متنازع بنانے کا الزام تواتر سے لگا رہے ہیں۔ بہت محتاط الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملے میں دونوں ایک دوسرے کے بارے میں سو فیصد سچ بول رہے ہیں۔

عمران خان صاحب مسلم لیگ نون کے بارے میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ سچے ہیں تو تلاشی کیوں نہیں دے دیتے۔ اگر چوری نہیں کی تو تلاشی کا کیا ڈر۔ حیرت کی بات ہے کہ اپنے معاملے میں عمران خان صاحب اپنے اس بیان کو فراموش کر بیٹھے اور خود تلاشی سے مسلسل بھاگے چلے جا رہے ہیں۔

سب سے دلچسپ بیان بلاول بھٹو زرداری کا ہے۔ کراچی میں حلقہ پی ایس 114 کی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ایک تقریر میں کہا کہ : "عمران اور نواز دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں"۔

یادش بخیر، کبھی قاضی حسین احمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ عمران صاحب بھی مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی میں "مک مکا" کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔

آپ لوگ خود سمجھدار ہیں، ہمارے لیڈران کے عدالتی معاملات میں ایک جیسے رویوں پر الف برابر بے، بے برابر جیم، پس الف برابر جیم کی مساوات خود حل کر لیجیے۔