چور پکڑے کب جاتے ہیں؟ - عبد الباسط بلوچ

ایک بزرگ نے مجھ سے پوچھا یہ سیاسی شور کیساہے؟ میں نے بتایا کہ ایک کہتا ہے آپ نے چوری کی ہے، دوسرا کہتا ہے کہ ثابت کرو۔ یہ چھوٹے چور اور بڑے چور کا معاملہ ہے۔ اب دیکھتے ہیں کب اور کیسے حل ہوتا ہے؟ بزرگ مسکرائےاور کہنے لگے، پتر! او چور ہی کس بات کا جو نشان چھوڑ جائے؟ میں نے کہا بعض دفعہ چور پکڑے جاتے ہیں۔ اس پر ان کا سیدھا سا جواب تھا پکڑے نہیں پکڑوائے جاتے ہیں، اندر سے کوئی مخبری کر دیتا ہے یا اس کے نصیب اچھے ہوں جس کی چوری ہوئی ہو یا پھر بندہ ڈنڈے والا ہو جو چور تک پہنچ جائے۔

اس بابا جی کی ان باتوں کو میں جب موجودہ حالات پر پرکھتا ہوں تو میرے سامنے ساری صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔سمجھدار چور تو نشان ہی مٹا دیتا ہے جیسے پچھلے حکمران اور ان کے حواری اور بڑے بیوروکریٹ،جو ہر چیز کو سمجھتے اور جانتے ہیں۔دوسری قسم کے وہ ہیں جن کی مخبری اندر کے کر دیتے ہیں ان کو پھر یا تو دے کر چھوٹنا پڑتا ہے یا پھر وہ سرے سے مکر جاتے ہیں کہ ہم نے یہ سب کیا ہی نہیں۔ یوں ساری صورتحال ان کے خلاف پیدا کی گئی ہو۔تیسری بات نصیب اچھے کی ہے۔ دیکھتے ہیں ملک کا نصیب اچھاہے یا چوروں کا؟ لگتا ہے نصیب جاگنے کو ہیں۔آخری بات بندہ ڈنڈے والا ہو۔اگر صورتحال دیکھی جائے تو عمران خان کے رویے، انداز اور طریقہ کار سے لاکھ ہمیں اختلاف ہو،لیکن بندہ سر پھرا ہے۔ جب سے لگا ہے جس طرح لگا ہے ہر کوئی اس کو پاگل سمجھ رہا ہے۔لیکن اس کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ لگ رہا ہے اس نے چوروں کو چور ہونے کا احساس کروا دیا ہے اور عوام کو باور کروا دیا ہے بڑی کلغی والے بڑے چور ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   لندن سے ’جے آئی ٹی‘ تک - حافظ یوسف سراج

لیکن سوال یہ ہے کیا یہ جنگ مفاد کی ہے یا کرسی کون جیتے گا کی؟ اس بارے میں دیکھنا اور سوچنا ہو گا۔ بات وہی ہے چور اور پکڑنے والے سارے ہی ڈنڈے والے ہیں۔ عوام کا کیا قصور ہے؟ یہ سوال باقی ہے۔