آزادی کا سپاہی برہان وانی شہید - قادر خان یوسف زئی

مقبوضہ کشمیر ایک ایسی بدقسمت مسلم اکثریتی وادی ہے جو جنت نظیر کہلاتی ہے لیکن اسے بھارتی انتہا پسندفورسز نے جہنم بنا دیا ہے۔ جہاں بہاروں میں پھول کھلتے ہیں تو اس کی خوشبوؤں میں شہیدوں کے خون کی خوشبو بھی شامل ہوتی ہے اور حریت اور آزادی کا پیغام دنیا بھر کے لوگوں کے ضمیرکو جھنجھوڑنے کے لیے ہوتا ہے۔ جنت نظیر وادی کے نوجوانوں کی زندگیاں پیلٹ گنز، گولہ بارود اور بھارتی عقوبت خانوں میں سفاکیت کی نذر ہو رہی ہے۔ سات لاکھ فوجیوں کی حامل بزدل بھارتی فورس نہتے کشمیریوں کو جیپ کے آگے باندھ کر وادی بھر میں گھماتی ہے تاکہ اپنی بہادری کا بھرم جھاڑ سکے اور اس بہادری پر اپنی انتہا پسند حکومت سے تمغے حاصل کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ایسے وقت میں انسانیت کے نام نہاد علمبرداروں کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں ۔جب بربریت، سفاکیت اور جنگی وحشت حد سے بڑھ جاتی ہے تو اس قوم میں فرعون کے خلاف ایک موسیٰ پیدا ہوتا ہے جو اُن میں حریت کی ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔ گو کہ اس کی زندگی مختصر ہوتی ہے لیکن اس کی جدوجہد اس طرح ضرب المثل بن جاتی ہے کہ صدیوں تک اس کے بعد کے چراغ اس کے لہو سے روشن رہتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے گاؤں شریف آباد کے اسکول ٹیچر مظفر احمد وانی کو علم نہیں تھا ک ہ 19 ستمبر 1994 کو اُن کے گھر وہ شخصیت پیدا ہو رہی ہےجو 8 جولائی 2016ء میں کوگرناگ مقبوضہ کشمیر میں شہادت کا رتبہ حاصل کرکے تحریک آزادی کا عظیم استعارہ بن کر کشمیریوں کے لہو گرمائے گااور آزادی کی منزل کو قریب سے قریب تر لے آئے گا۔مظفر احمد وانی اپنے نوجوان بیٹے کے دل و دماغ میں شہادت کی آرزو سے بے خبر نہیں ہونگے اور انھوں نے بھی لاکھوں انتہا پسند بھارتی فورسز کے مقابلے میں اکیلا کیا کرلے گا کہہ کر، وانی شہید کو گھر سے الودع نہیں کیا تھا۔ اسی لیے 15سال کی عمر میں ایک حریت و آزادی پسند تنظیم میں گھر سے بھاگ کر 2010میں شمولیت اختیار کرلی۔ 15 برس کا نوجوان جس کی عمر اور جولانی متقاضی تھی کہ وہ اپنی نوجوانی و کم سنی کی عمر میں سیر و تفریح و شرارتوں کی بہار جیسی زندگی کو قبول کرتا، اس نے اپنی جوانی اُن نوجوانوں اور اپنی کشمیر کی ماں بہنوں اور بیٹیوں کے نام کردی، جو ہر لمحہ بھارت کی سفاکیت کا شکار ہو رہے تھے۔ 2011ء میں حزب المجاہدین میں شمولیت کے ساتھ سماجی رابطوں پر وانی کی مقبولیت کی بنیادی وجہ اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو بھیجنا تھا، جس سے کشمیر کی آزادی کے لیے جانثاران کشمیر کے دلوں میں بھارت کے خلاف موجود نفرت اور پاکستان سے محبت میں مزید اضافہ ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا حل کیا ہے؟-رضوان احمد غلزئی

مظفر احمد وانی کے بڑے بیٹے خالد مظفر وانی شہید کو انتہا پسند بھارتی فوج نے2015میں شہید کردیا۔بھارتی فوج نے دعوی کیا کہ خالد مظفر وانی 2015 میں اپنے بھائی کے ساتھ مسلح تنظیم میں شمولیت کے لیے جا رہے تھے۔ جبکہ پولیس نے فوج کے اس بیان کی تصدیق نہیں کی۔ خالد مظفر وانی کو اس لیے شہید کیاگیا کیونکہ برہان وانی شہید نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں نوجوانوں کو بھارتی انتہا پسندوں کے خلاف جہاد کی ترغیب و اپیل کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اب تک 30کشمیری نوجوان بھرتی ہوچکے ہیں۔ بھارتی حکومت نے برہان وانی شہید کے سر کی قیمت دس لاکھ روپے رکھی ہوئی تھی، لیکن بھارتی حکومت کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ شہید ہونے والے اپنی زندگیوں کا سودا تو پہلے اپنے رب سے کرچکے ہوتے ہیں، اسلام دشمنوں کو انھیں ان کے ایک بال کی قیمت ادا کرنے کے لیے سو بار جنم لینا ہوگا تب بھی شہادت کی آرزو اور مجاہد کو اپنے جذبے سے ہراساں نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ شہید کی موت، قوم کی حیات ہے اور جو اللہ کی راہ میں شہید ہوجاتے ہیں، وہ کبھی مرا نہیں کرتا ۔

برہان وانی شہید مسلم اکثریت کو ختم کرنے کے لیے ہندو ؤں کی اسرائیلی طرز پر آباد کاری کے شدید مخالف تھے لیکن کشمیری ہندو پنڈت کی کشمیر میں رہنے کے مخالف نہیں تھے۔ ہندو زائرین پر حملے کے بھی مخالف تھے اور اپنے ساتھی مجاہدوں کو بھی اس عمل سے روک دیا تھا کہ ہندو زائرین پر حملہ نہیں کیا جائے۔ وہ بھارتی فوجیوں پر تواتر سے حملوں کی دھمکیاں دیتے اور ان پر موقع ملتے ہی حملہ کرکے جانی نقصان پہنچایا کرتے تھے۔ایک ایسی ہی جھڑپ میں برہان وانی اپنے دو دوستوں کے ساتھ شہید کردیئے گئے۔ان کی شہادت کی اطلاع مقبوضہ کشمیر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کے طویل ترین احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں اب تک سینکڑوں کشمیریوں کو شہید اور زخمی کیا جا چکا ہے۔کشمیری رہنماؤوں نے بھی اس کی مذمت کی اور کٹھ پتلی حکومت نے کئی رہنماؤں کو حراست جبکہ کچھ کو نظر بند کردیا۔وادی میں سوشل میڈیا پر پابندی اور انٹر نیٹ کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی۔برہان وانی شہید کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور انھیں اپنے بھائی کے پہلو میں پاکستان پرچم میں لیپٹ کر آخریآرام گاہ میں دفنا دیا گیا۔ بھارت کو گمان تھا کہ ان کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت کی تحریک کو نقصان پہنچے گا۔ لیکن برہان وانی کی شہادت اور پھر مظاہروں نے دنیا کی توجہ ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر کی طرف مبذول کرادی۔ مگر بھارتی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق عمل کرانے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھانے کو تیار نہ ہوا۔ بلکہ امریکہ نے سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیکر بھارت کا ساتھ دیا اور حالیہ اسرائیلی دورے میں اسرائیل نے پاکستان اور کشمیر کے خلاف بھارت کی حمایت کا اعلان کرکے واضح پیغام دیا کہ انھیں ہزاروں کشمیریوں کی بھارتی افواج کے ہاتھوں شہادت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کوئی دکھ نہیں ہے۔ لیکن پاکستان نے کھل کر مقبوضہ کشمیر پر اپنی حمایت کے عزم کو جاری رکھتے ہوئے امریکی فیصلے کو رد کردیا اور مذمت کی۔ کشمیر میں امن بحال کرنے کے لیے علیحدگی پسند کشمیری بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے ایک خط بھارتی اور عالمی برادری کو لکھا جس کے نکات یہ تھے۔جموں کشمیر کی متنازع حیثیت اور اس کے باشندوں کا حق خودارادیت تسلیم کیا جائے۔آبادی والے علاقوں سے فوجی انخلاء، عوام کُش فوجی قوانین کا خاتمہ۔تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، نظربندی کے کلچر کا خاتمہ اور مسئلہ کشمیر سے جڑے سبھی سیاسی مکاتبِ فکر خاص طور پر حق خودارادیت کے حامی سیاسی رہنماوں کو سیاسی سرگرمیوں کی آزادی۔اقوام متحدہ کے خصوصی مبصرین اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے مشاہدین کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا حل کیا ہے؟-رضوان احمد غلزئی

انھی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے سال 2017 کو کشمیر کا سال اور 8 جولائی کو برہان وانی کا دن قرار دیا گیا جو بھارت پر بجلی بن کر گرا۔وانی شہید کی شہادت کیا ہوئی کہ جیسےکشمیر میں ہر کشمیری شہادت کی آرزو لیکر اٹھ کھڑا ہوا اور "ہم کیا چاہتے ؟۔ آزادی۔۔ ہم کیا چاہتے ؟۔۔آزادی "کے نعروں اور مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کی سب سے طویل ترین مظاہروں نے مودی سرکار کو حواس باختہ کردیا۔ نریندر مودی کی انتہا پسند پالیسیوں کی وجہ سے جنوبی ایشیا اور عالمی امن خطرے و ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جب اقوام متحدہ کے اجلاس میں برہان مظفر وانی شہید کو "آزادی کا سپاہی"قرار دیکر زبردست خراج عقیدت پیش کیا تو بھارت انتہا پسندوں کی رگ رگ میں آگ بھڑک اٹھی اور اپنا غصہ اور اشتعال مقبوضہ کشمیر میں مزید مظالم کے ذریعے نکالا۔ لیکن برہان وانی شہید نے بتادیا کہ کشمیریوں کو کبھی اسلحے کے زور پر فتح نہیں کیا جاسکتا اور ان کے دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں۔