جیت تو ”دلیل“ کی ہوتی ہے - عابد محمود عزام

کچھ روز قبل چند دوستوں کے ساتھ بیٹھے بلاگز، کالمز اور مضامین کی مختلف ویب سائٹس کی بات ہورہی تھی کہ کون سی ویب سائٹ کتنی کامیاب اور کس ویب سائٹ سے آگے ہے۔ کبھی ایک سائٹ کا دوسری سے تقابل کرتے اور کبھی دوسری کو تیسری سے بہتر بتاتے۔ اس ضمن میں سب کی مختلف آراءتھیں۔ اسی دوران میں نے ”دلیل“ کا ذکر چھیڑ دیا۔ دوست کہنے لگے کہ ”دلیل“ کی تو بات ہی نہ کیجیے، کیونکہ اس ویب سائٹ سے کسی کا کیا مقابلہ؟ یہ تو آئی اور چھا گئی اور چھائی بھی ایسی کہ ہر دن اس کی بلندی میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ یہ بات تو مخالفین کو بھی ماننا پڑے گی کہ ”دلیل“ نے مختصر عرصے میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ ”دلیل“ سے پہلے اسلامسٹس سوشل میڈیا پر لاچار سے لگتے تھے۔ ”ہم سب“ سیکولر نظریات کی ترویج و اشاعت کے لیے میدان میں تھی۔ اس پر اگرچہ دائیں بازوں کے افراد کی تحریریں بھی شایع ہوتی تھیں، لیکن دائیں بازوں کے افراد ایک اپنا پلیٹ فارم کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔ خصوصاً معتدل اسلام پسندوں کے پاس کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں تھا، جس کے ذریعے وہ دلیل کی طاقت سے مدمقابل کو چت کرسکیں۔ انفرادی طور پر بہت سے افراد سیکولرز کا مقابلہ کر رہے تھے، لیکن انفرادی محنت کسی صورت بھی اجتماعی محنت کا بدل نہیں ہوسکتی اور جب انفرادی محنت کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہوتے تو بہت سے اسلام پسندوں کے لہجے میں تلخی اور غصہ، جبکہ تحریروں میں جذباتیت صاف دکھائی دیتی تھی، جو باوزن بات کو بھی ہلکا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

اگرچہ ”دلیل“ کسی رقابت کے جذبے سے سامنے نہیں آئی، بلکہ مقصود صرف مکالمہ ہی تھا اور ہے، مگر اس سے دائیں بازوں کے افراد کو ایک معتدل پلیٹ فارم ضرور ہاتھ لگ گیا ہے، جہاں وہ اپنی نظریاتی جنگ دلیل کے بل بوتے پر جیت سکتے ہیں۔ بنیادی طور پہ ”دلیل“ دائیں بازو کے لکھاریوں کے لیے عمدہ پلیٹ فارم ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بائیں بازو کے افراد کے لیے یہاں دروازے بند ہیں، بلکہ بائیں بازو کے افراد بھی یہاں کھل کر لکھ سکتے ہیں، مگر چاہے دائیں بازو کے احباب ہوں یا دائیں بازوں کے احباب،دلیل شرط ہے، کسی کی بات، کسی کی تحریر دلیل سے خالی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ دلیل و مکالمہ ہی صحت مند معاشرے کو تشکیل دیتا ہے اور بات سننے کا حوصلہ بخشتا ہے۔ زمانہ دلیل کا ہے۔ جو دلیل کی بنیاد پر بات کرتا ہے کامیابی اسی کے قدموں کا بوسہ لیتی ہے۔

”دلیل“ کے بعد متعدل اسلام پسندوں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم میسر آگیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا کے دنگل میں ”دلیل“ نے ہر مدمقابل کو چت کردیا ہے۔ یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ کسی کے خلاف مخالفین مل کر کتنا ہی پروپیگنڈہ کرلیں، لیکن جیت ہمیشہ دلیل کی ہوتی ہے۔د لیل دراصل انسانی دانش و فائدے کی ضامن ہے اور دلیل ہی ہر زندگی کی بنیاد ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جب کہیں چاروں اطراف سے آوازوں کا شور ہو اور ہر کوئی اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہو، تو ایسے میں فتح صرف دلیل کا مقدر بنتی ہے، سو وہ ہوئی، لیکن افسوس ہمارے معاشرے میں سب سے کم پائے جانے والی چیز ”دلیل“ ہی ہے۔ لوگ دلیل کی بجائے گالی سے بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لوگ اپنے مخالفین پر نت نئے اور بے ڈھنگے الزامات کی بھرمار کردیتے ہیں۔بات مفروضوں سے ہوتی ہوئی پروپیگنڈے کا روپ دھار لیتی ہے، لیکن یہ دعوے دلیل سے بالکل خالی ہوتے ہیں.... خصوصاً سوشل میڈیا ایسا پلیٹ فارم ہے، جہاں ہر شخص اپنی بات کرنے میں آزاد ہے، کسی کو کوئی بات کہنے لکھنے میں کوئی روک ٹوک نہیں ہے، تقریباً ہر دوسرا شخص بغیر دلیل کے بات کر رہا ہے۔ کسی کی پگڑی اچھال رہا ہے۔ کسی پر الزام لگا رہا ہے۔ ایسے میں بھی ایک ایسے پلیٹ فارم کی اشد ضرورت تھی، جو نہ صرف خود دلیل سے بات کرے، بلکہ سوشل میڈیا پر بغیر دلیل کے بات کرنے کے ٹرینڈ کے مقابلے میں دلیل کے ساتھ بات کرنے کا رجحان پیدا کرے۔ سو یہ کام ”دلیل“ نے کیا اور بہت خوب انداز میں کیا۔ سوشل میڈیا کے افق پر ”دلیل“” نمودار ہوئی، جس کی کرنیں پڑھنے والوں کو تہذیب، امن اور شائستگی کا خوگر بنا نے لگیں۔ ”دلیل“ نے جذباتیت، پھوہڑ پن، غصہ، تعصب، ری ایکشن، تخریب، طنز، تضحیک وغیرہ سے دامن بچاتے ہوئے دلیل سے بات کرنے کا سلیقہ سکھایا، کیونکہ دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے دلیل سے بڑھ کر کوئی قوت نہیں۔ ”دلیل“ سماجی انتشار اور تخریبی خیالات کی بجائے پ±رامن اور تعمیری سوچوں کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے اور ٹکراو¿ اور انتشار سے گریز کر کے تعمیری سوچوں کو فروغ دینا ملک و ملت کے لیے مفید ہے۔ فرقوں سے بالاتر ہونا بھی ”دلیل” کی طاقت ہے، جس کے اثرات فیس بک پر موجود مختلف فقہی اور فروعی آراءرکھنے والے احباب پر بھی نظر آرہے ہیں۔ ”دلیل“ کی وجہ سے لوگ اختلاف بھی دلیل اور احترام کے ساتھ کرنا سیکھ رہے ہیں، جو بحیثیت مجموعی پورے معاشرے کے لیے نیک شگون ہے۔

سعادت کی بات ہے کہ ملک خداد پاکستان منصہ شہود میں رمضان المبارک کی ستائیویں رات کونمودار ہوا اور ”دلیل“ نے بھی اسی بابرکت رات اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ”دلیل“ کے سفر کو ایک سال مکمل ہوگیا۔ ”دلیل“ کو اپنی پہلی سالگرہ مبارک ہو۔اس ایک سال کے دوران ”دلیل“ نے جس مثبت اور تعمیری اندازی میں کام کیا، وہ لائق تحسین ہے۔ ریٹنگ کے چکر میں دیگر ویب سائٹس کی طرح ”دلیل“ نے فضولیات کا سہارا نہیں لیا۔”دلیل“ کے عملے نے بھی بہت لکھاریوں کے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھا۔ بہتری کی گنجائس تو ہمیشہ ہر چیز میں رہتی ہے، لیکن ”دلیل“ سے جو توقعات تھیں، اس نے ان سے بڑھ کر کام کیا ہے۔ میرا خیال ہے ’دلیل“ کو اب آگے بڑھتے ہوئے ایک ویب چینل کا آغاز بھی کردینا چاہیے۔ امید ہے ویب چینل کو بھی اسی طرح ترقی ملے گی جس طرح ”دلیل“ کو ملی ہے۔دعا ہے اللہ تعالیٰ ’دلیل“ کو مزید ترقیوں سے نوازے اور یہ ویب سائٹ اسی طرح دلیل کی بنیاد پر معتدل مزاجی، احترام اور مثبت انداز میں ملک و قوم کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتی رہے اور معاشرے میں اعتدال اور دلیل کے مزاج کو فروغ دے کر ملک و قوم کی خدمت میں لگی رہے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.