بھارت کی یونیورسٹیوں میں افغان طلبا - احمد قیوم

ہندوستان نے مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی پاکستان کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ جہاں یہ کئی دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہا ہے بلکہ ان کے سرغنوں کو اپنے قونصل خانوں میں پناہ بھی دے رکھی ہے۔ دہشت گردی کی بر آمد کے ساتھ ساتھ ہندوستان نے پڑھنے لکھنے والے افغانی نوجوانوں کو بھی ہدف بنا رکھا ہے اور انہیں مختلف قسم کی سکالر شپس دے کر بھارت میں مختلف جامعات میں داخلہ دیا جارہا ہے۔

نوجوان کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ طبقہ مختلف تعلیم حاصل کر کے، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک ہو کر اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں اور اگر یہی نوجوان نظریاتی اور سرحدی دفاع نہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو پھر وسیع تر امکانات ہوتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتیوں کو ضائع کر دیں یاکسی دشمن کے ہاتھوں میں چلا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں دشمن کا سب سے پہلا ہدف دشمن ملک کے پروفیشنل ادارہ جات اور ان میں پڑھنے والے نوجوان ہوتے ہیں۔ جہاں ان کی سوچ کو تبدیل کر کے انہیں اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

سوویت یونین نے بھی اپنے کمیونزم کو پھیلانے کے لیے اسی ہتھیار کا استعمال کیا تھا۔ دوسرے ملکوں کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کر کے انہیں روس کی مختلف یونیورسٹیز میں داخلے دیے جاتے جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ کمیونزم اور لادینیت کی طرف بھی راغب کر دیا جاتا۔ جب یہی نوجوان اپنے ملک میں واپس لوٹتے تو کمیونزم کے حق میں آوازیں بلند کرتے اور آخر پھر سوویت یونین اس ملک کے کمیونزم کو بچانے اور پروان چڑھانے کے لیے ان پر حملہ آور ہو جاتی۔

اب ہندوستان بھی پاکستان کے خلاف اسی روش پر چل رہا ہے۔ بھارت اب افغان نوجوانوں کو مختلف سکالرشپس دے کر اپنے ملک میں پڑھنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے اس سلسلے میں بھارتی حکومت کے ایک سرکاری ادارے انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (آئی سی سی آر) کے تحت مختلف طرح کی سکالر شپس دی جارہی ہیں۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد بھارتی تہذیب اور کلچر کو دنیا بھر میں پھیلانا ہے جس کے تحت مختلف ملکوں کے نوجوانوں کو سکالر شپس دئیے جاتے ہیں۔ مگر اس آڑ میں افغانی طالب علموں کو بھارت میں داخلے دے کر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف نظریاتی طور پر تیار بھی کیا جا رہا ہے۔ آئی سی سی آر نے افغانستان کے طالب علموں کے لیے 2005 سے لے کر 2020ء تک کے لیے سکالرشپس دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ جس میں ہر سال افغان طالب علموں کو ایک ہزار سکالرشپس دے کر بھارت میں داخلے دئیے جارہے ہیں۔ ان سکالرشپس کے تحت طلبا کو انڈر گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، ایم فل/ پی ایچ ڈی اور ان کے ساتھ ساتھ پروفیشنل کورسز جن میں انجینئرنگ، فارمیسی، اکاؤنٹینسی، بزنس ایڈمنسٹریشن اور مینجمنٹ سائنسز شامل ہیں، میں داخلے دئیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

آئی سی سی نے سال 2017-18 کے لیے بھارت میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کے لیے 3365 سکالرشپس دینے کا اعلان کیا ہے۔ جس میں سے ایک ہزار سکالرشپس افغان طالب علموں کو دئیے جائیں گے۔ ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کے خطرناک عزائم کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح افغان نوجوانوں کی بڑی تعداد کو پاکستان کے خلاف نظریاتی طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ اس وقت بھی پانچ ہزا رسے زائد افغان طالب علم بھارت کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ یہ نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے ملک لوٹیں گے جہاں بھارت ان کو پاکستان کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

بھارت کا افغانستان کے ساتھ کوئی بارڈر نہیں لگتا ۔ دونوں ملکوں کی تہذیب و تمدن اور ثقافت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہندوستان، ہندوؤں کا ملک اور افغانستان میں مسلمان آباد ہیں۔مگر بھارت کی افغانستان میں بڑھتی دلچسپی اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ صرف پاکستان کو چاروں طرف سے مصروف رکھنا چاہتا ہے اور اپنے خطرناک عزائم کی تکمیل چاہتا ہے۔ آئی سی سی آر سکالرشپس کے تحت بھارت میں کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبا مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جن میں عرب، افریقہ اور دیگر کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبا شامل ہیں۔

بھارت میں کشمیری نوجوان بھی ایک بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔مگر بھارت میں یہ طالب علم آئے روز ہندو انتہا پسندوں کے زیر عتاب رہتے ہیں۔ ہر بدلتے دن کے ساتھ مختلف طلبا پر تشدد اور ظلم و بربریت کی داستانیں سننے کو ملتی ہیں۔ معروف امریکی ٹی وی چینل سی این این کی 29مارچ 2017ء کی رپورٹ کے مطابق مختلف انتہا پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے غنڈوں نے افریقی ملک نائیجیریا کے نو طالب علموں پر حملہ کر کے ان کو زخمی کر دیا۔ اسی طرح بھارت میں پڑھنے والے کشمیری نوجوانوں کے ساتھ بھی بہت برا اور ناروا سلوک کیا جاتا ہے جس کی واحد وجہ یہ ہے کہ کشمیری اپنی آزادی کا جائز مطالبہ کرتے ہیں۔ آئے روز کشمیریوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور ظلم و بربریت کے ریکارڈ توڑے جاتے ہیں۔ ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ الجزیرہ نیوز چینل کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ 2014 ء میں ایک یونیورسٹی کی انتظامیہ نے 66 کشمیری نوجوانوں کو آزادی کے حق میں نعرے بلند کرنے کی وجہ سے یونیورسٹی سے نکال دیا۔ اس طرح بھارت میں نچلی ذات بالخصوص دلت طالب علموں پر بھی ظلم کی داستانیں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ "انڈیا ٹوڈے" کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک دلت طالب علم کو سکول میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کا ہاتھ اچانک ایک برہمن طالب علم کے برتن کو لگ گیا۔ اس کے علاوہ دلت طالب علموں پر بہت ساری پابندیاں ہیں تا کہ یہ نوجوان برہمن کے مقابلے میں نچلے عہدوں پر نہ آجائے۔ یہی وجہ ہے کہ دلتوں میں احساس محرومی شدت اختیار کر تا چلا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مدرسہ ڈسکورس، دینی مدارس، اسکولز اور ہمارا مؤقف - مفتی منیب الرحمن

بھارت میں غیر ملکی اور کشمیری طلبا پر ظلم و تشدد کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود ایک بڑی تعداد میں افغانی طالب علموں کو سکالرشپس دے کر بھارت بلوانے کا مقصد حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ نظریاتی طور پرپاکستان مخالف بنانا اور استعمال کرنا ہے۔