دلیل کا سفر اور کارواں کی تشکیل - نورین تبسم

27 رمضان 1437ھ، 27 رمضان 1438ھ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

ایک فرد اور پھر ایک گروپ کی سوچ سے آغاز کرنے والی ”دلیل ویب سائٹ“ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ دلیل انتظامیہ کو سفرِ بخیر کی بہت بہت مبارکباد۔

دلیل سے جڑنے والا تعلق دو جہتیں لیے ہوئے ہے۔ ایک قاری اور دوسرا لکھاری۔
بحیثیت قاری بات کی جائے تو ”دلیل“ حالاتِ حاضرہ اور معاشرتی مسائل سے لے کر فرد کے ذاتی احساسات، مشاہدات اور تجربات کی نمائندگی کرتی تحاریر سے سجا ایسا رنگارنگ گلدستہ ہے جو آنے والے ہر قاری کی اس کی ذہنی سطح اور اخلاقی رجحان پر آ کر تسلی وتشفی کرتا ہے۔ ”دلیل“ پر نہ صرف کئی منفرد تحاریر پڑھنے کو ملتی ہیں بلکہ اخبارات میں شائع ہونے والے کالمز کا عمدہ انتخاب بھی دلیل کو ہمارے لیے خاص بنا دیتا ہے۔
بطور لکھاری محسوس کروں تو ”دلیل“ اپنے لکھنے والوں کو ایک باوقار اور پُراعتماد فضا فراہم کرتی ہے جہاں وہ حدودوقیود کے اندر رہتے ہوئے دل کی بات کہہ سکتے ہیں۔

دلیل میں قاری کی سہولت کے لیے کچھ تجاویز۔
٭ دلیل میں روزانہ کی بنیاد پر شائع ہونے والی تحاریر کی فہرست آنی چاہیے تا کہ قاری کو پتہ چلے کہ آج کتنی اور کون کون سی تحاریر سامنے آئیں۔
٭ آن لائن اخبار میں ”گزشتہ شماروں“ کی طرز پر دلیل میں بھی سابقہ تحاریر کی ایک مربوط جگہ ہونی چاہیے جہاں قاری گذشتہ روز،گذشہ ہفتے اور پھر پورے مہینے کی تحاریر پر نظر ڈال سکے۔
٭ ہفتے کی بہترین تحریر یا مہینے کی عمدہ تحریر کی نشان دہی ضرور ہونی چاہیے۔ اس کے لیے پوسٹ ویوز کے طریقِ کار سے ہٹ کر کچھ طے کیا جانا چاہیے کہ کبھی بہت ہی اچھی اور منفرد تحریر کو بھی بہت کم ویوز دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   لوگ لکھتے کیوں ہیں؟ زبیرمنصوری

دلیل میں لکھاری کے لیے۔
٭ دلیل میں شائع ہونے کے بعد اپنی کسی تحریر میں املاء کی کوئی غلطی دکھائی دے جائے تو اسے ٹھیک کرنا مشکل ہوتا ہے، جیسے کہ ہم اپنے بلاگ میں کوئی بھی تحریر پوسٹ کیے جانے کے بعد کبھی بھی ایڈٹ کر کے اُس کی درستگی کر سکتے ہیں۔
٭ دلیل میں ڈائجسٹ ٹائپ کی سنسی خیز طویل اور قسط وار تحاریر کی گنجائش بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ ایک تو وقت کا زیاں، دوسرے یہ دلیل کے قاری کے مزاج پر گراں گزرتا ہے۔

بےشک دلیل کے قیام کا مقصد اللہ کی رضا میں رہتے ہوئے علمِ نافع کا حق ادا کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دلیل ویب سائٹ مکمل طور پر دعوت و تبلیغ کی اسلامی ویب سائٹ نہیں کہ جس کے اجر کا ذمہ اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔ دلیل انتظامیہ کو ایک قدم اور آگےبڑھتے ہوئے اشتہارات یا سپانسرشپ کی طرف جانا چاہیے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس میں بھی اسلامی اقدار اور اخلاقیات کو پہلی ترجیح دی جائے۔ یہ کوئی بری بات ہرگز نہیں بلکہ اس سے دلیل کے لیے کام کرنے والے ”رضاکاروں“ کی حوصلہ افزائی ہوگی، اور وہ اپنے وقت اور علم کو بہتر طریقے سے دلیل کے لیے وقف کر سکیں گے۔

رہی بات دلیل مصنقین کی تو اپنی سوچ کو لفظ میں ڈھالنے کے بعد لکھنے والے کا سب سے بڑا انعام ہی یہی ہے کہ اس کے لفظ کسی کی نگاہ کو چھوتے ہوئے اُس کے دل میں اتر جائیں۔ دلیل مصنفین کے لیے ہرگز کسی قسم کے مالی فوائد کا اجراء نہیں ہونا چاہیے، اس سے ایک تو لکھنے والے کی ذہنی آزادی متاثر ہوتی ہے اور دوسرے بلاوجہ کی چپقلش یا تعصب کا شائبہ بھی جھلکتا ہے۔

آخری بات
دلیل ویب سائٹ کی مزید کامیابیوں اور کامرانیوں کے لیے بہت سی دعائیں۔ دلیل انتظامیہ کی تہہِ دل سے مشکور ہوں کہ اُن کے اعتماد کی بدولت میری تحاریر کا میرے بلاگ سے دلیل کی طرف سفر جاری رہا۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں