غریبوں کو خواب دیکھنے دیں - آصف ارشاد

ریاست کے اندر انتظامیہ کا کردار بہت کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ریاستی باگ ڈور اور معا ملات کو عملی بنیادوں پر چلانے کا کام انتظامیہ ہی کے سر پر ہوتا ہے۔ اسلامی خلافت میں باقاعدہ انتظامیہ کا آغاز حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں ہوا تو انتظامی امور کے لئے افسروں کی تعیناتی خالص میرٹ کی بنیا د پر کی جاتی تھی ۔ میرٹ کی بنیاد تعلیم ، تجربہ اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتیں ہوتی تھیں۔برصغیر پاک و ہند میں بھی ایسی تقرریوں کا عمل کسی نہ کسی صورت جاری رہا۔ پاکستان میں اس وقت رائج انتظامی نظام ایسٹ انڈیا کمپنی کا نافذ کردہ نظا م ہی ہے جس میں معمولی تحریف کے بعد اس کو نافذ کیا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے انڈین سول سروس کا اجراء کیا تھا۔

قیام پاکستا ن کے بعد بھی معمولی ردوبدل کے بعد انتظامی افسروں کی تقرری کا وہی نظام نافذ رہنے دیاگیا۔اس کے تحت انگریزی زبان میں انتہا ئی سخت تحریری امتحا ن پاس کرنا ہوتا تھا، جس کے بعد ایک انٹرویو لیا جاتا ۔ انگریزی زبا ن میں امتحان لینے کی وجہ سے اس میں وہی لوگ کامیاب ہوتے تھے جو انگریزوں کے وفا دار ہوتے تھے ۔ قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں کے اند ر ایسے ہی چلتا رہا، ابتدئی ادوار میں آنے والی کھیپ اس بات کی واضح مثال ہے۔ بعد کے دنو ں میں بھی نظام کی تبدیلی پر خاص توجہ نہیں دی گئی۔ انتظامیہ پر اشرافیہ کے قبضے کی بڑی وجہ ہی انگریزی ذریعہ امتحان تھا ۔فی الحال اس نظام کی جزئیات اور خامیوں پر بحث کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ عام پاکستانی کو انتظامیہ سے دور رکھنے کے لیے قائم کی گئی اس دانستہ فضا کے حوالے سے آواز اٹھانا ہے۔ ایسے نظام کے خلا ف جس میں عام پاکستانی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

گزشتہ دنوں امسال کے سول سروس کے امتحانات کا نتیجہ آیا ،جس میں لگ بھگ دس ہزار کے قریب امیدواروں نے حصہ لیا تھااورکامیاب ہونے والے صرف 202 تھے۔اتنے کم کامیابی کے تنا سب نے جہاں نظام تعلیم پر سوالات اٹھائے، وہیں اس نظام امتحانات پر سوالیہ نشان چھوڑ گیا ۔ تنقید برائے تنقید کا ایسا شور بلند ہوا کی خدا کی پناہ! ایسے میں ایک اور با ت کا ذکر کرتا چلوں کہ تعلیم کے نظام پر تنقید کرنے والوں میں وہ اساتذہ کرا م بھی شامل تھے جو اس نظا م میں خود کوئی تبدیلی نہیں لانا چاہتے اور نہ ہی اپنی ذات کو تبدیل کرنے پر راضی ہیں۔ خیر جہاں اخبارات اور میڈیا میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی گئی ، دانشوروں نے اپنے اپنے راگ الاپے تو وہیں ایک اور طبقہ سامنے آیا جس نے اشرافیہ کے لیے ماحول سازی اور غریبوں کی حوصلہ شکنی کا م شروع کردیا۔چونکہ کچھ عرصہ قبل عدالت نے حکم نامہ جاری کیا تھا کہ سول سروس کے امتحانات کو اردو میں رائج کیا جائے، اس سے اشرافیہ اور اس کے کارندوں کو اپنا مقام خطرے میں نظر آیا۔ملک کے سب سے زیادہ شائع ہونے والے روزنامے کے معروف صحافی اس میں پیش پیش تھے، میرے بہت ہی سینئر اور قابل احترام صحافی حضرات بھی اشرافیہ کی طرف داری کرتے نظر آئے ۔ اپنی دانست میں انہوں نے ملک و قوم کے مفا د میں ہی لکھاہوگا لیکن مجھے ان کے نقطہ نظر سے اختلاف ہے۔

اس دفعہ کا میاب ہونے والوں میں زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کا تعلیمی کیریئر زیادہ شاندار نہیں رہا ،انہوں نے کوئی طلائی تمغے حاصل نہیں کیے اور نہ ہی وہ پوزیشن ہولڈرز ہیں لیکن ان کاتعلق متوسط گھرانوں سے ہے۔ ایک محترم کالم نگار نے اس پر اعتراض کیا کہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ اعلیٰ کارکردگی کے حامل لوگ اب اس فیلڈ میں نہیں آرہے ۔ حضور والا! آپ کی بات بجا، لیکن میرا بھی ایک سوال ہے کی ایک غریب شخص جس کو دو وقت کی روٹی کمانے کی فکر ہو ، تعلیمی اخراجا ت بھی خود برداشت کرنے ہوں اور خاندان کی کفالت بھی کرنی ہو تو ایسے میں ڈگری مکمل کرنے پر توجہ دے یا طلائی تمغوں کے حصول پر؟ مانا کہ آپ اس پر غریب طلباء کی اعلیٰ کارکردگی کی مثال دیں گئے لیکن میرا سوال عوام کے لئے ہے ، ان سپیشل کیسز کے پیچھے بھی کچھ محرکا ت ہوتے ہیں۔پھر دوسری با ت کہ پوزیشن ہولڈر طلباء کی تعداد بھی کتنی ہوتی ہے، آٹے میں نمک کے برابر؟ بجائے اس کے کہ ایوریج بیک گراؤنڈ رکھنے والے طلباء کی انتہا ئی سخت امتحان میں کامیابی پر انہیں داد دی جاتی اور حوصلہ افزائی کی جاتی، ان کی حوصلہ شکنی کی جا ر ہی ہے۔ جس کی وجہ سے عمومی کار کردگی کے حامل افراد جو سول سروس کا ارادہ رکھتے ہیں وہ بھی حوصلہ ہار دیں گے۔

اسی روزنامے میں ایک اور محترم نے لکھا کہ 70ء کی دہائی میں سول سروس میں کامیاب ہونے والوں میں تقریبا سب ہی فارن کوالیفایئڈ یا ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل افراد تھے۔ انہوں نے بھی فارن کوالیفایئڈ لوگوں کے سول سروس میں نہ آنے کو ملکی بدقسمتی اور نقصان سے عبارت کیا۔ حیرت کی بات ہے کہ 70ء سال گزر جانے کے بعد بھی ہم ذہنی غلامی سے نہیں نکل سکے، ہمیں ابھی بھی امپورٹڈ مال ہی پسند ہے۔ دکاندار تیسرے درجے کی چائنا کاپی کو امپورٹڈ کہہ دے تو ہم منہ مانگی قیمت دینے پر تیا ر ہو جاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم ایک اچھی بات لیکن صرف فارن کوالیفائیڈ اور ڈاکٹریٹ کی مہر لگا دینا کہاں کی انصاف پسندی ہے؟ میرے ملک کا عام آدمی کب سے اس با ت کی سکت رکھنے لگا کہ بیرون ملک جا کر تعلیم حاصل کرے؟ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنا بھی ایک خواب ہی ہے کہ خاندان کی کفالت کرتی ہوئے اپنے تعلیمی اخراجا ت خود برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی بھول کر کوشش کر بھی لے تو تب تک عمر گزر جاتی ہے۔ کالم نگار کے مطابق دیکھیں تو غریبوں کو واضح طور پر سول سروس سے دور رہنے کی تلقین نظر آتی ہے۔

اس قوم کو امپورٹڈ کی اس قدر عادت پڑھ گئی ہے کی وزیر اعظم تک کو امپورٹ کیا جا تا ہے اور پھر یہ باہر کا مال پاکستان کو مفت کا حلوہ گردان کر جو حال کرتے ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ چلتے چلتے ایک اور صاحب کا بھی ذکر کرتے چلیں جن کے مطابق ایک وقت تھا کہ سول سروس میں صرف کریم آتی تھی اب ایسا نہیں ہے اور وہ اس غم میں نڈھال ہوئے جا رہے ہیں۔ بہت خوب ! اگرملک کا درمیانہ درجہ ترقی کرتا ہے ، آگے آنے کی کوشش کرتا ہے تو ملک کے لئے نقصان دہ ہے؟ ایسے لوگ اشرافیہ کی حکمرانی دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کے جی حضوری میں خوش رہتے ہیں۔ خدارا! پاکستان پر رحم کریں ، میرے غریب ہم وطنوں پر رحم کریں۔ ہم غریب لوگوں نے سول سروس کے بہت سے خواب سجا ئے ہوتے ہیں ، کم سے کم یہ حق تو نہ چھینا جائے۔ اس ملک کے غریب اور اس ملک کے رہنے والے ہی ادھر کے حالات بہتر جانتے ہیں اور وہی ملک کو بہتر چلا سکتے ہیں نہ کہ بیرون ملک کا پڑھا لکھا طبقہ۔غریب لوگ ڈاکٹر نہیں بن سکتے اور نہ ہی انجینئر بننے کی سکت ہے ، ایک سول سروس ہی ہے جس سے غریب اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر خوابوں کو پورا کر سکتا ہے۔تعلیمی نظام، سول سروس کے نظام پر آپ کی تنقید بجا لیکن غریب کی حوصلی شکنی مت کریں۔