جے آئی ٹی میں پیشی اور’تشویشناک خوفناکی‘ – حافظ یوسف سراج

بالآخر مخالفوں کی دلی مراد بر آئی۔ میاں صاحب جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ تین گھنٹے پیش رہنے کے بعد آپ باہر نکلے تو پیشی کو زیر و زبر کرنے لگے۔ یعنی لکھی ہوئی تقریر فرمانے لگے۔ عمران خان کو اس پر بھی اعتراض ہوا کہ پہلے سے لکھی ہوئی تقریر کیوں کی گئی۔ ظاہر ہے جب میاں صاحب فی البدیہہ تقریر نہیں کرنا چاہتے تھے تو انھوں نے تقریر پہلے سے اورپلے سے ہی لکھ کے لانی تھی۔ اب وہ جے آئی ٹی کی پیشی میں بیٹھ کر تازہ تقریر تو لکھنے نہیں گئے تھے۔ ممکن ہے عمران خان کو لگا ہو کہ چونکہ میاں صاحب کے لیے یہ بھی ایک امتحان ہے تو امتحانی سنٹر کی طرح یہاں بیٹھ کے بھی میاں صاحب کو جوابی شیٹوں پر تقریر لکھنی چاہیے تھی. ہمارے کالم نگار دوست خواجہ جمشید امام کوعمران خان کو بتانا چاہیے کہ یہ اور طرح کا امتحان ہے، یعنی۔۔ع
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
والا امتحان۔

عمران خان نے مزید کہا کہ پہلے سے لکھی ہوئی، اس تقریر کا مطلب ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے میاں صاحب کوئی نئی بات پیش نہیں فرما سکے۔ اب اس اللہ کے بندے کو کون سمجھائے کہ اس قوم کے ساتھ جو بھی ہوتا ہے، وہ پہلے سے لکھا ہوا ہی ہوتا ہے، اور ایک زمانے سے اس قوم کے ساتھ کچھ نیا نہیں ہوتا۔ الیکشنوں میں اس کے ساتھ تو ہاتھ بھی پرانا ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ عرصہ ہوا، یہاں نہ حکمرانوں کی تقریر بدلتی ہے اور نہ عوام کی تقدیر۔ دنیا میں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہوگی، پاکستان میں آ کے تو لگتا ہے، تاریخ چاروں پہیے جام ہو جاتی ہے، بہرحال اس تقریر میں میاں صاحب نے کئی باتیں زیروزبر کیں، یعنی عوام کے ہاں ازبر کیں۔ یہ بھی فرمایا کہ آج انھوں نے پائی پائی کا حساب چکا دیا۔ لگتا ہے یہ تقریر مکرم عرفان صدیقی صاحب نے نہیں لکھی، وگرنہ وہ یہاں فیض کو یاد کیے بغیر رہ نہ سکتے تھے۔۔ع
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ (پائی پائی کا)حساب آج چکا دیا

افسوس یہ تقریر ہمارے سرپھرے دوست ’تشویشناک خوفناکی‘ نے بھی سن لی۔ کہنے لگے، پہلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ اتنے سال پرانا حساب چکانا تو کجا دستیاب ہونا تک ممکن نہیں۔ اب یکایک یہ کیا معجزہ ہوگیا کہ وہی دستیاب نہ ہو نے والا حساب دیا، دکھایا اور چکایا تک جا چکا؟ خوفناکی صاحب نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم وضاحت کریں کہ آیا پہلی بات زیادہ غلط تھی یا دوسری بات زیادہ غلط؟ کاش میاں صاحب یہی آنہ پائی عرف پائی پائی کا حساب پہلے ہی چکا دیتے تو ایک تو ہم تشویشناک خوفناکی کے سامنے لاجواب نہ ہوتے اور دوسرے قوم کا وقت بھی بچتا۔ اگرچہ دوسری بات پہلی سے زیادہ اہم نہیں۔ اب آپ سے کیا عرض کریں کہ خوفناکی صاحب ایسے نہیں کہ جو چودھری نثار کی پریس کانفرنس کی طرح پھیلنے پر آجائیں تو انھیں چپ کروایا جا سکے، مزید بکنے لگے، ویسے ایک بات ہے! بے چارگی سے ہم نے پوچھا، اب کیا بات ہے؟ کہنے لگے، کچھ چیزیں ایسی نازک بھی ہوتی ہیں کہ جنھیں پیش کرنے کے معاملے میں کسی دوسرے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ شکر ہے اس کے جواب میں تشویشناک صاحب نے کوئی فلسفہ بگھارنے کے بجائے بس لطیفہ سنانے پر ہی اکتفا کیا۔ کہنے لگے، کسی دور پار یا دریا پار دیس کی بات ہے۔ ایک وکیل صاحب نے ایک کیس لے تو لیا، مگر پیش کرنے کے لیے ان کے پاس دلائل نہ تھے۔ چنانچہ پہلے تو وہ کافی پیشیوں پر عدالت کی اخلاقی و قانونی حیثیت پر بات کر کے موقع نکالتے اور وقت ٹالتے رہے۔ پھر مگر جب ایک دن عدالت کا وقت ضائع کرنے پر جج صاحب نے اس ناہنجار وکیل کو گھور کر دیکھا تو فوراً وکیل صاحب نے پینترا بدلا۔ عرض کی حضور یہ مقدمہ عین برحق ہی نہیں، بلکہ اس پر پیش کرنے کے لیے تو میرے پاس دلائل کا بھی انبار لگا ہے۔ بس آپ ذرا توجہ تو فرمائیں۔ ساتھ ہی وکیل نے قانون کی ایک کتاب بھی جج صاحب کے حضور پیش کر دی، یہ کہتے ہوئے کہ اس کتاب کے صفحہ چار سو بیس پر دلیل ملاحظہ کر لی جائے۔ جج صاحب نے دیکھا تو وہاں اچھی مالیت کا ایک کرارا نوٹ پڑا تھا، جج صاحب فرمانے لگے، یہ والی دلیل واقعی کافی مضبوط ہے، کیس جیتنا ہے تو ایسی ہی دو چار مزید دلیلیں بھی پیش کی جائیں۔ خیر چھوڑیے لطیفے کو۔ ویسے بھی بعض وکیل اور مدعی بڑے چست ہوتے ہیں۔

تقریر میں میاں صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ میں جے آئی ٹی کے سامنے اس لیے پیش ہوا ہوں کہ قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں ہوتا، اس سے پہلے کہ ہم پر اس جملے کا مفہوم واضح ہوتا۔ اگلی ہی سانس میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ جے آئی ٹی انھیں کچھ چھوٹی چھوٹی اور ذرا تنگ تنگ سی محسوس ہوئی ہے، چنانچہ جلد ہی وہ اس سے، بلکہ سب سے بڑی جے آئی ٹی میں بھی ضرور پیش ہوں گے۔ اب اس سے آپ یہ مت سمجھیے گا کہ میاں صاحب کو ویسے ہی جے آئی ٹی وغیرہ میں پیش ہونے میں مزا آنے لگا ہے، اس شاعر کی طرح کہ جس نے کہا تھا؎
ایک دن ان کی گلی سے گزرا تھا میں
پھر یہ روز کا مشغلہ ہو گیا

دراصل اس بڑی جے آئی ٹی سے میاں صاحب کی مراد عوام تھے۔ عوام جو اپنی جنس اور اردو لغت کے اعتبار سے مذکر ہونے کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹوکی زبان پر مؤنث ہوگئے تھے۔ محترمہ آکسفورڈ کی پڑھی تھیں۔ انگلش فرفر اور اردو کم کم بولتی تھیں۔ یعنی اتنی ہی جتنی پاکستانیوں پر حکومت کرنے کے لیے ناگزیرتھی۔ انھوں نے اس پر زیادہ غور نہیں فرمایا کہ پاکستانی عوام اردو میں مذکر ہوتے ہیں یامؤنث۔ انھوں نے عوام کو مؤنث بول دیا تو میڈیا نے یہی لے لیا۔ ہمارا میڈیا ویسے بھی بڑا صابر و شاکر ہے، چھوڑتا نہیں، حکمرانوں سے جو ملے لے لیتا ہے۔ ویسے پاکستانیوں نے بھی ثابت کر دکھایا کہ ان پر حکمرانی کرنے والا بے شک ان کی جنس بدل ڈالے، یہ اس کی حکومت چلنے دیں گے، بشرطیکہ حکمران کی مالی حالت، انگلش اور امریکہ سے تعلقات اچھے ہوں۔ جب تک حکمران عوام کے نام پر اپنا کام نکالتے رہیں گے، ادا جعفری کی ہمنوائی میں ہمارے عوام بھی مست ہیں کہ چلیے ان کا بادشاہ کبھی کبھی ان کا نام تو لیتا ہے ؎
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
چنانچہ ہمارے عوام خوش رہتے ہیں۔خواہ خوابوں، جگنوؤں ، جنگلوں اور پراسرار فضاؤں کا شاعر منیر نیازی انھیں کتنا ہی جگاتا رہے؎
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

ایک جملہ بی بی نے کہا تھا، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ ہم پاکستانی مجسم گواہ ہیں کہ واقعی ہر جمہوریت نے ہم سے اپنی نوعیت کا انتقام لینے میں بہترین سے کم پر کبھی اکتفا نہیں کیا۔ اب یہ دوسرا جملہ میاں صاحب ہی نے نہیں کہا کہ بڑی جے آئی ٹی میں جائیں گے۔ ایک بڑے کالم نگار نے بھی یہ لکھا کہ اصل فیصلہ عوام کی عدالت میں ہوگا، تشویشناک خوفناکی کے نزدیک یہ جملہ بھی توہین ِعدالت کے زمرے میں آنا چاہیے، یا پھر عدالت جیسا باوقار ادارہ ہی سرے سے ختم کردینا چاہیے کہ جب آپ کو قانونی فیصلے جعلی لگتے ہیں اور آپ نے اصل فیصلے عوامی عدالت ہی میں کرنے ہیں تو نمٹائیے ان عدالتی اداروں کو بھی۔ یہ کیا بات ہوئی کہ شتر مرغ کی طرح جب قانونی دلائل دینے کی باری آئے تو آپ عوامی عدالت کی طرف لپکنے لگیں اور جب آپ اپوزیشن میں ہوں تو دوسروں کو کرپشن کنگ کہہ کر عدالتوں میں گھسیٹنے کے دعوے فرمانے لگیں۔ بکواسی اوہ سوری خوفناکی کے خیال میں سیاستدانوں کا یہ عوامی شعور پر کاری طنز بھی ہے، گویا وہ قانون کے سامنے پیش تو ہوتے ہیں مگر بس اپنی شوبھا بڑھانے کے لیے وگرنہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی عوام اتنے باشعور نہیں کہ ان کی طبیعتوں پر ان باتوں کا کوئی اثر ہو سکے۔ سیاستدان خوب سمجھتے ہیں کہ وہ بیرون ملک سرمایہ لے جائیں یا عدالتوں میں طلب کیے جائیں، عوام کے ہاں وہ ہر حال میں گنگا دھلے اور زمزم نہائے ہی رہیں گے۔
لو جی کر لوگل، تشویشناک خوفناکی سے۔

Comments

FB Login Required

حافظ یوسف سراج

گمنام قبیلے کا اک گمنام فرد ہوں. قلم پکڑنا سیکھتا ہوں پر گاہ اس سے اپنا اور گاہ دوسروں کا سر قلم کر بیٹھتا ہوں. سو تادیر نادم اور ناشاد رہتا ہوں. ہاں تہمت کچھ 'نئی بات' اور 'پاکستان' کا کالم نگار اور پیغام ٹی وی کا ریسرچ ہیڈ ہونے کی بھی ہے. باقی میرا اثاثہ اور تعارف میرے احباب ہیں.

Protected by WP Anti Spam