یہ ہستی نیستی ہے - علی حسنین نقوی

11 جون 2017ء کو لیبیا کے شہر زنتان میں قائم جیل سے ایک شخص کو چھ سال بعد رہا کر دیا گیا۔ اس شخص کو 19 نومبر 2011ء کو ایک ویران علاقے میں واقع کھنڈر نما مکان سے گر فتار کیا گیا تھا۔ یہ شدید زخمی اور بیمار حالت میں اس کھنڈر نما مکان میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ مکان کے جس کمرے سے اسے گرفتار کیا گیا، وہ قبر کا منظر پیش کرتا تھا۔ گھٹا ٹوپ اندھیرا اور تازہ ہوا آنے کا کوئی راستہ نہ ہونے کی وجہ سے دم گھٹنے لگتا تھا۔ بیت الخلاء نہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کا کھانا، پینا اور پیشاب وغیرہ اسی چار دیواری میں محدود تھا۔ بدبو کا یہ عالم تھا کہ کچھ لمحے وہاں رکنے سے ہی دماغ چکرانے لگتا تھا۔ گرفتار ہونے والے شخص کو دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ شخص سالوں تک پانی کے نزدیک سے بھی نہیں گزرا۔ اس شخص کو ہاتھ لگانا تو دور، اسے دور سے دیکھ کر گھن آتی تھی۔ اس بے بسی کی حالت میں گرفتار ہونے والا یہ شخص کوئی عام آدمی نہ تھا بلکہ کچھ عرصہ پہلے تک اس شخص کا شمار دنیا کے بااثر ترین اور امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔

یہ وہ شخص تھا کہ جسے مقدر کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔ یہ شخص اپنی اسائش پر کروڑوں ڈالرز سکینڈز میں خرچ کر دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اسے شمالی لندن میں واقع گھر پسند آگیا۔ اس نے گھر کو خریدنا چاہا لیکن مالک مکان نے بیچنے سے انکار کردیا۔ اس شخص نے ضد پکڑ لی اور وہیں کھڑے کھڑے گھر کی دگنی قیمت ادا کر کے ایک کروڑ برٹش پاؤنڈز میں خرید لیا۔ اس نے 2009ء میں اپنی سالگرہ منائی تو اس میں دنیا کے امیر ترین لوگوں نے شرکت کی۔ یہ سالگرہ دنیا کی مہنگی ترین دعوت تصور کی جاتی ہے۔

اس شخص کو پینٹنگ سے بہت لگاؤ تھا اس نے اربوں ڈالرز کی پینٹنگ کو اپنے محل کی زینت بنایا ہو اتھا۔2004ء میں اسے اسرائیلی اداکارہ "اورلے ونئیرمن" سے دل لگی ہو گئی۔ اس نے اداکارہ کے گرد دولت کے انبار لگا کر اس کا دل جیت لیا۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم "ٹونی بلیئر" اسے اپنا قریبی دوست مانتے تھے۔ برطانیہ کے شاہی خاندان کا یہ بیسیوں مرتبہ مہمان بنتا رہا۔

یہ شخص لندن اور پیرس میں "پلے بوائے" کی زندگی گزارتا تھا۔ یہ شخص قانون توڑنے میں فخر محسوس کرتا تھا۔ اس نے ایک بار پیرس کی شانزلیزے اسٹریٹ پر ایک سو تیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا کر دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ پیرس کی شہری حکومت بھرپور کوشش کے باوجود اس کا چالان تک نہ کرسکی۔ یہ شخص اپنے ملک کی "انوسٹمنٹ اتھارٹی" تھا اور یہ اتھارٹی اتنی پاور فل تھی کہ یہ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت دس بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کر سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   تخت سے تختے تک - احساس بھٹی

19 نومبر 2011ء کو بے بسی کی تصویر بنے گرفتار ہونے والا یہ شخص مرد آہن معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام قذافی تھا۔ یہ معمر قذافی کا جانشین اور ولی عہد تھا۔

سیف الاسلام نے چھ سال قید کی زندگی گزاری اور اس کی یہ زندگی موت سے بدتر تھی۔ اس کی ہاتھ کی انگلیاں تک کاٹی گئی تھی۔ یہ وہی سیف الاسلام تھا جس کا ایک قدم لیبیا اور دوسرا لندن اور پیرس میں ہوتا تھا۔ یہ وہی سیف الاسلام تھا جسے شاہی خاندان لنچ اور ڈنر دیا کرتے تھے، مگر وقت بدلنے پر اسی سیف الاسلام کو کسی ملک نے پناہ تک نہ دی۔ یہ وہی سیف الاسلام تھا جس کے لیے لندن کی پرفیومز کمپنیاں اسپیشل خوشبوئیں تیار کرتی تھی مگر جب یہ گرفتار ہوا تو اسے دور سے دیکھ کر گھن آتی تھی۔ یہ وہی سیف الاسلام تھا جس کی سالگرہ پر دنیا بھر کے بزنس ٹائیکون آتے تھے، مگر یہ ایک وقت کے کھانے کو ترس گیا، حتی کہ کئی دنوں تک بھوکا پیاسا بھی رہا۔ ایک کروڑ پاؤنڈز کا گھر خریدنے والاسیف الاسلام کھنڈر نما کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہوا۔ پلک جھپکتے ہی سیف الاسلام آسمان سے زمین پر گر گیا۔ بادشاہ سے فقیر ہوگیا۔

سیف الاسلام کی یہ کہانی اقتدار میں نشے میں بہکنے والوں کو کہہ رہی ہے کہ اقتدار کا سورج اک دن غروب ہوجاتا ہے۔ مقدر کا ستارہ ہمیشہ نہیں چمکتا۔ حالات اور وقت کو بدلتے دیر نہیں لگتی۔ بادشاہت سے فقیری کا سفر پل بھر میں طے ہو جاتا ہے۔ یہ دنیا فانی ہے یہاں کوئی بھی چیز باقی نہیں۔ مناظر بدلتے ہیں۔ جغرافیے بدلتے ہیں۔ دریا رخ بدلتے ہیں۔ سمندر خشک ہوجاتے ہیں۔ پہاڑ ٹوٹ جاتے ہیں۔ آباد کاریاں اجڑ جاتی ہیں۔ شان و شوکت افسانے بن جاتے ہیں۔

ہمارے حکمران نہ جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ فنا کے دیس میں کسی چیز کو دوام نہیں۔ انہیں کیوں یقین نہیں آتا کہ عارضی قیام کے بعد نہ فرعون رہ سکا، نہ شداد رہ سکا اور نہ حسن بن صباح کی جنت باقی رہی۔ "مرد آہن" معمر قذافی کو گلیوں میں گھسیٹا گیا اور سیف الاسلام کا حال بھی ہمارے سامنے ہے پھر بھی بے حس حکمرانوں کو اپنے انجام سے خوف کیوں نہیں آتا؟ بڑے بڑوں کے نقارے خاموش ہوگئے۔ میاں اور خان کے نعرے کب تک گونجیں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   تخت سے تختے تک - احساس بھٹی

عبرت کے ہزاروں نشان موجود ہیں لیکن حیرت ہے کہ کوئی دھیان ہی نہیں دیتا۔ میاں صاحب کو اقتدار سے رخصت ہونے کے لیے بیسیوں وجہ گنوائی جاسکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ ان کا “لمن الملک” کا کوس بجانا ہے۔ یعنی کون ہے جو میرے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے یا یارا رکھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آئین نے وزیراعظم کو با اختیار بنایا ہے لیکن میاں صاحب یہ کیوں بھول گئے کہ آئین میں یہ اختیارات بھٹو صاحب نے اپنے لیے سمیٹے تھے لیکن بعد میں ان کا بوریا سمٹ گیا۔ یہی آئین تھا، میاں صاحب وزیر اعظم تھے اور مشرف صاحب نے میاں صاحب کا بوریا سمٹ دیا تھا، اور پھر مشرف صاحب جنہوں نے 9 سال تک بادشاہت کی، وہ آج جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

حکمران یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اختیار کسی کو کچھ نہیں دیتا، کسی کو کچھ نہیں بناتا۔ اعتبار فیصلہ کن ہوتا ہے اور کردار زندہ رہتا ہے۔ کردار نہ رہے تو اختیار مٹھی میں بھری ہوئی ریت ہے جو پھسلتے دیر نہیں لگتی۔

انسان اتنا کم ظرف ہے کہ ذرا اختیار ہاتھ لگے تو بے کنار ہونے لگ جاتا ہے۔ اس کا دل کرتا ہے کہ وہ عزت و ذلت، حیات و موت کے فیصلے اپنے ہاتھ سے کرے۔ اگر اللہ کی سنت میں یہی ہوتا تو آج کے حکمرانوں کے مقابلے میں فرعون اور شداد، چنگیز اور ہلاکو، ہٹلر اور مسولینی اس کے زیادہ حقدار تھے۔ لیکن سنت الہیٰ یہ نہیں، وہ اقتدار کسی کو یا تو انعام کے طور پر دیتا ہے یا امتحان کے طور پر۔ انعام والے کو چاہیے کہ شکر کرے اور امتحان والے کو چاہیے صبر کرے۔ لیکن جو شخص حکومت کو اپنی ملکیت اور اقتدار کو اپنا ذاتی خدمتگار بنا لے وہ اپنے اس انجام کے لیے تیار ہوجائے جو ایسے لوگوں کے لیے سنت الہیٰ کے مطابق ہے۔

بڑے بڑے ستونوں والے شہر اوندھے ہوگئے، اونچی گردنوں والے سرنگوں ہوگئے، آہنی فیصلوں والے مٹی کے ڈھیر میں دب گئے، زر و جواہر سے کھیلنے والے غربت میں دھکیل دیے گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے ہر ایک سر بلند بھی تھا اور قلعہ بند بھی۔

ہر عہدے کے حکمران کو چاہیے کہ وہ انسان ہی بن کر رہے کیونکہ اس کی ہستی نیستی ہے، اس لیے دیوتا بننے یا خدا کہلانے کا ارمان نہ پالے۔ اکثر خواب تشنہ تعبیر رہ جاتے ہیں اور بہت سے ارمان پاؤں کی زنجیر بن جاتے ہیں۔