پرہیز کیوں ضروری ہے؟ – بنت طاہر قریشی

پچھلے کچھ دنوں سے گلا کافی خراب ہے جس کی وجہ سے مستقل شدید کھانسی لاحق ہے۔ دوا بھی پابندی سے کھائی مگر چونکہ افطار میں ٹھنڈے مشروبات دیکھ کر بھلا کون خود کو روک پاتا ہے، سو ہم بھی بیماری اور پرہیز کو یکسر بھول کر غٹاغٹ ٹھنڈا اور یخ پانی پیتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تکلیف کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ ہر بار سوچا کہ آئندہ سے پرہیز کروں گی مگر۔۔۔ آج بھی جب افطار کے بعد میں خوب ٹھنڈا پانی پی کر کھانسی کا سلسلہ شروع ہوا تو والدہ محترمہ نے گرج گر فرمایا “جتنی مرضی دوا کھالو، جب تک پرہیز نہیں کروگی، بیماری نہیں جانے والی۔” بظاہر عام سے اس جملے میں جتنی گہرائی اور معنویت تھی اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا۔

جب ایک معمولی سی جسمانی بیماری مستقل دوا استعمال کرنے کے باوجود بغیر پرہیز کے ختم نہیں ہوسکتی، تو پھر روح کی بیماریاں بغیر گناہ چھوڑے کیسے ختم ہوسکتی ہیں؟ چاہے جتنی بھی عبادات کرلیں، صدقہ اور خیرات کرلیں، روح بیمار اور پژمردہ ہی رہے گی۔ بہت سے لوگوں کو اشکال ہوتا ہے کہ ہم پانچ وقت نماز بھی ادا کرتے ہیں، صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں اور حسب استطاعت دیگر نیک کام بھی کرتے ہیں، مگر پھر بھی ہم روحانی طور پر بے چین و بےسکون ہیں۔ ہمیں کہیں بھی اور کبھی بھی دل کا سکون اور اطمینان نصیب نہیں ہوتا تو کبھی سوچا آپ نے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اقدس ہے کہ “نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔” تو پھر کبھی ہم نے سوچا کہ نماز ہمارے لیے سکون اور اطمینان کا باعث کیو نہیں بنتی؟ کیا وجہ ہے کہ نماز پنجگانہ ادا کرنے کے باوجود بھی ہم دل کے سکون اور روح کی پاکیزگی سے محروم ہیں؟ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم نیک اعمال تو کرتے ہیں مگر گناہ نہیں چھوڑتے، یعنی دوا تو کھاتے ہیں مگر پرہیز نہیں کرتے۔

ہماری روح کی بیماری صرف اور صرف اسی صورت میں ختم ہوگی جب ہم مکمل طور پر گناہوں سے پرہیز اختیار کریں گے۔ کوئی آپ کو یہ نہیں کہہ رہا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ ایک کونہ سنبھال کر بیٹھ جائیں اور اللہ اللہ کرتے رہیں بلکہ آپ اپنے تمام معمولات کو انجام دیجیے مگر پنج وقتہ نماز اور دیگر فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ گناہوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کیجیے۔ اگر اس کے باوجود بھی بتقاضائے بشریت کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو بد دل نہ ہوں بلکہ فوراً وضو کریں، دو رکعت صلوة التوبہ پڑھیں اور خوب رو رو کر اللہ سے کہہ دیں کہ “اے اللہ! آپ کو تو پتا ہے میں آپ کا کتنا کمزور بندہ/بندی ہوں، میں تو گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں مگر پھر بھی مجھ سے بھولے سے یہ گناہ ہوگیا ہے، اللہ آپ تو کریم ہیں میرے ضعف سے واقف ہیں، اپنے کرم کا معاملہ کر دیجیے، مجھے معاف کر دیجیے اور آئندہ اس گناہ سے اور دوسرے تمام گناہوں سے بچنے میں میری مدد فرمائیے۔”

بس گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ یہ چھوٹا سا عمل کرلیجیے پھر دیکھیے کہ آپ کی روح کتنی پرسکون اور دل کتنا مطمئن رہتا ہے۔ چاہے بظاہر حالات کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں مگر اندر کی کیفیت ہمیشہ حکیم اختر رحمہ اللہ تعالیٰ کے شعر کے مصداق پرسکون رہے گی:

ان کے غم کے فیض سے
میں غم میں بھی بے غم رہا

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam