استاد لوگ – شاہد سلیم

عام طور پر پڑھانے والے اور علم سکھانے والے کو استاد کہا جاتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تصور پھیکا پڑتا چلا گیا ہے۔ جدید معاشرت میں جو بندہ آپ کے ساتھ دھوکا کر جائے وہ استاد کہلاتا ہے اور جس کے ساتھ آپ دھوکا کر جائیں وہ شاگرد۔

کچی بستیاں اور کم شعور یافتہ علاقے ایسے اساتذہ کی افزائش کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ برگر کھا کر بڑی ہونے والی عوام اکثر ان اساتذہ کے ہاتھوں تنگ رہتی ہے۔ اس طرح کے استادوں کے باقاعدہ شاگردوں میں کمال تب مانا جاتا ہے جب وہ خود اپنے ہی استادوں کے ساتھ استادی کر جاتے ہیں۔ سندھ کے ایک استاد تو اپنی ریاضی کی ‘پرسینٹ’ کے حوالے سے کافی مشہور ہیں اور ان کا حلقہ استاد ہر رشوت خور پاکستانی افسر کی گردن میں کئی اِنچوں تک پیوست ہے۔ پاکستانی سیاہ ست کے نام ور شاگردگان آج بھی اس استاد کے اسباق نہ صرف یاد رکھے ہوئے ہیں بلکہ بوقتِ ضرورت ان کا بخوبی عملی استعمال بھی کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں استاد کے ساتھ ساتھ ہر پیشہ ور بندے کو استاد جی کہا جاتا ہے۔ مثلاً ڈھابے کا باورچی استاد کہلاتا ہے، کاروں کے مرمت خانے میں کاریں ٹھیک کرنے والا استاد کہلاتا ہے، جیب اس طرح کاٹنا کے جیب کو خود کٹنے کا پتہ نہ چلے یہ فن سکھانے والے کو بھی استاد کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ عوامی “استادوں” میں اتنا مقبول ہو گیا ہے کہ اصل استادوں نے اس لفظ سے پکارے جانے کی امید ہی ختم کر دی ہے۔

اپنی گریجوایٹی کے آخری سال میں جب ہم نے اپنے پروفیسر کو ‘استاد جی’ کہہ کر بلایا تو وہ کافی دیر تک گھور کر دیکھتے رہے کہ کہیں میں ان کا مذاق تو نہیں اڑا رہا۔ میرے چہرے پر مشاہدہِ موت جیسی سنجیدگی اور بلی کے بلونگڑے جیسی معصومیت دیکھ کر انہوں نے چپ سادھ لی ورنہ میں ابھی تک اس مضمون کو پاس کرنے اور اس پروفیسر سے فیض حاصل کرنے کے لیے ان کے نقشِ پا ڈھونڈ رہا ہوتا۔

کوئی زمانہ گزرا کہ جب استادوں کا طمطراق سے استقبال کیا جاتا تھا، ان کی جوتیاں اٹھائی جاتی تھیں، ان کے ہاتھ چومے جاتے تھے، انہیں اونچی مسند پر بٹھایا جاتا تھا، انہیں باعزت خطابات سے ‘نوازا’ جاتا تھا اور انہیں خصوصی نذرانے پیش کیے جاتے تھے۔ خطابات سے نوازنے کے علاوہ یہ باقی سب اب بھی کیا جاتا ہے مگر یہ استاد اکثر JITs میں یا پھر عدالتوں میں بدعنوانی کے کیسوں میں جب پیش ہوتے ہیں تو عدالتی احاطے کے باہر ان کے ساتھ یہ کارروائیاں ڈالی جاتی ہیں تاکہ آنے والے اچھے وقت میں ‘استاد جی’ اپنے ہونہاروں کو انتخابی ٹکٹوں کی بانٹ کی وقت یاد رکھیں۔ خطابات البتہ عوام انہیں وقتاً فوقتاً مفت میں ہی عطاء کرتی رہتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ استاد کے ساتھ بحث نہیں کرنی چاہیے ورنہ شاگرد کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ بات پہلے بھی درست تھی اور آج بھی درست ہے۔ اکثر جو لوگ 10 فی صد پر راضی نہیں ہوتے ان کی جان کی خلاصی 15 فی صد دے کر ہی ہوتی ہے۔ ہمارے استاد بڑے دردِ دل کے ساتھ ہمیں غالب، میر اور درد کی غزلیں اس امید کے ساتھ پڑھایا کرتے تھے کہ شاید ہم ان کے کلام سے فیض حاصل کر پائیں۔ ان کو کیا خبر تھی کے نگوڑے شاگرد بڑے ہو کر غالب کو ‘نصف بہتر’ کی شاپنگ سے بچنے اور دن دیہاڑے خواب دکھانے کے لیے استعمال کیا کریں گے۔

سنا ہے یورپ میں استادوں کی بڑی قدر ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں کے لوگ یورپ چلے جاتے ہیں اور وہاں جا کر استادیاں کرتے ہیں، اور اکثر بیشتر اپنے فن کے کھلے عام استعمال کی وجہ سے بشکریہ واپس پاکستان ایکسپورٹ کر دیے جاتے ہیں۔ یقیناً پاکستان سے باہر کی ہوا استادی کے لیے بہت کارگر ہے اسی لیے پاکستان کے چوٹی کے ‘اساتذہ’ کی اکثر ملاقاتیں لندن یا دبئی میں ہی ہوتی ہیں۔ ایک ‘ماسٹر جی’ نے تو لندن میں ہی ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ سنا ہے کہ وہ لندن سے بیٹھ کر کراچی میں اپنے زیر انتظام اسکول کی نگرانی کرتے ہیں۔

آپ اخبار پڑھتے ہوں یا نہ پڑھتے ہوں، اس حقیقت سے انکار نہیں کر پائیں گے کہ استاد کی عزت نہ کرنے والے کی خود عزت نہیں کی جاتی۔ بندہ چاہے ملک کا بادشاہ لگ جائے، پھر بھی بے عزت ہوتا رہے گا۔ کہتے ہیں استاد کی مار میں برکت ہوتی ہے۔ پہلے وقتوں کے لوگ اِس دوا کا اعتدال سے ایسا استعمال کرتے تھے کے بچے بڑے ہو کر استادوں کے لیے نام وری کا باعث بنتے تھے۔ آج بھی اس دوا کے اثرات میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ فرق اتنا ہے کہ آج ہمارے معاشرے کے استاد اس دوا میں برکت کی زیادتی کے لیے بچے کو اِتنا مارتے ہیں کہ بچہ ساری زندگی معذوری کے کوٹے پر کامیابی کی منزلیں طے کرتا چلا جاتا ہے۔

سنجیدہ نظر سے دیکھا جائے تو استادی بڑا مقدس فریضہ ہے بشرطیکہ یہ علم و شعور سکھانے کے لیے ہو۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اِس معاشرے کے مدرسہ و جامعات (اسکول و یونیورسٹی) کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے کا بڑا مسئلہ یہ ہے کے ہماری جامعات و مدرسہ جات کے اساتذہ کو ‘استادوں’ نے اپنی تاحیات شاگردی میں لیا ہوا ہے۔ یقین نہیں آتا تو اپنے شہر کی جامعہ کے وی سی کے بارے میں تحقیق کر کے دیکھ لیں۔ موصوف تعلیمی ڈگری کے اجراء پر یہاں تک پہنچے ہیں یا عدالتی ڈگری کے اجراء پر۔ جامعہ میں پڑھانے والے اساتذہ کے تھانیداری ریکارڈ دیکھ لیں۔ ولی خان یونیورسٹی کے افسوس ناک واقعہ کے سلسلہ میں بننے والے کمیشن کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیں، آدھے سے زیادہ ملازمین مجرمانہ ریکارڈ کے حامل ہیں۔ پورے ملک میں سرکاری جامعات کا کم و بیش یہی حال ہے۔ جہاں تک نجی جامعات کا تعلق ہے تو ملک کے صدر مقام میں موجود دو جامعات کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ہیں کے وہاں کے طلباء پر شلوار قمیض پہننے پر قطعاً پابندی ہے۔ یہ حالات ہیں ملکِ پاکستان کے مقدس ترین ادارے کے۔ جب تک ہمارے استاد خود کو اِن استادوں کے چنگل سے نہیں چھڑاتے، ہماری ترقی کے امکانات معدوم ہوتے رہیں گے۔ اور جب تک اساتذہ بچے کو زمین سے زیرِ زمین بھیجنے کے بجائے زمین سے آسمان کی طرف بھیجنے کے قابل نہیں بناتے تب تک ہم معاشرتی زوال سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam