عامر سہیل! اخلاقیات کہاں کھو گئیں؟ سجاد سلیم

پاکستان پہلی دفعہ چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچ چکا ہے، اور انڈیا سے مقابلے کے لیے تیار ہے لیکن ، پاکستان کے سابق کپتان عامر سہیل نے ایک الگ ہی بحث چھیڑ دی ہے۔ عامر سہیل کو نجانے کس بات کا غصہ تھا کہ بے چارے سرفراز احمد پر برس پڑے اور بھونڈے انداز میں الزامات لگا کر پاکستان کی شاندار کامیابیوں کو دھندلانے کی کوشش کی۔ ان کے الفاظ درج زیل ہیں۔
”یہ سرفراز کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ بھائی آپ نے کوئی کمال نہیں کیا، یہ آپ کو کسی نے میچ جتوائے ہیں۔ ٹھیک ہے۔ آپ اتنا زیادہ اترائیں نہیں۔ ہمیں سب پتہ ہے، کیا ہوتا ہے۔ کیا نہیں ہوتا۔ ٹھیک ہے۔ اب آپ یہ نہ پوچھ لیجیے گا کہ کس نے جتوائے ہیں؟ تو میں یہ جواب دوں گا کہ دعاؤں نے اور اللہ تعالیٰ نے۔ جو وسیلے ہیں، ان کا نام میں نہیں لوں گا۔ ٹھیک ہے۔ ان کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ کا کوئی کمال نہیں تھا۔ آپک و یہا ں پر لایا گیا ہے۔ کسی وجہ سے۔ اب آپ جو ہیں، اپنا دماغ ذرا بہتر رکھیں۔ اتنا زیادہ سر پر چڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں آپ کی صلاحیت کا پتہ ہے. اپنے دماغ کو سیٹل کھیں، ورنہ آپ چل نہیں پائیں گے۔“

عذر گناہ از بدتر گناہ کے مصداق اس سے بھی زیادہ برے ان کے وضاحتی بیانات ہیں، جن میں وہ ڈھٹائی کے ساتھ مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔ نجانے کیوں پاکستان کے فائنل میں پہنچنے کا کریڈٹ پاکستانی ٹیم اور کپتان کو دینے کے بجائے اسے بیرونی عناصر کا کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔ اپنے وضاحتی بیانات میں انہوں نے دو قسم کی باتیں کیں، ان کا جائزہ درج ذیل ہے۔
1۔ ”میں نےسرفراز کو برا بھلا اس لیے کہا کیونکہ اس سے جب کسی رپورٹر نے اپنی سری لنکا والی جیت جاوید میانداد کے نام کرنے کو کہا تو سرفراز نے کہا کہ وہ جاوید میانداد کے نام جیت اس لیے نہیں کریں گے، کیونکہ وہ تنقید بہت کرتے ہیں۔“
حقیقت یہ ہے کہ سرفراز سے جاوید میانداد کے نام جیت کرنے کو کہا گیا نہ سرفراز نے جاوید میانداد کا نام لے کر جیت ان کے نام کرنے سے انکار کیا۔ اس پریس کانفرنس میں سرفراز احمد سے عمومی سوال ہوا کہ وہ جیت کسی کے نام کریں تو سرفراز نے کہا کہ ”میں کسی کے نام نہیں کروں گا کیونکہ کسی کے نام کرنے پر لوگ کہتے ہیں کہ فلاں کے نام کیوں کیا اور فلاں کو کیوں نہیں کیا۔ اور مشکل وقت میں انہیں کسی نے سپورٹ نہیں کیا۔ اس لیے میں یہ جیت صرف پاکستان کی عوام کے نام کروں گا۔“
اب نجانے عامر سہیل کیوں جھوٹ کی تکرار کر رہے ہیں۔ بڑے تو چھوٹوں کی ہمت بڑھانے کے لیے چھوٹی موٹی لغزش کو معاف بھی کر دیتے ہیں۔ لیکن یہاں الٹا معاملہ ہے. سابق کپتان، موجودہ نوجوان کپتان کی ہمت بڑھانے کے بجائے اہم ترین میچ سے پہلےاس پر جھوٹے الزام کی تکرار کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قومی ٹی 20 فیصل آباد! شیخ خالد زاہد

2۔ دوسری غلط بات جس پر عامر سہیل چھوٹے سے ٹرن کے ساتھ جمے ہوئے ہیں، وہ یہ ہے کہ پاکستان کو بیرونی عناصر کے ذریعے جتوایا گیا۔ ان کے انداز اور باتوں سے صاف لگ رہا تھا کہ ان کا اشارہ میچ فکسنگ کی طرف ہے۔ لیکن بعد کی وضاحتوں میں انہوں نے کہا کہ پچ پاکستان کے لیے زیادہ موزوں تھی۔ اگر ہم انگلینڈ والے میچ کی بات کریں تو میچ کے دوران ہی انگلش میڈیا میں یہ باتیں سامنے آنا شروع ہو گئیں کہ پچ ٹھیک نہیں ہے، حالانکہ میچ سے پہلے ایسی کوئی بات نہ تھی۔ ٹاس کے وقت جب انگلینڈ میچ ہارا تو کمنٹریٹر نے انگلش کپتان مورگن سے پوچھا کہ اگر وہ ٹاس جیتتے تو کیا ٖفیصلے کرتے، تو مورگن نے کہا کہ ہم بیٹنگ کرتے۔ اب ذرا سی بھی کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ پہلے بیٹنگ کا فیصلہ اچھی بیٹنگ وکٹ پر ہی کیا جاتا ہے۔ میچ کے بعد جب مورگن نے پچ کو الزام دیا تو سابق کپتان وقاریونس نے ٹوئٹر پر مورگن کی کلاس لیتے ہوئے کہا کہ ”مورگن! خوامخواہ کے بہانے نہ بناؤ، پاکستان نے واضح طور پر تمہیں شکست دی ہے۔“ انگلینڈ کے سابق کپتان ناصرحسین جو کہ چیمپئنز ٹرافی کے آئی سی سی کی طرف سے کمنٹریٹر بھی ہیں، نے کہا کہ پاکستان کے خلاف انگلینڈ کی شکست کے لیے پچ کو الزام دینا پاکستان کی توہین ہے۔ انگلینڈ کے مقابلے میں پاکستان کی بیٹنگ کمزور ہونے کے باوجود پاکستان نے اسی پچ پر تقریبا چھ رنز فی اوور کی اوسط سے سکور کیا جبکہ انگلش بلے باز تقریبا چار رنز فی اوور کی اوسط سے سکور کر سکے۔

اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ عامر سہیل نے غلط موقع پر غلط بات کی اور اس پر معذرت کرنے اور قوم سے معافی مانگنے کے بجائے اس پر اصرار جاری رکھا ہے. نہیں معلوم ہماری اخلاقیات کہاں گم ہوگئی ہیں۔ سرفراز احمد نے ابھی تک صرف آٹھ ون ڈے میچز میں کپتانی کی ہے۔ نیا کپتان ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ ابھی اسے موقع دینا چاہیے، اگر اس سے کوئی غلطی بھی ہو جائے تو اس سے درگزر کرنی چاہیے۔ اور ابھی تو وہ جیت رہا ہے، تو آپ اس کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔ سینئر کھلاڑیوں کو نوجوان کھلاڑیوں کو عزت دینا ہوگی۔ اچھی بری کارکردگی، ہر دور میں رہی۔ کسی پر تنقید کرتے ہوئے اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی20 بارش کے باعث منسوخ

اس وقت پاکستان ٹیم کو ہماری دعاؤں اور سپورٹ کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ پاکستان ٹیم فائنل میں بھی جیتے گی۔ پاکستان زندہ باد۔