کرکٹ کے کھیل کا دوسرا رخ – بشارت حمید

ہر معاشرے میں جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے کھیلوں کی بہت اہمیت ہے لیکن اعتدال کی راہ یہ ہے کہ کھیل کو بھی کھیل کی حد تک ہی رکھا جائے نہ کہ اسے سر پر سوار کر لیا جائے۔

ہمارے ہاں 92ء میں ورلڈکپ جیتنے کے بعد غیر اعلانیہ طور پر کرکٹ کو قومی کھیل کا درجہ مل گیا تھا۔ ہر ملٹی نیشنل کمپنی نے پاکستانی قوم کے اس کھیل کے ساتھ جنون کو کیش کروانے کی کوشش کی اور پھر اس دوڑ میں پرائیویٹ ٹی وی چینل بھی شامل ہو گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوا بھی اس کھیل میں حصہ دار بن گیا اور آدھی سے زیادہ ٹیم جوئے بازوں کے ہاتھوں میں آ گئی۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس لیول پر پہنچ جانے کے بعد اس کھیل پر پابندی لگا دی جاتی لیکن حکومتی سطح پر اس کھیل کی سرپرستی اور کمپنیوں اور چینلوں کے مالی مفاد نے اس کی سپورٹ جاری رکھی۔

ٹی وی چینلز نے تو اس کھیل کو اتنی اہمیت دے دی کہ اگر خدانخواستہ کہیں کسی حادثے میں 100 افراد جاں بحق ہوگئے لیکن اسی دن کرکٹ میچ بھی تھا تو نیوز ہیڈ لائنز میں کرکٹ کی خبر پہلے اور حادثے کی خبر بعد میں دی گئی اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ یعنی انسانیت سے زیادہ یہ کھیل اہم ہے۔ پھر ہمارا معاشرہ بے حسی کا شکار کیسے نہ ہو۔ حکومت کے ہاتھ بھی عوام کی توجہ سنگین مسائل سے ہٹانے کا ایک ذریعہ آ گیا کہ جب کبھی عوامی دباؤ زیادہ ہو تب کوئی کرکٹ ٹورنامنٹ کروا دو۔ لوگ سب کچھ بھول بھال کر اس میں مگن ہو جاتے ہیں۔

میچ کے دن سرکاری اور نجی دفاتر میں حاضری کم ہو جاتی ہے۔ لوگ دفتر میں کام کرنے کی بجائے میچ دیکھتے رہتے ہیں۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھائی نہیں ہوتی کہ سب اسی کے دیوانے ہوئے پھرتے ہیں۔ کتنا وقت، بجلی اور دیگر وسائل اس کھیل کے پیچھے ہم ضائع کرتے ہیں، اس کا بھی اندازہ ہے کسی کو؟ چلیں میچ کھیلنے والوں کو تو دولت اور شہرت ملتی ہے لیکن دیکھنے والوں کو کیا ملتا ہے؟ کمزور دل لوگ میچ ہارنے پر جان سے بھی گزر جاتے ہیں۔ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ یہ جان کس کے راستے میں دی گئی۔ کیا زندگی کا یہی مقصد تھا؟

انڈیا کے ساتھ میچ کو تو جیسے کفر اور اسلام کی جنگ سمجھا جاتا ہے حالانکہ اسلام کے ساتھ کیا تعلق اس کھیل کا جس کی رگ و پے میں جوئے کی سرایت ہو۔

اگر قرآن مجید کی تعلیمات پر غور کیا جائے تو یہ بالکل واضح نظر آتا ہے کہ یہ کھیل شیطان کا ایک ہتھکنڈہ ہے جس کے ذریعے وہ ہمیں اللہ کی یاد اور آخرت سے غافل کیے رکھتا ہے۔ آپ احباب نے ابھی اسی رمضان میں یہ نوٹ کیا ہوگا کہ میچ کے وقت نمازی حضرات بھی باجماعت نماز اور تراویح کو ملتوی کر دیتے ہیں کہ میچ دیکھنے سے محروم نہ رہ جائیں ہاں نماز کی تو خیر ہے بعد میں پڑھ لیں گے۔

اس پر مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ اور اب آخری عشرہ قیام الیل میں گزارنے اور شب قدر تلاش کرنے اور اپنے رب سے تعلق جوڑ کر اپنی مغفرت حاصل کرنے کی کوشش کے بجائے اس کرکٹ کے جوئے بازوں کے لیے دعائیں کرنے میں صرف کیا جا رہا ہے۔ میرا یہ سوال ہے کہ جب 92ء میں ورلڈکپ جیتا تھا تب ہمارے ملک میں کیا بہتری آئی تھی؟
کیا ہم محفوظ ہو گئے تھے؟
کیا یہاں غربت ختم ہوگئی تھی؟
کیا امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگئی تھی؟
کیا پاکستان سپر پاور بن گیا تھا؟

یقینا” ایسا کچھ نہیں ہوا تھا، البتہ یہ ضرور ہوا تھا کہ میڈیا کو ہمارے معاشرے میں بیچنے کے لیے نیا چورن مل گیا تھا اور کرکٹ کو سپانسر کر کے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کاروبار اور منافع میں اضافہ ہو گیا تھا۔
خدا کے لیے سنجیدہ لوگوں اور پرنٹ و سوشل میڈیا کے لکھاری حضرات کو سوچنا چاہیے کہ قومی کھیل کو تو تباہ کر دیا گیا ہے، اور وہ کھیل جو ہمارا قومی کھیل بھی نہیں ہے، اس کے پیچھے پاگل ہوئے پھرنا کہ کسی اور چیز کا ہوش ہی نہ رہے کہاں کی عقلمندی ہے۔ رمضان المبارک کے چند دن جو باقی رہ گئے ہیں، ان میں اس طرح کی فضولیات کو ترک کرتے ہوئے اللہ سے اپنی ہدایت اور مغفرت مانگنے کی طرف پوری توجہ صرف کرنی چاہیے کہ یہ ہماری اصل ضرورت ہے.

Comments

FB Login Required

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

Protected by WP Anti Spam