اسے گرا دو، اسے جلا دو - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

یہ درخت سایہ دینے لگا ہے، اسے گرا دو.
اس پر پھل پھول آنے سے پہلے اسے جلا دو.
اس کی یہ مجال کہ پہلے سے سربلند درختوں کو جھکانے چلا ہے. بڑے درختوں کی دیمک زدہ جڑوں کو ہلانے لگا ہے. اس کی تازہ جوان مضبوط جڑیں زمین میں گہرائی تک اتر گئیں تو پرانے اشجار کو جگہ خالی کرنا پڑے گی، ان کی شان و شوکت کا ظاہری بھرم اپنی ہی دیمک زدہ جڑوں اور کھوکھلے تنوں سے جھلک جھلک جائے گا. نہیں نہیں! اس نئے شجر کو گرا دو، کاٹ ڈالو، اسے کاٹ ڈالو. یہ ہمارے بڑوں کے لگائے پودوں کو گرا کر نیا سایہ پھیلانا چاہتا ہے، یہ تازہ ہوا کی بات کرتا ہے. اس کی یہ مجال. اس کے پھل کا ذائقہ اگر نئی نسل کو لگ گیا تو پرانے برج الٹ جائیں گے!.

پرانے برج الٹ جائیں گے؟
کیسے کیسے؟
پھر یہ سارا نظام کیسے چلے گا؟
یہ بد باطن کوڑھ سے بھرا سرطان زدہ نظام اس نئے درخت کی پھیلائی فرحت بخش آکسیجن کا متحمل نہیں ہو سکتا. کاٹ ڈالو اسے.

اس نئے شجر کا قصور کیا ہے حضور؟
قصور پوچھتے ہو قصور! بوڑھے اشجار سر جوڑ کر بیٹھے. ان کی شاخیں اس طرح ایک دوسرے میں پیوست ہوئیں کہ ان کے نیچے ایک روشنی کی کرن تو کیا تازہ ہوا بھی نہ پہنچ پاتی تھی. دم گھٹنے والا مہیب، حبس آلود اندھیرا جس میں کوئی جاندار پنپ نہیں سکتا.
ایک بوڑھے شجر نے سرگوشی میں کچھ کہا. تمام اشجار کی اندھی آنکھوں میں شیطانی چمک نمودار ہوئی. ہاں ہاں! درست درست! یہی ایک حل ہے.
بوڑھے شجر نے حکم دیا، تمام جنگل میں یہ افواہ پھیلا دو کہ اس جوان شجر سے آسمانوں پر موجود بیری کے مقدس درخت کو خطرہ ہے. اس نے مقدس بیری کی شان میں نازیبا کلمات کہے ہیں
یہ گستاخ ہے.
یہ ناقابل معافی ہے
بولو! کیا یہ قصور قابل معافی ہے؟
مقدس بیری، خطرہ، توہین، برداشت، ناممکن ناممکن!
تمام ننھے کم عقل پودوں نے اپنی اپنی شاخیں اپنے منہ میں داب لیں. بھنبھناہٹ ابھری اور شور بن گئی.

یہ بھی پڑھیں:   سوہانجنا ایک کرشماتی و معجزاتی درخت! - ثناء اللہ خان احسن

گستاخ گستاخ گستاخ.
مارو مارو، کاٹو کاٹو

تمام پودے جو اپنے ساتھی پودے کو شجر بنتے دیکھ کر حسد کی اگ میں جھلس رہے تھے، ان کے نعرے سب سے بلند تھے. ننھے کم عقل پودے مقدس بیری کے عشق میں ایسے گم تھے کہ ان میں سے کسی کی عقل نے سوال کرنا بھی گستاخی کے مترادف جانا.
ہر پودا آگے بڑھا، کوئی حسد میں، کوئی دنیاوی فائدے کے لیے، کوئی بیری کی محبت میں تو کوئی ہجوم کا حصہ بن کر تماشا دیکھنے چلا اور بھیڑچال کا شکار ہو کر وہ بھی اس توانا حسین درخت کے قتل میں شامل ہوا.

توانا، امن پسند، حق گو شجر کہتا رہا، بتاتا رہا بے قصور. بے قصور.
ہجوم چلاتا رہا گستاخ گستاخ.
ایک جوان شجر، قدآور پست کردار اشجار کی سازش کا شکار ہوگیا.

بس اس جوان رعنا کے کٹنے کی دیر تھی کہ ہر فرسودہ شجر کی سرطان زدہ، دیمک اور کوڑھ سے متعفن جڑیں ظاہر ہو گئیں. ان کے کھوکھلے تنوں کی زہریلی بدبو نے، جس کی خبر نیا شجر دیتا تھا، تمام فضا مسموم کر ڈالی.

مالی نے تمام باغ کا جائزہ لے کر کھوکھلے بیمار درخت اکھاڑ دینے کا فیصلہ کیا. چھوٹے پودوں کی کانٹ چھانٹ کی. چند حاسد شریر کانٹے دار جھاڑیاں بھی اکھیڑ ڈالیں.
جوان شجر نے اپنی قربانی پیش تو کر دی لیکن جاتے جاتے فضا کو زہریلا کرنے والے عناصر کی نشاندہی کر گیا.

پیارے شجر!
اب تم جنت کی ہواؤں میں اپنی خوشبو پھیلاؤ. تمھارے بکھیرے بیج اب ننھی کونپلوں کی صورت زمین سے سر نکال چکے. تم آج بھی زندہ ہو . تم کل بھی زندہ رہو گے. تم پر سلامتی ہو

میں لاپتا ہوگیا ہوں
کئی ہفتے ہوئے
پولیس کو رپورٹ لکھوائے
تب سے روز تھانے جاتا ہوں
حوالدار سے پوچھتا ہوں
میرا کچھ پتا چلا؟
ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے
پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے
ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا
پھر وہ تسلی دیتا ہے
کسی نہ کسی دن
تم مل ہی جاؤ گے
بے ہوش
کسی سڑک کے کنارے
یا بری طرح زخمی
کسی اسپتال میں
یا لاش کی صورت
کسی ندی میں
میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں
میں بازار چلا جاتا ہوں
اپنا استقبال کرنے کے لیے
گل فروش سے پھول خریدتا ہوں
اپنے زخموں کے لیے
کیمسٹ سے
مرہم پٹی کا سامان
تھوڑی روئی
اور درد کشا گولیاں
اپنی آخری رسومات کے لیے
مسجد کی دکان سے ایک کفن
اور اپنی یاد منانے کے لیے
کئی موم بتیاں
کچھ لوگ کہتے ہیں
کسی کے مرنے پر
موم بتی نہیں جلانی چاہیے
لیکن وہ یہ نہیں بتاتے
کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہوجائے
تو روشنی کہاں سے لائیں؟
گھر کا چراغ بجھ جائے
تو پھر کیا جلائیں؟

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!