"بڑے لوگ" - شاہد سلیم

بڑے لوگ کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو عُہدے کی وجہ سے بڑے کہلاتے ہیں اور ایک وہ جو اپنے اعمال کی وجہ سے۔ ایک وہ ہوتے ہیں جوآپ کو افطاری پر نہیں بلاتے تو اُن کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ "جی بڑے لوگ ہیں، ہمیں کہاں بلائیں گے؟" ایک وہ بڑے لوگ ہوتے ہیں جن کو آپ اپنی پھٹیچر موٹر سائیکل سے ہارن ماریں تو بے اعتنائی سے پراڈو کے شیشے کی پرلی طرف دیکھنے لگتے ہیں لیکن راستہ نہیں دیتے۔ سب سے زیادہ معصوم ہوتے ہیں وہ بڑے لوگ جو غربت کی شرمندگی اور روزی روٹی کی فکر میں احباب سے زیادہ میل ملاپ نہیں رکھ پاتے تو اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ "بڑے لوگ ہیں جی، ملنے ہی نہیں آتے"۔

سب سے زیادہ خطرناک وہ بڑے لوگ ہوتے ہیں جو ضرورت نہ پڑنے تک بڑے ہوتے ہیں اور ضرورت پڑتے ہی تیسرے درجے کے بھکاری، مسکین اور معصوم شکل کے بھولے بھالے انسان بن جاتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ضرورت کے وقت بھکاری کو بھی ملیں تو وہ بھکاری خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے، اور ضرورت کے علاوہ یہ لوگ اگر قارون کو بھی مل آئیں تو وہ خود کو بھکاری سمجھنے لگتا ہے۔ ان لوگوں کی ضرورت کے وقت کی ہر چیز غیر ضرورت کے وقت کی چیزوں سے مختلف ہوتی ہے یعنی کپڑے، جوتے چہرے وغیرہ۔ ان سے دور رہنا مشکل، ان کی پہچان نہایت دشوار اور ان سے دوری نہایت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

ہر غریب ملک و بستی میں نیا نیا پیسہ دیکھنے والے کم ظرف لوگ آخری قسم کے بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی زیادہ تر اشرافیہ، سیا ستدان اس کلب کے فخریہ رکن ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے یہاں بچے پیدا نہیں ہوتے بلکہ 'بڑے' ہی پیدا ہوتے ہیں جو صرف بوقتِ ضرورت ہی بچے بنتے ہیں۔ یہ لوگ اُمید سے زیادہ حالات پر، حالات سے زیادہ ہاتھ پر یقین رکھتے ہیں یعنی کس کے آگے، کس وقت، کتنی دیر، کتنی دفعہ اور کتنا ہاتھ پھیلانا سکتا ہے؟ پیسے کو یہ بالکل ہاتھ کا میل سمجھتے ہیں اور اِن کا مَن اس مَیل میں لتھڑا ہوا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سفید پوش کی مدد سے کیا مراد ہے؟ حافظ محمد زبیر

پاکستانی دفتروں میں کلرک نام کی ایک مخلوق بھی پائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کے بڑے لوگوں کلب ان چھوٹے، بڑے لوگوں سے زیادہ مغز ماری سے پرہیز کرتا ہے۔ بقولِ راوی (اور دروغ بر گردنِ راوی) بڑے لوگ، صاحب، صاحب لوگ، میز کے نیچے سے، اوپر کے آرڈر، فائل کے پہیے، مُٹھی گرم جیسی ادبی اصطلاحات بھی کلرک طبقے کی ایجادات ہیں۔

اصلی اور کھرے بڑے لوگ کم پائے جاتے ہیں اور ان کی اکثریت گمنامی میں ہوتی ہے۔ ان کی چند نشانیوں میں یہ ہے کہ آپ کو بولنے کا زیادہ سے زیادہ موقع دیتے ہیں خود نہیں بولتے، مدد کا کہا جائے تو حسبِ حال فوراً مدد کرتے ہیں یعنی پچھلے 6 مہینوں کی بچت آپ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اِن لوگوں کی اکثریت بلکہ تقریباً سب ہی حج عمرہ کی آس میں ساری زندگی بچت کرتے ہیں پھر کسی اپنے سے بھی 'بڑے' کی بیٹی کے جہیز میں وہ پیسہ خرچ کرکے تسلی سے اپنی قضا نمازوں کو پورا کرنے کا اہتمام شروع کر دیتے ہیں۔ انہی لوگوں کی اکثریت جمعہ نمازوں کا عمرہ کرتے کرتے زندگی گزار دیتی ہے۔ مہمان کا احترام دل سےاور دعوتِ طعام (یعنی گزشتہ شب کا کھانا جو آئندہ شب کے لیے رکھا ہوتا ہے) سے فوراً کرتے ہیں، وعدے کے پکے اور دنیا کی چتر چالاکیوں سے اکثر نا آشنا ہوتے ہیں۔ اِس طرح کے لوگ اکثر پولیس والے سے اس لیے چپیڑ کھا لیتے ہیں کہ اِنہوں نے اُس کے سامنے ہارن مارا ہوتا ہے پھر ساتھ میں اُس پولیس والےکی صفائی بھی دیتے ہیں کہ یار ہارن کی آواز اُونچی ہے اِس کوٹھیک کروانا پڑے گا۔ دل کے اتنے صاف کہ جعلی پیٹرول والے سے ڈبل پیسوں میں پیٹرول خرید کراُس کو 5 روپے مزید دے دیتے ہیں کہ غریب بندہ محنت مزدوری کر رہا ہے۔ اکثر اس طرح کے لوگ صرف اس وجہ سے پانزی سکیموں اور ڈبل شاہ کے ہاتھوں لٹنے سے بچ جاتے ہیں کہ ان کے پاس پیسے تو دور کی بات ڈبل کرنے کے لیے چادر یا شاپر بھی نہیں ہوتے۔ اس چیز کا کم ہی چانس ہے کے آپ ان لوگوں سے کبھی مل پائیں مگر ہو سکے تو ایسے لوگوں کے صدقے دعا مانگیں امید ہے ضرور قبول ہو گی۔