پروپیگنڈے سے حقیقت تک - ممتاز شیریں

آپ سب نے گزشتہ دنوں ایک تصویر دیکھی ہوگی جس میں سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز، مصری صدر عبدالفتاح سیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک گلوب پر ہاتھ رکھے کھڑے ہیں اور تمام مسلم ممالک کے نمائندے ان کے پیچھے دست بستہ و صف بستہ کھڑے ہیں۔ اس تصویر نے دنیا کو جو پیغام دیا وہ شاید کسی بڑے خطاب سے بھی ممکن نہیں تھا۔

عمر رسیدہ سعودی بادشاہ کو اس کانفرنس سے جو توانائی ملی اور ڈونلڈ ٹرمپ سے جو نیا اعتماد حاصل ہوا اس کا نتیجہ قطر جیسے ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی صورت میں نکلا ہے۔ قطر ایک جزیرہ نما ملک ہے جس کے تین اطراف خلیج فارس ہے اور صرف ایک جانب اس کی سرحد سعودی عرب سے ملتی ہے۔ ملک کے تمام زمینی، فضائی اور بحری راستے بھی مسدود کردیے گئے ہیں۔ قطر زرعی ملک نہیں اس لیے زرعی اجناس کے لیے اسے پڑوسی ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ سرحد ملنے کی وجہ سے اس کی غذائی اجناس کا زیادہ تر انحصار سعودی عرب پر ہی ہے۔ افسوس کہ اسلامی ریاست کہلانے والے، سرزمین مقدس رکھنے والے اس ملک کو یہ خیال نہ آیا کہ رمضان کے بابرکت مہینے میں اس کی انا پرستی امت مسلمہ کو کس انتشار سے دوچار کرے گی؟ قطر کا جرم یہ قرار پایا ہے کہ وہ مصر کی تنظیم اخوان المسلمون اور فلسطین کی تنظیم حماس کی مالی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے حمایت کرتا ہے۔

قطری حکومت نے مئی کے آخر میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ ان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ہیک' ہو گئی ہے چنانچہ اس میں شائع ہونے والی کسی بھی خبر کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن ہیک شدہ ویب سائٹ پر امیر قطر تمیم بن حمد الثانی کے نام سے جاری ہونے والے ایک بیان پر جس میں ایران اور اسرائیل کی حمایت اور سعودی علاقائی پالیسی پر نکتہ چینی کی گئی۔ اس بیان کو سچ مانتے ہوئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن نے قطر کا حقہ پانی بند کر دیا ہے لیکن یہ ممالک یہ بات بھول گئے کہ قطر شام اور یمن کی طرح کوئی کنگلا ملک نہیں ہے بلکہ معاشی،معاشرتی اور سیاسی اثر ورسوخ کے حوالے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کہیں مضبوط ملک ہے۔ امریکی افواج کا ایک ہوائی اڈا العدید ائیر بیس بھی یہاں 1991ء سے قائم ہے جو کہ ظاہر ہے کہ قطر نے اپنی دفاع کو مدنظررکھ کر کیا ہے اور اس کو جدید اسلحے سے بھی لیس کیا ہے جس میں پیٹریاٹک میزائل بھی شامل ہیں۔ قطر کے خلاف کسی بھی طرح کی جارحیت اتنی آسان نہیں جتنی شام اور یمن میں ہے اگر کوئی ملک اس کو برما، شام اور یمن سمجھنے کی غلطی کرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج وہ خود بھگتے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   قطر بائیکاٹ - فرحان سعید خان

قطر کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ اس پر لگائے گئے الزامات میں کوئی جان نہیں ہے بلکہ یہ الزامات خود ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر قطر یہ دباؤ برداشت کر گیا تو سعودی عرب کے لیے گلے میں پھنسی ہڈی بن جائے گا کیونکہ قطر صرف ان کی ہی حمایت نہیں کرتا جن کا وہ الزام دھرتے ہیں بلکہ ان کی بھی حمایت کرتا ہے جن کا نام لینے سے آل سعود کے محلات میں بھونچال آسکتا ہے۔

قطر پر پابندیوں کی صورت میں سعودی عرب پاکستان پر اپنا روایتی دباؤ بڑھا سکتا ہے کہ وہ قطر کے بائیکاٹ میں اس کا ساتھ دے۔ ہم پڑھتے آئے ہیں کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو لیکن تجربہ یہ کہتا ہے کہ جس کا احسان لو اس کے بھی شر سے بچو۔۔۔ !

شریف خاندان کے لیے سرور محل میں دس سال کھائے گئے نمک کو حلال کرانے کا وقت آگیا ہے اگر ان کو اس میں دقت ہوئی تو اس کی وجہ وزیراعظم کی اپنی ذات ہوگی کیونکہ اگر قطری ناراض ہوئے تو نواز شریف کا تین پشتوں کا حساب چکتا کر دیں گے کیونکہ ایک قطری خط ہی ہے جو شریف خاندان کی دولت کو جائز اور حلال ہونا ثابت کرتا ہے پاکستان کی اچھی خاصی افرادی قوت اس وقت قطر میں برسر روزگار ہے۔ قطراور پاکستان کے درمیان صرف "پانامائی خطوط" ہی نہیں بلکہ "تلورانہ تعلقات" بھی پائے جاتے ہیں۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سعودی دباؤ کی صورت میں پاکستان کے لیے "نہ جائے رفتن،نہ پائے ماندن" کی صورت پیدا ہو جائے گی۔

قطر کی خارجہ پالیسی اپنے دیگر پڑوسی ممالک کی نسبت قدرے آزاد ہے اس کی وجہ قطر کے موجودہ جوان سالہ امیر تمیم بن حمد الثانی کے تعلیمی پس منظر کا ہے۔ جنہوں نے برطانوی اور فرانسیسی درسگاہوں سے تعلیم حاصل کی اور اس تعلیم نے یقیناً ان کا زاویہ نگاہ وسیع اور تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت قطر واحد عرب ریاست ہے جس میں خواتین کے حقوق کے لیے باقاعدہ ایک تحریری آئین نافذ ہے۔

قطر میں آرٹ، ادب اور ادیب کی بھی خوب حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ قطر کی عوام اپنے امیر سے والہانہ محبت کرتی ہے اور وہ چاہے قطری ہوں، پاکستانی ہوں، انڈین ہوں، یا سوڈانی،مصری ہوں یا ملائشین ، سب اپنے امیر کے ہمراہ اس مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں کہیں کوئی افراتفری نظر نہیں آرہی ہے۔ سپر مارکیٹس اسی طرح سامان خوردنوش سے لدی پھندی ہیں جیسی کہ پہلے تھیں۔ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میڈیا اپنی طرف سے بے بنیاد خبریں کہاں سے پھیلا رہا ہے؟ ڈیری مصنوعات سےلے کر پھل، سبزی، گوشت، انڈے ہر چیز وافر مقدار میں دستیاب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قطر اور عرب ممالک کا بحران - پروفیسر جمیل چودھری

قطر بھی اس پابندی کے خلاف ڈٹا کھڑا ہے اور ابھی اس نے یوسف القرضاوی کو شاہی محل میں دعوت افطار میں بلا کر بلا خوف و خطر گویا اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ اگر اخوان کی حمایت جرم ہے تو ہم یہ جرم قبول کرتے ہیں۔۔۔۔ !

کیا اسلام کا نام لینا، اس کی تعلیمات کو انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں نافذ کرنا دہشتگردی ہے۔۔۔؟

ہزاروں بے قصور مردوں، عورتوں اور بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا اور لاکھوں بے قصوروں کو جیلوں میں ٹھونسنے والا تو منظور نظر ٹھہرے اور مظالم سہنے والا دہشت گرد قرار پائے۔۔۔؟

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کی یہ پیشنگوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہے کہ۔۔۔۔۔!

حضرت ابو ہریرہ رضی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"اسلام شروع میں اجنبی تھا، اس کے ماننے والے اجنبی سمجھے جاتے تھے،پھر ایک زمانہ آئے گا کہ وہ پھر سے اجنبی ہو جائے گا جیسے ابتداء میں تھا" ( صحیح مسلم)

ان اجنبی سمجھے جانے والوں کو مبارک ہو۔۔۔۔!

اے اہل قطر! " تمہیں مبارک ہو"

اے دنیا کے اسلام پسندوں تمہیں مبارک ہو۔۔۔!

اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔۔۔!

اپنے جائز حقوق کے لڑنے والوں کے لیے تمہاری حمایت تمہاری ایمانی قوت اور مسلم اخوت کی مثال ہے۔۔۔!

اے اہل حرم۔۔۔۔۔ !!!

تمہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔ ؟

تم اللہ کے دشمن اور اس کے باغیوں کو اپنا دوست بناتے ہو اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے والوں کو دہشتگرد قرار دیتے ہو۔

تمہیں اللہ نے حرم کا پاسبان بنایا ہے تم سمجھتے ہو کہ حاجیوں کو پانی پلا کر اور حرم کے انتظامات کر کے تمہیں ہر طرح کی بد اعمالیوں کی چھوٹ مل گئی ہے۔۔؟

لیکن یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

"کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھہرا لیا ہے جو ایمان لائے اللہ پر اور روز آخر پر، اور جس نے جان فشانی کی اللہ کی راہ میں۔۔۔۔۔۔ اللہ کے نزدیک دونوں برابر نہیں ہو سکتے ہیں۔اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا ہے۔ " (سورۂ توبہ)