برژینسکی کی بساط اورگرم پانیوں کا اضطراب – عمر ابراہیم

امریکہ کا اہم دماغ، زیبیگنیف برژینسکی (Zbigniew Brzezinski) دنیا سے رخصت ہوا۔ ایک ایسی میراث چھوڑگیا، جس میں عقل والوں کے لیے سبق ہےاور اہل دل کے لیے اطمینان وایقان۔ وہ کیسے؟ برژینسکی کی بچھائی تزویراتی بساط پرمہروں کا پٹنا سمجھنا ہوگا۔

برژینسکی امریکہ کی قوت کے ناقابل تسخیرہونے پرایمان لایا تھا (فرانسس فوکویاما اوردیگردرآمد شدہ دانشوروں کی یہ نفسیات امریکی استعماریت کا منفرد موضوع ہے)۔ برژینسکی سمجھتا تھا کہ نہ صرف امریکہ دنیا کی پہلی 'حقیقی' سپرپاور ہے بلکہ یہی آخری 'حقیقی' سپرپاورثابت ہوگی (فرانسس فوکویاما کا عقیدہ تھا کہ امریکہ کا عہد زریں تاریخ کی تکمیل ہے)۔ برژینسکی تاریخ کی مادی ومعاشی تعبیرپرکامل یقین رکھتا تھا۔ وہ ہمعصرصہیونی دانشورہینری کسنجرکا ساتھی اورہمقدم تھا، مگرہم پلہ نہ تھا۔ وہ عالمی مقتدرحلقے کا آلہ کارتھا، جبکہ کسنجرشریک کارتھا۔ سو حقائق برژینسکی کی بساط سے باہرہی رہے۔ وہ زوال مغرب اور اسلام کی پیشرفت کا درست ادراک نہ کرسکا۔

یہ شاطر شخص (جاپانی النسل فرانسس فوکویاما کی طرح) نسلاً امریکی نہ تھا۔ وارسا پولینڈ میں پیدا ہوا تھا۔ پولیٹیکل سائنٹسٹ تھا۔ 1966ء سے 1968ء تک امریکی صدرلنڈن جانسن کا مشیررہا۔ 1977ء سے 1981ء تک صدرجمی کارٹرکا قومی سلامتی مشیررہا۔ انقلاب ایران اورافغانستان پرسوویت یونین کی جارحیت کے زمانوں میں امریکہ کی سکیورٹی پالیسیاں بنائیں، جنہیں بہت کامیاب قراردیا گیا۔

برژینسکی کا کام اُس شطرنج کی بساط پرسمجھا جاسکتا ہے، جو اس نے یوروایشیا پر غصب کے لیے بچھائی تھی، جس کے مہرے آج پٹ چکے ہیں۔ برژینسکی نے معروف کتاب The Grand Chessboard میں لکھا "سوویت یونین کی شکست اور انہدام امریکہ کی قوت میں تیزی سے اضافہ کا سبب بنا۔ امریکہ پہلی 'حقیقی' عالمی طاقت کےطورپرابھرا۔۔۔ (امریکہ کے لیے) یہ لازم ہے کہ یوروایشیا میں کسی چیلنجرکو نہ ابھرنے دے۔ امریکہ کے لیے یورو ایشیا ایک جغرافیائی وسیاسی انعام ہے۔ اس ضمن میں یہ اہم ہے کہ امریکہ کس طرح یوروایشیا پرمکمل قابو پاتا ہے۔ کیونکہ جوطاقت بھی یوروایشیا پرحکمراں ہوگی، وہ دنیا کے تین اقتصادی مراکزمیں سے دو پرقابض ہوگی۔ دنیا کی 75 فیصد آبادی یوروایشیا میں آباد ہے، دنیا کے بیشترخزانے یہاں کی زمینوں میں موجود ہیں۔ یورو ایشیا میں دنیا کی 60 فیصد قومی پیداوارہوتی ہے، دنیا میں توانائی کے معلوم وسائل کا تین چوتھائی حصہ یہاں پایا جاتا ہے۔ "

"درحقیقت، اسلامی احیاء روسی یاکسی بھی کافرقوت سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے (یہ الفاظ 83ء سے تا وقت اشاعت کتاب 97ء تک امریکہ کی پالیسی ضرورت تھے، جودرحقیقت معنوی اعتبار سے زمینی حقیقت ہی ثابت ہوئے، امریکہ کا گمان تھا کہ سوویت یونین کی شکست کے بعد افغان مجاہدین سے بہرصورت نمٹنا نہایت آسان ہوگا، یوں سمجھا جائے کہ اُن کے بغل بچے ہی ہیں، مگروقت نے عین برعکس حالات سے دوچارکیا، اور آج تک امریکہ گرم پانیوں میں مطلوبہ راہ نہ پاسکا۔)

صفحہ 139 میں برژینسکی لکھتا ہے کہ "پاکستان کے لیے، افغانستان میں سیاسی اثررسوخ Geostrategic depth کا متقاضی ہے، اور وسطی ایشیا سے بحیرہ عرب تک کسی بھی پائپ لائن کی تعمیر سے فائدہ اٹھانے والاہے۔"

برژینسکی کی بساط تین مراحل اورنوعیتوں میں واضح کی جاسکتی ہے۔ برژینسکی کی یورو ایشیا تھیوری، عزائم، اورناکامیاں۔ یوروایشیا کی معاشی وجغرافیائی اہمیت برژینسکی کا اکتشاف نہیں۔ برطانوی جغرافیہ دان ہالفورڈ جان میکنڈرنے 1904ء میں ایک پیپر لکھا تھا۔ پیپر The Geographical Pivot of History میں مشرقی یورپ اور ملحقہ خطے پرکنٹرول کودنیا پرحکمرانی کے مترادف قراردیا گیا تھا۔ وسطی ایشیا کے وسائل کے لیے بڑی طاقتوں کے مابین طویل Great Game آج زندگی اور موت کا کھیل بن چکا ہے۔

بلا شبہ، یوروایشیا کی اہمیت سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔ یہ واضح زمینی حقیقت ہے۔ برژینسکی کا کہنا درست تھا کہ امریکہ اگرعالمی حکمرانی قائم و دائم رکھنا چاہتا تھا، تووسطی ایشیا سے مشرقی یورپ تک وسائل پرقبضہ لازم تھا۔ بلا شبہ یہ حقیقت اب جھٹلانا ممکن نہیں کہ افغانستان میں پاکستان کا سیاسی اثررسوخ 'اسٹریٹجک ڈیپتھ' کے لیے ناگزیر تھا، اور ہمیشہ رہے گا۔ افغان جہاد اورکمیونزم ارادوں کوخاک میں ملانا تاریخ ساز فیصلہ تھا، سوویت یونین نے افغانستان کے بعد پاکستان سے گرم پانیوں تک قدم جمانے کا ارادہ کیا تھا، جوپاکستان کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا۔ ضیاء حکومت کے داخلی و انتظامی مسائل کا واویلا افغان جہاد کی عظمت اورتزویراتی اہمیت کم نہیں کرسکتا۔ افغان جہاد پرتنقید کے تیرچلانے والے آج آنکھیں کھول کردیکھ سکتے ہیں اور کان کھول کر سن سکتے ہیں کہ امریکہ اورروس سمیت عالمی وعلاقائی قوتیں گرم پانیوں سے وسطی ایشیا تک راستے ڈھونڈ رہی ہیں۔ چین نے پاکستان کے رستے 'سی پیک' جیسا عظیم منصوبہ شروع کیا۔ بھارت، ایران، اور کابل انتظامیہ کا اتحاد بندرگاہ چا بہارسے وسطی ایشیا تک تجارتی گزرگاہیں بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زورلگارہا ہے۔ جس جہاد افغانستان کوامریکہ کی جنگ کہا جاتا رہا ہے، وہی امریکہ آج وسطی ایشیا گریٹ گیم میں سب سے شکست خوردہ ہے۔ اگر افغان جنگ کا فاتح امریکہ ہوتا، توآج خطے کی صورتحال یکسرمختلف ہوتی۔

غرض آج افغانستان میں سیاسی وعسکری اثررسوخ سب کی آرزو ہے۔ جنوبی ایشیا سے وسطی ایشیا تک پہنچانے والے اس رستے پرسب کی نگاہ ہے۔ سب نے حتی المقدوراس سرزمین کو تباہ کیا، یہاں کے باشندوں کوموت کی نذرکیا۔ مگرافغانستان پرفتح کسی سے ممکن نہ ہوسکی۔ بالکل اسی طرح، بطورایسے پڑوسی جس کے ساحل گرم پانیوں کوچھوتے ہیں، پاکستان کے لیے افغانستان سے لاتعلق ہوجانا خودکشی کے مترادف ہے۔ اب نیا گریٹ گیم چین کے 'ون بیلٹ ون روڈ' وژن کے گرد گھوم رہا ہے۔ پاکستان اس کا اہم حصہ ہے۔ یہ ون بیلٹ ون روڈ آبنائے ملاکا سے چارہزارارب ڈالرسالانہ تجارت کا سامان کرے گا۔ پاکستان کے لیے اسٹریٹجک استحکام طے شدہ ہے، اس کے لیے افغانستان کی جانب سے ہرطرح کا اطمینان لازم ہے۔ یقیناً، پاکستان اور چین کودشمن چالوں کا سامنا ہے۔ بھارت کھلا دشمن ہے، پشت پرایران اور امریکہ نمایاں ہیں(جودانشور افغانستان میں پاکستان کی مداخلت پرواویلا مچاتے رہے ہیں، وہ بھارت کی افغانستان میں مداخلت پرکیوں چپ سادھے ہیں؟)

برژینسکی کے عزائم یہ تھے کہ سوویت یونین کی شکست کے بعد، افغان مجاہدین اورپاکستان کی مدد سے بآسانی یوروایشیا ایجنڈے پرعمل کیا جاسکے گا۔ مگرایسا نہ ہوسکا۔ دو سادہ سی وجوہات تھیں۔ برژینسکی سمیت پورا امریکہ اوردیگرمادہ پرست یہ سمجھتے رہے کہ سویت یونین کی شکست جدید اسلحے اوراسٹنگرمیزائل کے سبب ممکن ہوئی، یہ یکسرغلط خیال تھا۔ دوسری وجہ تہذیبوں کے تصادم کا پہلویکسرنظرانداز کیا جانا تھا، جوعالمی مقتدر حلقے کا اولین اوراصل ایجنڈا تھا اور ہے۔

اب موجودہ صورتحال کا جائزہ برژینسکی کی ٹوٹی پھوٹی بساط اورگرم پانیوں کا اضطراب واضح کرسکتا ہے۔ برژینسکی نے ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ مضمون Towards a Global Realignment میں موصوف نے لکھا کہ امریکہ کی عالمی استعماریت کا زمانہ باقی نہ رہا، اور اب کوئی بھی استعماردنیا پرتنہا غالب نہیں آسکتا۔ برژینسکی نے امریکہ کومشورہ دیا کہ روس، چین، اوردیگرقوتوں سے تعاون کرے، یوروایشیا کے وسائل میں باہم بندر بانٹ پراکتفا کرے۔ مسلم دنیا میں بہت تباہی مچائی جاچکی، الجزائر سے افغانستان تک لاکھوں مسلمان قتل کیے گئے، اب ہرجانب سے انتقام کا دھواں اٹھ رہا ہے۔ اب امریکہ کو چاہیے کہ سب کوساتھ لیکر چلے، اور قیادت ورہنمائی کرتا رہے۔

برژینسکی کے اس اعتراف میں واضح ہے کہ امریکہ مسلمان دنیا کا فاتح نہیں بن سکا۔ دوسری صراحت یہ ہے کہ اب دنیا میں کسی استعماریت کی گنجائش نہیں۔ ان دو باتوں کے بعد برژینسکی کی جانب سے امریکہ کا رہنما کردارازسرنوتجویز کرنا نامعقولیت ہے۔

لب لباب یہ ہے، کہ برژینسکی کا دماغ خود فریبی سے دھوکا کھاگیا۔ امریکہ گرم پانیوں کی جنگ نہ جیت سکا۔ آج دنیا معاشی واقتصادی میدان میں چین پرانحصار کررہی ہے، اورانسانی تہذیب کی تشکیل نوکے لیے اسلام کی محتاج ہے۔