میاں بیوی کی تلخیاں – اشفاق پرواز

مغرب کی طرح برصغیر میں بھی میاں بیو ی کے درمیان تعلقات میں کشید گی اور لڑائی کی صورت میں علیحدگی اور طلاق معمول بنتی جارہی ہے۔ مسلم معاشروں میں یہ صورتحال اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ میاں بیوی کے درمیان اختلافات کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ حالات کو سمجھنے کا فقدان ہوتا ہے جس کی وجہ سے غلط فہمیاں پید ا ہوتی رہتی ہیں جو بعد میں لڑ ائی اور کشید گی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ان کشیدگیوں کے نفسیاتی اثرات نہ صرف بچوں پر پڑتے ہیں بلکہ میاں بیوی دونوں نفسیاتی کھنچاؤ کی وجہ سے بیمار رہنے لگتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق میاں بیوی کے دمیان تنازعات یا توپڑھے لکھے خاندانوں میں پائے جاتے ہیں یا پھر جاہل طبقوں میں لیکن دونوں صورتوں میں اس کے اثرات آہستہ آہستہ معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔

برصغیر میں یہ صورت حال “دوبئی چلو” کی وجہ سے بھی پیدا ہوئی ہے۔ کیونکہ عورتوں میں مردوں کے مقابلے لالچ کا عنصر کچھ زیادہ ہی پایا جاتا ہے اس لیے وہ “دوبئی چلو” کے پیسے سے نہ صرف مسرت آمیز بننا چاہتی ہیں بلکہ اپنے محلے میں پیسے کی بنیاد پر با عزت اور دوسروں سے اعلٰی اور منفرد زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ میں کئی ایسے افراد کو جانتا ہوں جو اپنے بچوں کو چھوڑ کر دوبئی محض اس لیے گئے ہیں کہ اُن پر بیویوں کا شدید دباؤ تھا۔ حالانکہ وہ بچوں کو چھوڑ کر بیرون ملک جانے کے لیے قطعاً تیار نہ تھے۔ شوہروں کے چلے جانے کے بعد ان خاندانوں کو جس طرح سماجی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے تقریباً ہر شخص واقف ہی ہے۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیوی کے کہنے میں نہیں آتے اور وطن میں رہ کر اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں۔ ایسے میاں بیوی میں تلخی روزانہ کا معمول بن جاتی ہے اور اگر خاندان کا کوئی بزرگ ان تلخیوں کو دور نہیں کرتا تو اس کی بھیانک شکل طلاق کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔

بعض گھرانے ایسے بھی ہیں بلکہ آج کل تو ان کی تعداد کافی بڑھ رہی ہے، جہاں میاں بیوی دونوں کما رہے ہیں۔ اس لیے عورت میں برابری کا شعور پیدا ہو جاتا ہے اور وہ مرد کو کسی خاطر میں نہیں لاتی۔ یہی رویہ گھر میں کشید گی اور تلخی کا باعث بنتا ہے کیونکہ بعض خواتین جن کی تنخواہیں مردوں سے زیادہ ہیں وہ اپنے شوہر کو حقیر سمجھتی ہیں ۔ فخریہ انداز اور اپنے رشتہ داروں میں شوہر کو نیچا دکھانے کی کوششیں اور اسے خاطر میں نہ لانا تعلقات میں کھنچاؤ پیدا کرتا ہے اور نتیجہ علیحدگی کی صورت میں نکلتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں میاں بیوی کے تعلقات کی خرابی میں رشتہ دار بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے “مفید مشورے” گھروں میں کہرام برپا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ بسا اوقات مرد عورتوں کی جائز خواہشات کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے جس سے گھر میں خواہ مخواہ جھگڑے کی نوبت کھڑی ہو جاتی ہے اور معمولی باتوں سے شروع ہونے والے یہ جھگڑے تلخ انجام تک پہنچتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جھگڑوں اور تلخیوں کو کیسے ختم کیا جائے اور گھر کو حقیقی جنت بنایا جائے؟ یہ سوال بہت اہم ہےکیونکہ خاندان معاشرہ کی اکائی ہوتا ہے، اگر وہی شکست و ریخت کا سامنا کر رہا ہے تو معاشرہ کیسے مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکتا ہے؟

یہ بات سمجھنا ہوگی کہ گھر کی ذمہ داری اصل میں عورت پر عائد ہوتی ہے اور مسلم معاشرے نے صنف نازک پر یہ بہت اہم بار ڈالا ہے۔ وہ بچوں کی ماں بھی ہے کہ جس کے ذمہ صحیح پرورش ہے اور دوسری جانب شوہر کی عزت و تکریم بھی اس پر فرض ہے۔ اگر اس نے مغرب کی عورت کی طرح مرد کو برابر کا سمجھ کر کم حیثیت دینے کی کوشش کی تو اس سے گھر کا توازن متاثر ہوگا اور وہیں سے کشیدگی کا آغاز ہو جائے گا۔ ایک کہاوت ہے کہ “عورت کی نرمی آگ کو سرد کر دیتی ہے لیکن اس کی تلخی گھر کو برباد بھی کر سکتی ہے ” یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مرد کو عورت پر فوقیت دی ہے جبکہ حقوق کے لحاظ سے دونوں یکساں ہیں۔

اسلام نے خاندان کا سربراہ مرد کو قرار دیا ہے اور اس ذمہ داری کے بجائے عورت نے اسے جدید معاشرتی تقاضوں میں جکڑ دیا ہے حالانکہ زندگی کا اصل سکون سادہ رہن سہن میں مضمر ہے۔ حد سے بڑھتے ہوئے مطالبات کے نتیجے میں مرد کی حیثیت متاثر ہوتی ہے اور وہ ایسے دوراہے پر پہنچ جاتا ہے جہاں ہر راستہ اور ہر رشتہ خطروں میں گھرا ہوتا ہے۔ تیز رفتار زندگی کے تقاضوں نے گھر کا شیرازہ بکھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میاں بیوی کی تلخیوں میں مادہ پرستی کا کردار کلیدی ہے۔ اگر میاں بیوی صبر کے ساتھ توکل پر زندگی گزارنے کا لافانی سبق حاصل کرلیں تو گھریلو تلخیاں ختم ہوجائیں۔ مادہ پرستی انسان کو نہ صرف انسانیت سے دور کر دیتی ہے بلکہ وہ خدا سے بھی دور چلا جاتا ہے۔

یہ صحیح ہے کہ آج کا دور مقابلے کا سخت دور ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ گھر کے بنیادی رشتے تقریباً وہی ہیں جوآج سے 1400 سال پہلے تھے۔ اگر عو رت نے معاشی مجبوری کی بنا پر دفتروں میں ملازمت کر لی ہے تو اس سے بنیادی رشتوں میں تو فرق نہیں آیا، صرف عورت کی اضافی ذمہ داری سے گھر کے کاموں میں تھوڑا سا فرق پڑا ہے۔ لیکن با شعور اور با صلاحیت خواتین ایسے چھو ٹے معاملات کو بہت جلد سلجھا لیتی ہیں۔ میں ایسی بہت سی خواتیں کو جانتا ہوں جو سرکاری محکموں میں بڑے ذمہ دار عہدوں پر فائز ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ان کے گھر بھی قابل رشک ہیں۔

یاد رکھیں اگر کسی عورت نے اپنے شوہر کا کسی دوسرے مرد سے اور کسی شوہر نے اپنی بیوی کا کسی دوسری عورت سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی تو اس سے گھر میں تلخیاں پیدا ہوں گی اور ازدواجی تعلقات متاثر ہوں گے۔ ایک اچھے اور خوشحال خاندان کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے باہمی احترام کا جذبہ پیدا کر لیں اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ٹھنڈے دل و دماغ سے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ یہی اسلام کا راستہ ہے۔

Comments

FB Login Required

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز ٹنگمرگ، مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں۔

Protected by WP Anti Spam