سری نگر کی بیٹیاں - عمر منہاس

کشمیر کی جدو جہد آزادی آج ایک نئے عہد میں داخل ہو چکی ہے اور یہ کشمیر گزشتہ تین دہائیوں میں آزادی کے لئے ابھرنے والی مختلف تحریکوں سے کہیں زیادہ شدت کی حامل ہے۔ اس بار یہ سری نگر اور دیگر شہری علاقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وادی کے جنوبی حصوں سمیت دیہاتوں اور دور دراز علاقوں تک بھی پھیل چکی ہے۔ وادی کے لاکھوں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب طالبا ت کی ایک بڑی تعداد بھی اس تحریک کا حصہ ہیں اور کشمیر کے تعلیمی ادارے قابض فوج کے خلاف لڑائی کا میدان بن چکے ہیں۔
اگر چہ ماضی میں بھی کشمیر کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں پولیس اور قابض فوجیوں پر پتھراؤکرتی نظر آ رہی تھیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالب علموں کے حالیہ مظاہروں کے دوران نہتی طالبات اپنی چمکدار سفید وردیوں، ترتیب سے لپٹے دوپٹوں اور کالے حجابوں میں ملبوس سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ یہ طالبات پولیس اور فوجی دستوں پر پتھراؤکرنے میں پیش پیش ہیں۔ وحشی درندوں نے ان طالبات کو بھی پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا، آنسو گیس کی شیلنگ کی، براہ راست گولیاں چلائیں جس کی وجہ سے کئی طالبا ت سر میں چوٹیں لگنے سے زخمی بھی ہوئیں اور بعض کی بینائی بھی متاثر ہوئی ہے۔
شجاعت کے اس بے پناہ مظاہر ے نے کشمیر اور کشمیر سے باہر آزادی پسند لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ سرحد کے دونوں جانب کے کشمیریوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہیں جب کہ حکمران طبقے کے خلاف نفرت، غم اور غصے میں اضافہ ہوا ہے۔ روزنامہ دی ہندو میں 29اپریل کو شائع ہونے والا سد آنند مینن کا مضمون انہی طالبات کے متعلق ایک عام ہندوستانی کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ مضمون کا عنوان ہے کہ ’’جب چھوٹی بچیاں پتھر اٹھا لیں ‘‘۔ مضمون میں ’سدآنند مینن ‘لکھتے ہیں کہ اخبارات کے سرورق پر ان بچیوں کی تصاویر نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ’’یہ تصاویر بہت سی وجوہات کے باعث قابل توجہ ہیں۔ ایک یہ کہ پہلی دفعہ ہم کشمیر کی ننھی طالبات کو فوجی دستوں اور پولیس پر پتھر پھینکتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ ہم گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے میں کشمیری لڑکوں کی پتھر پھینکنے کی تصاویردیکھنے کے کم و بیش عادی ہو چکے ہیں۔ ہم نے کئی بار مقامی پولیس اورمسلح افواج کو بھی پتھر پھینکتے ہوئے دیکھا ہے۔ در حقیقت یہ ایک رسم بن چکی ہے جو اس مسئلے کا سیاسی حل نہ ہونے کے باعث ایک بے کار اور غیر اہم سا عمل بن کر رہ گیا ہے۔ جب بھی یہ واقعات ہوتے ہیں تو چند لازمی تصاویر میڈیا میں نظر آتی ہیں اور کچھ ذہین کالم نگار زبانیں نکال لیتے ہیں اور دانشمندی سے لکھتے ہیں کہ تشدد کا یہ چکر بند گلی میں پہنچ چکا ہے لیکن ان طالبات کو پتھر پھینکتے دیکھ کر نظر آتا ہے کہ ہندوستان کو کشمیر میں شکست ہو چکی ہے اور طالبات کی باڈی لینگویج سے بھی یہ واضح ہے ‘‘۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کے مظالم کے خلاف یہاں آواز بلند نہ کرنا ایک اجتماعی جرم ہے۔ ’’اور جب چھوٹی بچیاں پتھر اٹھا لیں اور سڑکوں پر نکل آئیں تو ہمیں اپنے ضمیر اور قومیت کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ‘‘۔ کشمیری طالبات کی اس مزاحمت نے یقیناًبھارتی حکمرانوں کو بھی سر پکڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دہلی میں ہل چل مچ چکی ہے۔ ان طالبات سے کیسے نمٹا جائے بھارت کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ ان کشمیر ی طالبات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ کشمیری کسی کے بہکاوے میں آکر بھارتی افواج پر پتھراؤنہیں کر رہے بلکہ وہ اپنے پیدائشی حق اور آزاد ی کے لئے گھروں سے باہر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔ میر ے اکثر رشتہ دار خونی لکیر کے اس پار رہتے ہیں جن میں میری ایک کزن جو یونیورسٹی آف کشمیر سری نگر سے تاریخ کے مضمون میں ماسٹر کر رہی ہیں ان سے اکثر وہاں کے حالات پر گفتگو ہوتی ہے۔۔ جب کبھی خواتین کی جدو جہد پر گفتگو ہوتی تو میں انہیں کہتا کہ کشمیر کی جنگ تو صرف وہاں کے نوجوان طلبا ء لڑ رہے ہیں۔ تو ان کا ہمیشہ یہی جواب ہوتا کہ نہیں بھائی! کشمیر کی بیٹیاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ جب ہمارے باپ، بھائی پیلٹ گنوں اور گولیوں کے چھروں سے چھلنی ہو کر آتے ہیں تو کشمیر کی بیٹیاں ہی ان کے رستے زخموں پر مرہم لگاتی ہیں۔ آپ کو علم نہیں ہے کہ کشمیر کی اصل لڑائی تو ہم ہی لڑ رہے ہیں۔ وہ بھائی جن کے بالوں میں کنگھی کرتی تھیں، جن کے سروں پر سہرے سجانے کے خواب دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ ان کے زخموں سے رستا خون اور بھائیوں کی لاشوں کے سرہانے بیٹھنے والی بہنوں سے پوچھیں کہ وہ کیسے آزادی کے لئے اپنے ارمانوں کی قربانیاں دیتے ہیں۔
یقیناًکشمیری نوجوانو ں کی جدو جہدمیں طالبات کی شرکت نے انسانی حقوق کے الاگ راپنے والے اداروں کو کشمیر میں بھارتی تسلط کے حوالے سے ایک پیغام دیا ہے کہ عورت جب میدان میں ا ٓتی ہے تو اس کے سامنے پہاڑ بھی ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے جذبے کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ اب کشمیر کی بیٹیاں ہاتھوں میں محض قلم، کتابیں اور آٹے کے پیڑے ہی نہیں اٹھار ہیں بلکہ انہوں نے قلم کے ساتھ ساتھ بھارتی تسلط سے نبرد آزما ہونے کے لئے پتھر بھی اٹھا لیے ہیں۔ میرا سلام ہے کشمیر کی ان نڈر دلیر بچیوں کو جنہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سری نگر کی بیٹیاں ہیں۔ اب وہ بھائیوں کے زخموں پر مرہم نہیں لگاتیں بلکہ وہ ان ہاتھوں کو بھی کاٹنے نکل پڑی ہیں جنہوں نے ان کے بھائیوں کے سینے چھلنی کیے ہیں۔۔۔ !