آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی - محمد عامر خاکوانی

آ ج کل ہر طرف چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور (CPEC) کا تذکرہ چل رہا ہے۔ اخبارات کے صفحات سے لے کردانشوروں کے ڈرائنگ رومز اور تھڑوں کی عوامی محفلوں سے سوشل میڈیا کے چنڈو خانے تک ہر جگہ سی پیک پر گفتگو چل رہی ہے۔ایسے ایسے نکتہ سنج پیدا ہوگئے ہیںکہ حیرت ہوتی ہے۔ جسے گھر میںٹی وی کا ریموٹ تک اٹھانے کی اجازت نہیں، فیس بک پر وہ بھی وہ عالمی سیاست کی الجھی گرہیں سلجھا رہا ہے۔اگلے روز ایک معاصر انگریزی اخبار نے پورے ڈیڑھ صفحات پرسی پیک کے حوالے سے کچھ تفصیلات شیئر کیں۔ انداز یوں تھا کہ دیکھا ہم نے وہ خفیہ دستاویزات حاصل کر کے شائع کر دی ہیں،جو آج تک کسی کے ہاتھ نہیں لگی تھیں۔ حوصلہ کر کے ہم نے بھی پوری تفصیل پڑھ ڈالی۔ جو تاثر دیا جار ہا تھا،ویسا کچھ نہیں ملا۔ یوں لگا جیسے اخبار نے اپنی ماضی قریب کی غلطی کی تلافی کی کوشش کی ہو۔چند ماہ پہلے نیوز لیک شائع کی ، جس نے تہلکہ مچا دیا اور سول ملٹری تعلقات کا تنازع کھڑا ہوگیا۔ اب یہ نام نہاد لیک شائع کر کے شائد یہ بتلانا مقصود تھا کہ ہم تو پروفیشنل صحافی ہیں، جو خبر ملتی ہے ، چھاپ دیتے ہیں.... وہ بظاہر فوج کے خلاف تھی، شائع کر دی گئی، یہ سی پیک والی بظاہر سول حکومت کے خلاف جارہی ہے، اسے بھی شائع کیا گیا۔سچ تو یہ ہے کہ اخبارات میں تو بہت کچھ چھپتا رہتا ہے، ان کا کچھ بگڑتا بھی نہیں۔ زیادہ ہوا تو چند سطروں کی معذرت چھاپ دی۔ سی پیک کے حوالے سے مگر زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ سی پیک پاکستان کے لئے اس قدر اہم منصوبہ ہے کہ عام پاکستانیوں کوبھی اس بارے میں چند ایک نکات واضح کر لینے چاہییں۔

سب سے پہلے تو ہر ایک یہ سمجھ لے کہ سی پیک بذات خود کچھ نہیں بلکہ یہ چین کے بہت بڑے اقتصادی اقدام(Initiative) ون بیلٹ، ون روڈ یعنی اوبور (OBOR )کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور کو اوبورکے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اس سے چین کو یقیناً کچھ فوائد حاصل ہوں گے، ممکن ہے بڑے فوائد ،مگر اسی طرح کے کئی پراجیکٹ ہیں جو دنیا کے متعدد ممالک میں شروع کئے جارہے ہیں، ایشیاسے افریقہ اور یورپ کے کئی ممالک میں بھی اوبور کے تحت بڑے پراجیکٹس بنائے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ تاثر دیا گیا جیسے یہ شریف خاندان کی فہم وفراست کا نتیجہ ہے، جنہوں نے چینیوں کو اس قدر بڑے پراجیکٹ کے لئے آمادہ کر لیا۔یہ بات قطعی طور پر بے بنیاد اور غلط ہے۔
ہم مان لیتے ہیں کہ ہمارے حکمران خاندان کا بچہ بچہ جینئس ہے۔ اتنی تیزی سے ہر ایک اربوں کے اثاثوں کا مالک بن گیا ہے تو یقیناان کے سر وں میں عام انسانوں سے دگنے سائز کا دماغ موجود ہوگا۔ ایسی ذہانت دنیا کے کس اور خاندان میں ہوگی، جہاں دادا کو بیس پچیس سال پہلے اندازہ ہوجائے کہ میرے فلاں بیٹے کی فلاں اولاد بڑی ذہین اور سمجھدار نکلے گی، اس لئے میں اپنی بیرون ملک بنائی گئی جائیداد اس پوتے کے نام کر دوں ؟اس غیر معمولی ذہانت کے باوجود بہرحال سی پیک ہمارے حکمرانوں کی وجہ سے ڈیزائن نہیں ہوا۔ پاکستان میں جو بھی حکمران ہوتا، سی پیک نے آنا ہی تھاکہ یہ ڈیزائن ہی دنیا بھر کے لئے کیا گیا۔

بعض حلقے یہ سوچ بھی پھیلا رہے ہیں کہ چین پاکستان کے وسائل پر قابض ہونا چاہتا ہے اور ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ کہیں کسی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کاشکار نہ ہوجائے۔ یہ باتیں درست نہیں۔ چین ایسٹ انڈیا کمپنی ہے اور نہ ہی اس زمانے کی طرح کے کلونیل ازم کو دہرایا جا سکتا ہے۔ون بیلٹ، ون روڈ یعنی اوبور درحقیقت ایک بڑا اعلان ہے ۔ یہ اعلان کہ چین نئی اقتصادی سپر پاور ہے ۔ یہ اعلان کہ چین کھل کرایک عظیم معاشی سرگرمی کے لئے سامنے آ رہا ہے۔ پرانا ورلڈ آرڈر ، پرانی منڈیاں، پرانی معاشی قوتوں کا نیٹ ورک اب ٹوٹے گا اور چینی معیشت کو نئی بڑی قوت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔

ہمارے لئے اس میں کیا ہے؟ دو اہم ترین پہلو۔ ایک تو سی پیک کی صورت میں ہم اس عظیم معاشی سرگرمی کا ایک اہم حصہ بن جائیں گے۔ ہمارے لئے بے شمار ترقی اور خوشحالی کے امکانات اس موجود ہیں ، کوشش اور جدوجہد کر کے ہم انہیں حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس کی وجہ سے ہمارے ہاں شاندار انفراسٹرکچر تعمیر ہونے کے ساتھ مختلف شعبوں میں غیر معمولی مہارت حاصل ہوجائے گی۔ نئے علوم، نئے ہنر اور نئی مہارتیں جو آج تک حاصل نہیں تھیںاور نہ ہی دنیا بھر میں سے چین کے سوا کوئی ہمیں وہ چیزیں سکھانے کے لئے تیار ہے۔

اسی انگریزی اخبار کی تفصیلی رپورٹ میں( اگرچہ وہ حتمی اور تصدیق شدہ نہیں ہے، مگر مفروضے کے طور پر ہم اس میں کچھ وزن تسلیم کر لیتے ہیں) کئی شعبوں کی صنعتوں کے حوالے سے بڑی دل خوش کن تجاویز اور اشارے دئیے گئے۔ اس متنازع رپورٹ میں زراعت کے حوالے سے پلان کا خاص طور سے ذکر کیا گیا۔ تاثر شائد یہ دینا مقصود تھا کہ ہماری زمینوں پر قبضے ہوجائیں گے۔ حالانکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ کولڈ سٹوریج بنانے سے لے کر پھلوں، سبزیو ں کو خراب ہونے سے بچانے کی صلاحیت پیدا ہونے تک وہ سب کچھ ہمارے ہاں ہوسکے گا، جس کا آج صرف خواب ہی میں تصور کیا جاسکتا ہے۔ ٹورازم کے حوالے سے بھی خاصے لمبے چوڑے منصوبوں کا اشارہ ملا۔ کیٹی بندر سے لے کر جیوانی تک کوسٹل بیلٹ یعنی سمندر کے ساحل کے ساتھ ساتھ کئی اہم سیاحتی مراکزبنائے جائیں گے، جہاں بڑے بڑے ہوٹل، گالف کلب اور انٹرٹینمنٹ کے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ ان منصوبوں پر عمل ہوا تو دنیا بھر سے سیاح پاکستان آ سکتے ہیں اور دوبئی ، مالدیپ کی طرح ہم بھی اس مد میں اربوں ڈالر کما سکتے ہیں۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ ان منصوبوں کا ڈیزائن تو کوئی بھی بنا سکتا ہے، مگر ان پر اربوں ڈالر خرچ آنا ہے، وہ کوئی دینے کو تیار نہیں۔ سی پیک کے تحت ان سب پر کام ہوسکے گا۔ ایک اہم چیزمیںنے نوٹ کی کہ کئی جگہوں پر واضح طور پر تحریر تھا کہ چینی اپنے ان تمام پراجیکٹس میں مقامی کلچر اور روایات کا خیال رکھیں گے، ایسا کچھ نہ ہوجس سے مقامی آبادی کے جذبات مجروح ہوں۔ حتیٰ کہ کوسٹل لائن کے پراجیکٹس میں بھی یہ واضح تھا کہ اسلامی کلچر، علاقائی کلچر اور ٹورازم کلچر کا امتزاج بنایا جائے گا۔ اندازہ ہوا کہ منصوبہ سازوں پر یہ واضح ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، یہاں سیاحت اور تفریح کے مراکز تو بنائے جائیں، مگر عیاشی کے اڈوں کی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔

سی پیک کے حوالے سے ایک مجبوری ہے کہ چینی احتیاط سے قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ عادتاً چیزوں کو ہائی پروفائل میں کرنے کے عادی نہیں، بتدریج باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں ۔ یہ پہلو بھی سامنے ہوگا کہ اگر سب کچھ آج کھل جائے تو دنیا بھر میں مخالفت کا بھی طوفان کھڑا ہوجائے گا۔ مخالف اور دشمن پھر پوری قوت سے سرگرم ہوجائیں گے۔ ایک مسئلہ مسلم لیگ ن کا بھی ہے کہ وہ معاملات کنفیوژرکھتی ہے، ان کے اپنے مفادات ہیں یا سٹائل کچھ یوں ہے کہ بہت کچھ چھپایا جاتا ہے۔ ادھر حکومت کے حوالے سے عدم اعتماد بھی شدید ہے، کچھ ظاہر کرنے، بہت کچھ چھپا دینے سے اندیشے بڑھتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت سی پیک کے حوالے سے اہم جماعتوں کو اپنے اعتماد میں لے۔ یہ کام ضروری نہیں کہ آل پارٹیز کانفرنس سے کیا جائے، پس پردہ بریفنگز کے ذریعے بھی یہ کیا جا سکتا ہے۔

سی پیک کے حوالے سے ہمیں دو باتیں یاد رکھنا ہوں گی۔ ایک تو ہم کسی کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے، معاملات اس قدر بگاڑنے نہیں کہ کوئی ہمیں خواہ مخواہ کا ہدف بنا لے۔ چین کے نئے جیو سٹریٹجک پلان کا ہم حصہ ہیں، ہم چین کے ساتھ اس عظیم پراجیکٹ میں رہنا، چینیوں کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہم چینی طریقے سے کریں گے، یعنی دوسروں سے بگاڑ کئے بغیر۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ ہمیں اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں۔ سعودی عرب ہمارا دیرینہ ساتھی ، ترکی گہرا دوست جبکہ ایران اہم ہمسایہ ملک ہے۔روس کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ ان سب کے ساتھ معاملات بہترین طریقے سے چلاتے ہوئے ہمیں سی پیک کو آگے بڑھانا اور اسے کامیاب بنانا ہوگا۔ دوسرا اہم نکتہ یہ سمجھ لیا جائے کہ سی پیک اور پاکستان کی خوشحالی ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہے۔ سی پیک کی مخالفت بڑے منظم اور بھرپور انداز میں ہوگی، ہر گزرتے دن کے ساتھ امریکی، بھارتی اوربعض دیگر لابیز زیادہ سرگرم ہوتی جائیں گی۔ ان طاقتور لابیز کو اگر چین کے اندر گڑ بڑ کرانی پڑی تو اس حد تک جانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ اوبور یا سی پیک کی مخالف یہ لابیز پاکستان کے اندر بھی کنفیوژن پھیلائیں گی۔ ہمیں آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com