معافی نامہ - راؤ عبد الصمد

سال کے 365 دنوں میں سے ہر دن ہم نے کسی نہ کسی منسوب کر رکھا ہے۔اورتو اور، ماں جیسے مقدس رشتے کے لیے بھی ایک دن مقرر کیا ہوا ہے کہ بس اس دن اپنی ماؤں کے لیے نیک جذبات کا اظہار کرنا ہے، جو سوشل میڈیا تک ہی محدود نظر آتا ہے۔خوش قسمت ہوتی ہے وہ ماں جو اس دن بھی درحقیقت اپنی اولاد کی توجہ حاصل کرلے۔

ابھی کچھ دن پہلے "معافی کا دن" گزرا۔ میرا ان باکس معافی ناموں سے بھرا ہوا ہے، جنہیں میں جانتا تک نہیں ان کے بھی معافی نامے موصول ہوئے۔میں نے ایک دوست سے مذاقاْ پوچھا کہ آپ نے بھی آج معافی مانگی ہے کسی سے؟ تو اس نے چند نام گنوائے کہ ان کے علاوہ سب کو میسج کیا ہے۔ ان چند ناموں کو معافی نامہ نہ بھیجنے کی وجہ ؟ "وہ ان سے ذرا ناراضگی ہے اس لیے"۔ قبل اس کے کہ میں اسے لیکچر دیتا، مجھے یاد آیا کہ میں نے بھی جب چند دوستوں کو معافی نامے ارسال کیے تھے تو دھیان رکھا تھا کہ کہیں غلطی سے ان نمبرز پر نہ سینڈ ہوجائیں جن سے تھوڑی ان بن ہے۔یہ ہمارے معاشرے کا عمومی مزاج ہے کہ ہم سب سے معافی مانگ لیتے ہیں سوائے ان کے جن سے مانگنی چاہیے۔

یہ تو انفرادی معافیوں کا معاملہ ہے لیکن بحیثیت قوم کچھ ہمارے ایسے اجتماعی گناہ ہیں، جن پر اجتماعی یوم توبہ و معافی منانا چاہیے کیونکہ

فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے

مگر کرتی نہیں کبھی ملت کے گناہوں کو معاف

تو آئیے، سب سے پہلے اپنی بہن عافیہ صدیقی سے معافی مانگتے ہیں۔

اے بہن عافیہ! ہمیں معاف کردینا، ہم آپ کے لیے آواز تک نہ اٹھا سکے۔ معاف کرنا کہ اب اس قوم کی مائیں محمد بن قاسم جیسے جوان پیدا نہیں کرتیں ، جو اک بہن کی آواز پر بیتاب ہوجائے۔ اب تو اس ملت کی مائیں ایسی نسل کو جنم دے رہی ہیں جو غیرت و حمیت کے اوصاف سے عاری ہیں۔ جنہیں کرشمہ کے کرشمے اپنے سحر سے نکلنے نہیں دیتے۔ جنہیں فلمی دنیا سے باہر کا کچھ علم نہیں۔ جو خود بھی تصور کے گھوڑے پر سوار بالی وڈ کے میدانوں میں گھومتے ہیں۔ اے بہن عافیہ! وہ تمہارے لیے کیا میدان سجائیں گے؟ تو اے عافیہ ! ہمیں معاف کردینا اور ہمیں معاف ہی رکھنا۔ ہم سے کوئی امید، کوئی خواب وابستہ مت کرنا!

یہ بھی پڑھیں:   دعا کیجیے - محمد طلحہ قیصر

پھر اے تھر کے باسیو! تم بھی ہم سے درگزر کرنا۔ ہمیں تمہارا خیال ہے لیکن ہم تمہارے لیے کر کچھ نہیں سکتے کیونکہ ہم بے بس ہیں، اپنی طمع کے آگے۔ ہمارا دل اب ایثارو اخوت کے جذبات سے عاری ہے۔

اور اے لال مسجد کے مینارو! اے حفصہ کی بیٹیو! ہمیں معاف کردینا کہ تمہارے خون کے چھینٹوں سے دامن صاف نہ کر پائے۔
اے بلدیہ کے مزدورو! اے ارض پاک کے مجبورو! اے آئین وطن! اے رونق چمن! ہم آج سب سے معافی کے طلبگار ہیں اور معاف رکھنے کے بھی۔