خدارا، کوئی حل تجویز فرمائیں ! – نصیر اللہ خان

بازار سے آتے ہوئے یوں لگ رہا تھا کہ ہر آنے اور جانے والے کے چہرے پر اضطراب، بے چینی اور پریشانی کے اثرات ہیں۔ مزدوروں اور غریبوں سے سامان کا بوجھ سنبھالا نہیں جا رہا تھا۔ گداگروں اور فقیروں کے مختلف بھیس، کراہنے، کڑھنے اور چیخنے کے عمل نے طبیعت کو بوجھل کر رہا تھا۔ ٹریفک رواں دواں تھی، لیکن نظم و نسق اور ترتیب کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ پاگل، دیوانہ وار گلیوں اور سڑکوں میں گھوم رہے تھے۔ تنگ بازار میں ہتھ ریڑھی والوں اور نیم حکیموں کی آوازیں جی کو ہلکان کیے جا رہی تھیں۔ سرکاری عمال خاموش تماشائی اور بعض جگہوں پر پیدل چلنے والے، مزدوروں، رکشہ والوں سے دھینگا مشتی میں مصروف تھے۔ رش اور ٹریفک کی وجہ سے ایمبولینس کو راستہ نہیں مل رہا تھا۔ بمشکل عام لوگوں کی کوششوں سے ایمبولینس کو راستہ دیا گیا۔ دوکاندارسودا سلف، فروٹ بیچنے والے من مانے ریٹ کے حصول کے لئے گاہکوں سے بر سر پیکار تھے۔ مجھ سمیت کسی کو کسی کی پروا نہیں تھی۔ اس بھیڑ میں ایسے لوگ بھی دیکھنے کو مل رہے تھے جو مزدوروں اور فقیروں کی بوجھ ہلکا کرنے کے لئے مدد کر رہے تھے۔ بعض لوگ فقیروں اور مسکینوں سے ہم کلام اور بعض ان کو خیرات کے پیسے دے رہے تھے۔ برسبیل تذکرہ بھکاری مختلف قسم کے روپ دھار کر (شاید یہ ان کی مجبوری و معذوری ہو) معذور، چھوٹے بچے، عورتیں اور بوڑھے لوگ خیرات کی استدعا کر رہے تھے۔ ہر کوئی اپنے طریقہ سے لوگوں سے اپنے دکھ کا مداوا چاہتا تھا۔ اس سب صورتحال میں بعض انسان فرشتوں سے کم نہیں لگتے جو ہر وقت کسی لاچار، غریب اور مزدور وں کی خدمت کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔

اس شہرِ ناپرساں میں مختلف طبقات کے امتیازی رویے اور بے ہنگم افراتفری، سرکاری اہلکاروں کی نااہلی، ریاستی حقوق کی پامالی، شہریوں کے ساتھ ناروا روئیے، حکمرانوں کی نااہلی اور اداروں کے کردار پر سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ کیا مسکینوں، فقیروں اور بھکاریوں کے کوئی انسانی، قانونی اور اسلامی حقوق نہیں ہوتیں؟ کیا دیوانے اور پاگل یوں ہی دیوانہ وار گھومیں گے پھریں گے؟ کیا کسی شہری کو علاج معالجہ کی سہولت دینا حکومت کا کام نہیں ہے؟ کیا اس ہجوم اور بھیڑ کا کوئی ریاستی حل نہیں نکالا جاسکتا؟ کیا ہم اس صورتحال میں انسان کہنے کے لائق ہوسکتے ہیں؟ کیا ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ریاست اور ریاستی اداروں کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟ کیا اسے ہم خدائی تقدیر پر محمول کرلیں؟ کیا یہی ہمارا نصیب اور تقدیر ہے؟ انسانی معاشرہ انتہائی پیچیدہ رویوں کا حامل ہوتا ہے۔ درحقیقت انسانی بستیوں میں روا ظلم اور جبر ان سب مسائل کے اسباب ہیں۔ جب قانون، اخلاق اور شعور نام کی کوئی شے وجود نہیں رکھتی، جہاں قانون پر عمل درآمد کیا جاتا ہے اور نہ ہی شہری اپنے حقوق، فرائض اور ذمہ داریوں سے باخبر اور آگاہ ہوتے ہیں۔ سادہ مطلب یہی ہے کہ ریاست قانون اور آئین کی پاسدار کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن نہ تو آئین میں دئیے گئے طریقہ کارکے مطابق ادارے کام کرتے ہیں (بلکہ بعض اوقات اداروں کو اپنے دائرہ اختیار معلوم ہی نہیں ہوتا) اور نہ ہی عوام کے حقوق کے نگہبان اور محافظ بنتے ہوئی اس کی دادرسی کرتی ہے، تو اس صحت، تعلیم، انصاف اور امن عامہ جیسے گھمبیر مسائل نے لوگوں کو مختلف نفسیاتی عوارض میں مبتلا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   درس و تدریس اور ہمارا سیاسی رویہ - سلمان اسلم

حفظانِ صحت، تعلیم، انصاف، متوازن غذا اور علاج معالجہ کی ہوشربا گرانی نے عوام کو حیران و پریشان کر رکھا ہے۔ نیم حکیم، ہومیوپیتھک، ایوریدک اورایلوپیتھک طریقۂ علاج کو حکومتی سطح پر ریگولیٹ کیا گیا ہے اور نہ ڈرگ ڈیلرز دوکانوں اور فارموسوٹیکل انڈسٹریز کے لئے واضح حکمت عملی اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع ہی کیا گیا ہے۔

حکومتی انتظامی ادارے ریاستی پالیسی کو متشکل کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ یہ ادارے بہت ضروری ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ مختلف فیصلے اور ٹیکس لاگو کرنے سمیت کوڑا کرکٹ پھینکنے جیسے انتظامات کرتے ہیں۔ یہ حکومت کی فراہم کردہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے میں میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اداروں کا کام ضروری بنیادی سامانِ زیست بشمول ہیلتھ کئیر، ذرائع نقل و حمل، ترقی اور تعلیم دلوانا ہوتا ہے۔ ان اداراتی اور انتظامی کاموں کا مقصد حکومتی پالیسی کو ٹھوس حقیقت میں تبدیل کرکے عوام الناس کو دینا ہوتا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اب تک کوئی واضح یکساں نظام تعلیم اور پالیسی مرتب ہوسکی ہے اور نہ اس کو کوئی عملی جامہ ہی پہنایا گیا ہے۔ کوئی سکلز ٹریننگ دی جاتی ہے اور نہ ہی کیرئیر کونسلنگ کا کوئی مربوط نظام موجود ہے۔ یونیورسٹیز اور کالجز سے صرف نوکری کرنے کی غرض سے ڈگری لینے کی جستجو کی جاتی ہے۔ حتی کہ حال یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم مکمل طور پرطبقاتی بن چکا ہے۔ سکولز اور پرائیویٹ سکولز، کالجز صرف ذاتی منفعت کے حصول کی خاطر بنائے جاتے ہیں۔ ان میں مروجہ کورسز طبقاتی تعلیم کا شاخسانہ ہوکر نوکر پیشہ افرادفراہم کرتے ہیں۔ مروجہ تعلیم ریسرچر ز پیدا کرتی ہے ا ور نہ ہی مکالمہ اور تحقیق کے لئے کوئی میدان۔

قارئین، اس تمام تر صورتحال میں عدالت ہی وہ بنیادی اور ناگزیر ادارہ ہے، جہاں قانو ن اورعدالتیں عوامی تنازع، ریاست اور اس کے اداروں کی باہمی مصالحت میں مدد کرتا ہے۔ عدالتی اداروں کے بغیر ریاستی پالیسی بے معنی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ پھر دیگر ادارے اور عوام الناس اپنے مفادات کے لئے اصولوں اور ضابطوں کوجوڑ توڑ کے ذریعے قانون کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عدالتیں مختلف دستاویزی ثبوت اور قانون کی راہنمائی میں جزا اور سزا کے فیصلے صادر کرتی ہیں۔ نظامِ انصاف اور عدالتی طریقِ کار انتہائی پیچیدہ، قیمتی اور ابہام کا شکار ہے۔ سائل؍ مسؤل الیہ کو جائز حقوق کی حصول کی خاطر عدالتوں کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ اور اس طرح سائلین کی قیمتی عمر کا بیشتر حصہ عدالتوں میں انصاف اور حق گوئی کی نذر ہوجاتا ہے۔ مروجہ عدالتی نظام میں مستحکم قانونی اصولوں کو بالائے طاق رکھنے کا پروگرام ہوچکا ہے۔ لوگ عدالت کے بجائے روایتی جرگوں سے اپنے فیصلے لیتے نظر آتے ہیں۔ جرگہ میں تقریباً ساٹھ فیصد تنازع حل ہوجاتے ہیں اور لوگ عدالتوں کے باضابطہ طریقہ کار کے بجائے جرگہ، پنجائیت رواج، دستور اور روایات وغیرہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ عدالتوں اور قانون کا نہایت مشکل طریقہ کارہے۔ مالداروں اورغریبوں کے لئے قانون اور انصاف کے حصول کے لئے الگ الگ پیمانے مقرر ہیں۔ روٹی کے چور یعنی معمولی جرائم میں ملوث ملزم؍ مجرم کو بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس پر چور، بدنام زمانہ اور بداخلاق ہونے کا لیبل چسپاں کیا جاتا ہے جب کہ اربوں روپے کی حکومتی کرپشن میں ملوث سرکاری عمال اور حکمرانوں کو پلی بارگیننگ کرکے فیصدی(یا شاید اس سے بھی کم) پر من مانی اور کرپشن کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نمبروں کی دوڑ - محمود زکی

نظام تعلیم اور نظام انصاف کی زبوں حالی، امن عامہ کے مسائل پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے۔ بنیادی حقوق کی پامالی نے لاینحل مسائل کو جنم دیا ہے۔ جائز حقوق کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس لئے معاشرے میں بے چینی، افراتفری اور پریشانی کا رواج ہے۔ طبقابی نظامِ تعلیم اور مروجہ پیچیدہ نظامِ انصاف کی وجہ سے ظلم، جبر اور نا انصافی کا دور دورہ ہے۔ دہشت گردی، شدت پسندی کے مروجہ نظام کی پیداوار ہے۔ ریاستی طور پر تیز تر انصاف کی فراہمی عنقا ہے۔ واضح قانونی پالیسی کے فقدان کی وجہ سے اداروں کو اپنے قانونی اختیارات معلوم ہیں اور نہ اپنے کام کرنے کا دائرہ اختیار ہی معلوم ہے۔ گنجلک دیوانی اور فوجداری قوانین میں مسلسل ابہام معاشرتی مسائل، شدت پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کی جڑ ہیں۔

یوں تو ہزاروں بلکہ لاکھوں مسائل ہیں لیکن میری نظر میں جنگی بنیادوں پر نظامِ انصاف اور یکساں نظامِ تعلیم کی اصلاح اور حل انتہائی غور طلب اور تصفیہ طلب امور ہیں، جس کی فراہمی خالصتاً ریاست کی ذمہ داری ہے۔ میں وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر ان مذکورہ مسائل کو ٹھیک کیا گیا، تو شاید ہمارے دیگر مسائل خود بخود حل ہونے شروع ہوجائیں گے اور اس طرح قوم او ر ملک کو واضح تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔