دلیل ہی جیتے گی - زبیر منصوری

”دلیل“ والو!
تم جیتو گے اور لازم ہے کہ تم ہی جیتو گے!
نسخہ ہمیں یہی عطا گیا ہے کہ جو جیتے گا دلیل سے جیتے گا اور ہلاکت بھی دلیل سے ہی کسی کا مقدر بنے گی.

تو پھر آج وہ کہاں ہیں جو اہل زر کے مقابلے میں بے وسیلہ اسلام پسندوں کی کوششوں کے عارضی طور پر پیچھے رہ جانے کو ”سیکولر بیانیہ“ کی فتح قرار دے کر شادیانے بجاتے نہیں تھک رہے تھے۔

مرشد کہہ گئے کہ ضرورت پڑی تو ہم بارہ محاذوں پر بھی لڑیں گے، جب تک ہمارے سر ہماری گردنوں پر موجود ہیں، کوئی مائی کا لعل اس ملک میں اپنا سکہ نہیں چلا سکتا. یہ محمد عربی ﷺ کی امت کا ملک ہے اور ہمارے جیتے جی یہاں کچھ اور چلے؟ یہ خواب تو ہو سکتا ہے، کسی دیوانے کی بڑ تو ہو سکتا ہے، مگر حقیقت نہیں۔

الحمد للہ ”دلیل“ نے ایک محاذ پر کامیابی کا علم پھر سے لہرایا ہے، اس نے پہلے بھی لہرایا تھا، اور بہت کم عرصے میں لہرایا تھا، مگر کچھ تکنیکی مسائل، کچھ نا تجربہ کاری، کو یار لوگوں نے اس کی ناکامی سے زیادہ اسلامی بیانیے کی ناکامی سے تعبیر کیا تھا. مگر بلاگز اور مضامین کی کٹیگری میں دلیل آج پھر صف اول میں پہلے نمبر پر آن کھڑی ہوئی ہے۔

کسی کی نظر میں شاید یہ کار لاحاصل ہو مگر مجھے تو اپنے نبی محترم ﷺ کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں جو انھوں نے غزوہ احد میں اپنے حصار کے آخری بچ رہنے والے دو تیر انداز انصاری صحابہ سے کہے تھے کہ ”ان پر خوب تیر برساؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان.“
اللہ اکبر میرے نبی ﷺ خود فرماتے ہیں کہ میرے ماں باپ تم پر قربان۔

محاذ ہی تو بدلہ ہے؟
جنگ تو نہیں بدلی؟
پہلے تیر و تفنگ تھے، ڈھال اور نیزے تھے، اب سوشل میڈیا ہے، بلاگز، مضامین، تصویریں اور کالم ہیں.
گروہ تو وہی دو ہیں ناں؟
اللہ اور اس کے دین، رسول اللہ اور ان کی امت کے غیر مشروط وفادار اور غدار.
”دلیل“ پوری قامت کے ساتھ وفاداروں کی صف میں کھڑی ہے.
اور اسے ضرورت ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کچھ چاہنے والوں کی کہ جب وفاداری کے محاذ پر ضرورت پڑی تو صدیق اکبر نے گھر کا سارا ہی مال لا کر وفا کے ترازو میں رکھ دیا تھا.

یہ بھی پڑھیں:   میری تمام دلیلیں رد ہو گئیں - خالد ایم خان

اللہ والو!
میڈیا پھٹی ہوئی جیب میں پیسے ڈالنے کا عمل ہے.
یہ ریت میں پانی ڈالنے اور اندھے کنویں کو بھرنے جیسا ہے.
مجھے نہیں معلوم، اس جنگ کا نتیجہ کیا ہوگا مگر آخرکار میدان ہم ہی ماریں گے۔

اے اہل ثروت!
سوچو
جام کوثر کیسے تھامو گے؟
آؤ!
آج سرمایہ لگاؤ، کل ستر گنا پاؤ۔

اور ہاں دلیل والو!
کام صرف بلاگ، مضامین شائع کر دینا نہیں، کام کالم لگا دینا نہیں،
پرسیپشن مینجمنٹ کا فن سیکھو،
اپنی کامیابی اور پہلے نمبر پر ہونے کو مارکیٹ کرنا سیکھو.

تم جیتوگے اور لازم ہے کہ تم ہی جیتو گے. ان شاء اللہ

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں