خدا کو پانے والے – ابو یحیی

کتنا عجیب ہے وہ خدا جس نے یہ سب تخلیق کیا۔ جس نے آسمان، سورج اور زمین کو بنایا۔ ان میں موجود ان گنت مخلوقات کو پیدا کیا۔ اور ان سب کو ایک کمزور، عاجز، ضعیف انسان کی خدمت میں لگا دیا۔ ذرا سوچیے کہ سورج طلوع نہ ہو تو انسان سردی میں ٹھٹھرکر مر جائیں گے۔ کوئی ان کی مدد کو نہ آئے گا۔ بادل نہ برسیں تو انسان پیاس سے تڑ پ کر مرجائے گا۔ کوئی اس کی داد رسی نہ کرے گا۔ یہی معاملہ تمام مظاہر کائنات کا ہے جو انسان کی خدمت میں مشغول ہیں۔

مگر آہ یہ انسان ! کتنا غافل کتنا ناشکرا کتنا عجیب ہے۔ اسے خدا سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے لیے خدا بس مصیبت میں پکارنے والی ایک مشین ہے اور کچھ نہیں۔ اس دور کے اکثر انسانوں کے لیے تو خدا ہے ہی نہیں۔ کچھ کے لیے وہ خدا عیسیٰ ابن مریم کا باپ ہے۔ کچھ کے لیے خدا ان کا قومی دیوتا ہے جسے اس کے سواکوئی کام نہیں کہ وہ خدا کی نافرمانی کریں، اس کی عائد کردہ ذمہ داریوں سے بھاگیں اور وہ اپنے سارے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر زمین کا اقتدار ان کی خدمت میں پیش کر دے۔ پاک ہے زمین و آسمان کا خدا ان تمام بے ہودہ باتوں سے .
…………………………………………
خدا کی حمد خدا کو پائے بغیر کرناممکن نہیں۔ اور اس مادی دنیا میں رہ کر خدا کو پانا بہت مشکل کام ہے۔
یہ وہ کام ہے جس سے روکنے کے لیے ذریت ابلیس کے ہزاروں لاکھوں فرزند ہمہ وقت مصروف ہیں۔
یہ وہ کام ہے جس کی انجام دہی میں سب سے بڑ ی رکاوٹ خود انسان کا اپنا نفس ہے،
مگر یہی وہ مشکل کام ہے جس کا اخروی بدلہ جنت کی ابدی بادشاہت ہے اور دنیوی بدلہ حمد باری تعالیٰ کی توفیق ہے۔

خدا کو پانے کے لیے دنیا میں رہ کر دنیا سے اوپر اٹھنا ہوتا ہے۔
خدا کو پانے کے لیے اپنی خودی اور انا کو چھوڑ نا پڑ تا ہے۔
خدا کو پانے کے لیے اپنے قومی اور فرقہ وارانہ تعصبات سے اوپر اٹھنا پڑ تا ہے ۔

ورنہ لاکھوں کروڑ وں لوگ ایسے ہیں جو خدا کانام لیتے ہیں، مگر درحقیقت وہ اپنے تعصبات کے بندے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو فیضان الٰہی سے ایک ذرہ بھی نہیں ملتا۔ چاہے وہ ہزار سجدے کریں، چاہے وہ ہزار مذہب کا نام لیں۔

خدا کا فیضان انہی کو ملتا ہے
جو ہوا کی سرسراہٹ میں خدا کی رحمت، سورج کی روشنی میں خدا کی عنایت، تاروں کی جگمگاہٹ میں خدا کی شفقت کو دریافت کر لیں۔
جو انفرادی نعمتوں کے ساتھ سورج اور چاند جیسی آفاقی نعمتوں کا شکر بھی ایسے ادا کریں جیسے یہ ان پر خدا کی ذاتی مہربانی ہو۔
جو آزادی کے ہر لمحے میں یہ یاد رکھیں کہ خدا غیب میں تو ہے مگر ہر لمحہ ان پر نگران ہے۔
جو مشکل کے ہر لمحے میں یہ یاد رکھیں کہ حالات سخت تو ہیں مگرخداکی قربت اسی مشکل میں ہے۔
جو نعمت کے ہر لمحے میں یہ یاد رکھیں کہ سبب کوئی بھی ہو مگر دینے والا وہی مہربان ہے۔

یہی لوگ خدا کو پانے والے ہیں۔
یہی لوگ ہیں جن کے آنسو اور آہیں سب اپنے آقا کے لیے وقف ہیں۔
یہی لوگ ہیں جنہیں اِس دنیا میں خدا اپنی حمدکے لیے اور اُس دنیا میں اپنی عطا کے لیے چنتا ہے۔
…………………………………………
خدا اور ہماری کہانی
سورہ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی سورہ ہے ۔اس سورت کا مرکزی مضمون اس کی چوتھی آیت میں اس طرح بیان ہوا ہے۔
’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
یہ دو جملے انسان اور خدا کی اس کہانی کا انتہائی مختصر مگر انتہائی جامع بیان ہے جو وقت کی کسی گھڑ ی میں شروع تو ضرور ہوئی تھی، مگر اس کہانی کا کوئی اختتام نہیں۔ یہ کہانی کیا ہے، ایک کامل ترین ہستی کے احسانات کی داستان ہے۔ یہ ہستی قادر مطلق اور کریم مطلق ہے۔ اس کا کرم یوں تو آسمان سے لے کر زمین تک ہر مخلوق کو اپنی عطا سے سرشار کیے ہوئے ہے مگر انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کا تخیل لا محدود اور نعمتوں سے حظ اٹھانے کی خواہش لامتناہی ہے۔

یہ انسان اگر دل کا اندھا نہ ہو، توہر طرف اسی کریم کی عنایات کی برسات دیکھتا ہے۔ اسے دیکھ کر اس کی زبان پر بے اختیار نغمہ حمد و تمجید جاری ہوجاتا ہے۔ مگر جب جب اس انسان کی نگاہ اپنی طرف لوٹی ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کا وجود جنم جنم کا ایسا پیاسا ہے کہ ہر برسات کے بعد وہ ایک اور برسات کا طلبگار رہتا ہے۔ پہلامشاہدہ اسے عزم عبادت پر ابھارتا ہے اور دوسرا اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنا دستِ سوال مالک دوجہاں کے دست عطا کے سامنے دراز کرے۔

مگر اس کی معرفت اسے بتاتی ہے کہ خدا کی ختم نہ ہونے والی عطا صرف ان لوگوں کا مقدر ہے جو خدا کی مطلوب سیدھی راہ پر چلیں گے اور اس کا پہلا سوال یہی بن جاتا ہے کہ اسے سیدھا راستہ دکھایا اور اس پر چلایا جائے۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر چلنے والوں پر خدا کا انعام ہوا۔ نہ کہ ان لوگوں کا راستہ جن پر خدا کا غضب ہوا اور جو گمراہ ہیں۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو بہت جلد نعمتوں کی جدائی کا صدمہ دیکھیں گے اور ہمیشہ کے لیے محرومی کی آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔ یہی سورہ فاتحہ کا مفہوم ہے۔ یہی انسان اور خدا کی کہانی کا خلاصہ ہے ۔

Comments

FB Login Required

ابو یحی

ابویحی معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ انذار کے مدیر ہیں

Protected by WP Anti Spam