ماں اللہ سے قُربت جانچنےکا پیمانہ ہے - نورین تبسم

انسان جتنا ماں کو محسوس کرتا ہے۔ لاشعوری طور پر اُتنا ہی اللہ سےقریب ہوتا جاتا ہے۔ یہ کوئی مُشکل فلسفہ یا عجیب بات نہیں۔ اللہ اور ماں میں مُشترک قدر ”تخلیق“ ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں فقط ”وسیلہ“ ہے۔ تخلیقِ انسان میں اُس کی حیثیت مشین کے ایک پُرزے سے زیادہ نہیں اور اس میں بھی اس کا کوئی کمال یا ہنر شامل نہیں۔ اللہ کی طرف سے عطاکردہ ایک ذمہ داری ہے، جسے چاہتے نہ چاہتے ہوئے سرانجام دینا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کائنات میں اس جیسا دوسرا پُرزہ ملنا محال ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔

مُختصر یہ کہ ماں اللہ کے شاہکار کو سامنے لانے کا ایک وسیلہ ہے، ایک ذریعہ ہے۔ اس سے زیادہ اُس کی کوئی بڑائی نہیں۔ عام دُنیاوی شاہکار بھی خواہ وہ کسی مُصور کے فن پارے ہوں یا انسانیت کی فلاح کی خاطر کی گئی ایجادات واختراعات، تخلیق کے بعد سامنے نہ لائے جائیں تو اُن کی قدر و منزلت یا افادیت کا کبھی تعیّن نہیں کیا جاسکتا۔ خالقِ کائنات نے ماں کو عظیم رُتبہ اور ایک مقام عطا کیا ہے کہ وہ اس کے تخلیقی عمل کو مُنتقل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اللہ نے اپنی ذات کی عظیم صفت محبت کا پیمانہ بھی ماں کو بنایا کہ ”اللہ اپنی مخلوق سے ماں سے ستر گُنا زیادہ مُحبت کرتا ہے“۔

ماں کے توسّط سے جب ملتا ہے تو دل بےاختیار جھوم جاتا ہے کہ ماں ہماری سوچ، ہماری خواہش سےاتنا قریب ہے، تو معبودِحقیقی جو ماں سے سترگنا زیادہ اپنی مخلوق کو چاہتا ہے، اُس کے لُطف و کرم کی کیا حد ہوگی۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ جو انسان اپنی ماں سے قریب ہے، وہ اللہ سے قریب ہے۔ یہ شعورکا کھیل نہیں لاشعور کی بات ہے۔ جیسے جیسے انسان اپنے اصل کی طرف لوٹتا ہے، وہ خالص سے خالص تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ماں کو محسوس کرنے والا بظاہر اللہ کے قریب نہیں تو اس میں بھی پریشانی کی کوئی بات نہیں کہ اُس نے فلاح کے راستے پر پہلا قدم تو رکھ دیا ہے۔ وقت خودبخود اُسے اس مقام پر پُہنچا دے گا کہ وہ اپنے خالق و مالک کو پہچان لے گا۔ اللہ سے دُعا کرنی چاہیے کہ وہ وقت جلد آ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   حدیث کہانی* *میں جنت جاٶں گا* ام محمد عبداللہ

ماں ہماری زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اپنی اس طاقت کو آخری لمحے تک سنبھال کر رکھیں۔ حیاتِ ظاہری میں ماں کی قدر کرنا حقوق اللہ ادا کرنے کے بعد ہمارا سب سے بڑا فرض ہے۔ دین و دُنیا کا کوئی بھی کام اس سے بڑھ کر نہیں۔ حیاتِ ابدی میں ماں کی قدر و منزلت صرف خالقِ کائنات ہی جان سکتا ہے۔ ہمیں اللہ سے معافی مانگتے رہنا ہے اور ماں کے ابدی سکون کے لیے دُعا کرنی ہے۔ یہ وہ صدقۂ جاریہ ہے جو ہماری دینی و دُنیاوی زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔

غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ اللہ نے اپنی اَن گنت نعمتوں میں سے ایک نعمت کے وسیلے کی اتنی قدر کی ہے۔ جبکہ ہم اللہ تعالیٰ کی لاتعداد نعمتوں کے ایک ذّرے کا بھی حق ادا نہیں کر سکتے۔ وہ ہمیں نوازتا جا رہا ہے۔ ہم تو اُس کو بجا طور پر محسوس بھی نہیں کر سکتے۔ ہمارے مالک کا کرم ہے کہ راستہ بھی وہی دکھاتا ہے۔ ہم صرف ایک کام کرسکتے ہیں اور وہی کرنا بھی چاہیے۔ اپنے قول بلکہ اپنے عمل سے ہرحال میں، ہر سانس میں، ہر وقت اللہ کا ”شکر“ ادا کرنا ہے۔ اسی طرح ہم اللہ بلکہ اپنی ماں، اپنے وجود کی تخلیق کا حق ادا کرنے کی کوشش میں ”کسی حد تک“ سُرخرو اور ایک سیدھے اور سچّے راستے کی طرف رہنمائی میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی ہمارا حال ہونا چاہیے اور یہی ہمارا مُستقبل ہوگا۔ ان شاءاللہ

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.