آئین میں تبدیلی کا غیر جمہوری راستہ - ادریس آزاد

بات کچھ اس طرح ہے کہ پاکستانی اسمبلی میں اکثریت ِرائے سے کچھ قوانین منظور کروائے گئے تھے جو اب آئین کا حصہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ قوانین غلط بھی ہوسکتے ہیں اورصحیح بھی۔ دنیا کی کسی اسمبلی کے کسی قانون کو حتمی نہیں مانا جاسکتا۔ سو، اِس ملک کے آئین کی کچھ شقیں جنہیں جمہوری حکومتوں نے نافذ کیا اور اب تک موجود ہیں ، غلط بھی ہو سکتی ہیں اور درست بھی، لیکن ان کو غلط یا درست قرار دینے یا ان میں تبدیلی لانے کا عمل بھی اُسی اسمبلی کے منتخب نمائندے ہی سرانجام دے سکتے ہیں، اور کوئی نہیں۔ یہ صرف پاکستان نہیں ہر ملک کا دستور ہے۔

اب پیراڈاکس کہاں شروع ہوتا ہے؟ یہ عوامی نمائندے زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے کیونکہ وہ عوام میں سے ہیں اور عوام زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے۔ جبکہ ہمارے ملک کا ایک طبقہ جسے آج کل ہم ’’دیسی ملحدین‘‘، ’’لبرلز‘‘، ’’روشن خیال طبقہ‘‘ اور ڈاکِنسٹوں کے مختلف ناموں سے سوشل میڈیا پر جانتے اور پہچانتے ہیں، یہ چاہتا ہے کہ آئین سے وہ شقیں نکال دی جائیں۔ ست بسم اللہ! بے شک نکلوا دیں! لیکن ایسا کرنے کے لیے کیا آپ کے پاس عوامی رائے ہے؟ جواب یہ ہے کہ ’’جی نہیں! عوام ہمارا ساتھ کیوں دے گی، عوام تو جاہل ہے؟‘‘ چنانچہ ان کے پاس دو آپشن بچ جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ عوام کا شعور بیدار کریں اور اپنی جمہوری حکومت کے دوران آئین سے ایسی شقیں نکال باہر کریں۔ عوام کا شعور آہستہ آہستہ بیدار ہوگا کیونکہ وہ ایک ارتقائی پراسیس ہے، ایک رات میں نہیں ہو سکتا جبکہ ان کی خواہش ہے کہ یہ شعور بیدار نہیں ہوتا تو کسی طرح عوامی رائے کو یکلخت اپنے حق میں کر لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو تین سال سے گستاخِ رسول والے اِشُو کو ان لوگوں نے سوشل میڈیا پر ہائی لائٹ کیا ہوا ہے۔ گنتی کے تین چار واقعات کو ملک کے دیگر تمام بڑے مسائل پر ترجیح دے کر ان لوگوں نے دنیا کو ایک منظر دِکھانا شروع کر دیا ہے کہ پاکستان میں تو چونکہ ایسے غلط قوانین، آئین کا حصہ ہیں اس لیے اِس ملک پر دباؤ ڈالا جائے اور باوجود اس کے کہ یہ ایک جمہوری ملک ہے، اس کے آئین کی ایسی تمام شقوں کو بیرونی دباؤ کی وجہ سے خارج کروایا جائے۔

جب نواز شریف کی تمام حکومتوں، اور یہاں تک کہ عمران خان وغیرہ نے بھی ایسے دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو ملک میں مصنوعی طور پر ایک فضا پیدا کی گئی تاکہ لوگ راتوں رات آئین کی اُن شقوں کے خلاف ہوجائیں۔ ایسی فضا میں کچھ بےگناہ چارہ بنے۔ کچھ قتل ہوئے۔

کسی قوم کے آئین کی کسی شق کو ختم کروانے کا جمہوری راستہ جب موجود ہے تو اوچھے ہتھکنڈے، پراسرار سکیمیں، زیرِ زمین سرگرمیاں، غیرملکی ایجنسیوں سے روابط، یہ سب چہ معنی دارد؟ کیا ہم اتنی جلدی اپنے سابقہ تجربات بھول جاتے ہیں؟ کیا ہم پھر استعمار کے ہاتھوں استعمال نہیں ہو رہے؟

اس ساری بحث کی صداقت کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ روسی کمیونسٹ تھے۔ امریکیوں کو ایک آنکھ نہ بھاتے تھے۔ روس کا کمیونزم پھیل رہا تھا۔ افغانستان میں داخل ہو چکا تھا اور پاکستان میں اس کی خاصی مضبوط جڑیں تھیں۔ امریکی استعمار نے کمیونزم کا خاتمہ کرنے کے لیے پچاس سال سے طویل سرد جنگ لڑی۔

اب دیکھیے! کمیونسٹ تو ازلی دشمن تھے ان کے، جو پاکستان کے آئین کی بعض شقیں ختم کروانے کی درپَے ہیں اور غیر جمہوری طریقے سے ہماری سٹیٹ اور وفاق کے ہر اچھے اور ضروری منصوبے کو سبوتاژ کررہے ہیں، یعنی لبرل ملحدین یا مادہ پرست لبرلز یا سرمایہ درانہ نظام کے نئے چارلی ولسنز یا پاکستان میں ڈاکنزم کے پرچارک۔ اب یہ دونوں دیرینہ دشمن ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور مذہبی انتہاپسندی کے نام پر ایک پرجوش تحریک کا حصہ ہیں، جبکہ جھنڈے دونوں کے آج بھی الگ الگ ہیں۔ بنیادی نعرہ بھی ایک دوسرے کا دشمن ہے۔ کمیونسٹ کمیونٹی کیوں نہیں سمجھ رہی کہ سرمایہ دارانہ نظام کے پروردہ ڈاکنسٹ ان کے اصل پروگرام کو بھی سبوتاژ کر رہے ہیں۔ فرض کریں اگر جمہوریت ناکام رہی تو کیا یہ لوگ کمیونزم کو یہاں پنپنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ کیا یہی آپ کے سب سے بڑے دشمن نہ ہوں گے؟ کسی ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا نام بتائیں جسے آپ لوگ اپنی کمیونسٹ حکومت کے دوران ملک کے اندر برداشت کرپائیں گے؟

اِن دنوں کی، یعنی آج اور کل کی ماراماری سے تو میں بھی خواہش کرنے لگا ہوں کہ سی پیک ہرحال میں کامیاب ہو۔ کم ازکم لبرل ملحدین کے موذی خواب تو پورے نہ ہوسکیں گے جن میں اوّلین ترجیح پر پاکستان کی تقسیم اور وفاق کا خاتمہ ہے۔ آئینی شقیں تو راستے کے سنگِ میل ہیں۔

قارئین! کیا ہمیں نظر نہیں آتا کہ ایک پوری لابی ہے سوشل نیٹ ورک پر موجود ہے جو آرمی کے خلاف نہایت ہی گندی زبان استعمال کرتی اور یوں خود کو سٹیٹ اور وفاق کا دشمن ثابت کرتی ہے؟ سٹیٹ کے احترام کو تو سقراط سے لے کر موجودہ عہد کے امریکی فلسفیوں تک کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ سٹیٹ نہیں تو انسانی معاشرہ نہیں۔

چنانچہ جمہوری طریقے سے آجاؤ دوستو! لوگوں کو قائل کرلو! اور پھر جو جی چاہے شِق بدلوا لو ہمارے آئین سے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اور اِسی جمہوری طریقے سے ملک تُڑوا دو، تب بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن جب تم ایجنٹس والے ہتھکنڈوں اور پراسرار سرگرمیوں پر اُتروگے تو ہم اپنے وفاق کے تحفظ کے لیے صرف اپنی فوج کی طرف ہی نہ دیکھیں گے بلکہ خود بھی تمہارے راستے کی دیوار بن کر کھڑے ہوجائیں گے۔ یہ فقط ہم پاکستانی قوم جن پر تم سرعام لعنت کرتے ہو، ہی ایسا کرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ بلکہ ایسی اُفتاد کسی بھی ملک پر پڑے تو اس کے عوام اور فورسز ایسا ہی کرتی ہیں۔ اور امریکی تو سب سے پہلے ایسا کرتے ہیں۔

Comments

ادریس آزاد

ادریس آزاد

ادریس آزاد بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد میں فلسفہ کے استاد ہیں۔ کئی کُتب کے مصنف ہیں، جن میں چند معروف تاریخی ناول بھی شامل ہیں۔ فزکس، فلسفہ، اقبالیات، ارتقأ، جدید علم الکلام، لسانیات، اور اسلامی موضوعات پر عام فہم زبان میں لکھے گئےمضامین قارئین کی توجہ حاصل کرچکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */