کالم میں ’فاحشہ‘ کا لفظ لکھنا غلط کیوں؟ صحیح کیوں؟ حافظ یوسف سراج

جنوبی پنجاب کے ایک غریب گھرانے سے قندیل بلوچ کا تعلق تھا۔ وہ اس عمر میں تھی جب انسان خواب دیکھنے، تتلیاں پکڑنے، آسائشوں میں گھر جانے، سہولیات و تعیشات کمانے اور فی الفور شہرت و دولت ہتھیانے کے منہ زور سیلاب کا سامنا کرتاہے۔ اس طوفانی سیلاب کے آگے انسان کو بڑی مضبوطی سے بند باندھنا پڑتا ہے۔ انسانی ضمیر کے بعد اس طوفان سے نمٹنے کے لیے سب سے زیادہ انسانی اقدار، سماجی دیوار اور خاندانی وقار انسان کے کام آتاہے۔ یہ چیزیں قندیل بلوچ کے اندر اٹھتے طوفان کے سامنے ناکافی ثابت ہوئیں۔ وہ ایک اور ڈگر پر چل پڑی۔

انڈیا سے پاکستانی کرکٹ میچ کے دوران اس نے کرکٹ میچ میں اترے بغیر سوشل میڈیا پر ایک کلپ وائرل ہونے سے شہرت کما لی۔ یہ شہرت اچھی نہیں تھی۔ وہ مریضانہ انداز میں شاہد آفریدی کو مخاطب کرکے سٹرپ ٹیز (Strip tease) ڈانس دکھانے کی دعوت دیتی تھی بشرطیکہ وہ میچ جیت جاتا۔ میں نے ڈکشنری میںStrip tease کا معنیٰ دیکھا تو وہاں لکھا تھا:
A form of entertainment in which a performer gradually undresses to music in a way intended to be sexually exciting.
’’یہ انٹرٹینمنٹ کی وہ صورت ہے، جس میں رقاصہ میوزک پر تھرک تھرک کر آہستہ آہستہ بے لباس ہو جاتی ہے، وہ یہ سب اس انداز سے کرتی ہے کہ دیکھنے والوں میں سیکس کی اشتہا کے جذبات بھڑک اٹھیں ۔‘‘

یہ قندیل بلوچ کی شہرت کا نقطۂ آغاز تھا۔ یہ شہرت کیسی تھی۔ ظاہر ہے، خود قندیل کے اپنے الفاظ سٹرپ ٹیز اور اس کے مفہوم سے واشگاف ہو جاتی ہے۔ اس کی وضاحت کی چنداں زیادہ ضرورت نہیں۔ آگے چل کر اس کی کئی ویڈیوز اور تصاویر ایسی آئیں جنھوں نے اس کی اس شہرت میں مزید اضافہ کیا. ملتان کے ایک مختلف شہرت رکھتے مفتی عبدالقوی کے ساتھ ایک ہوٹل میں لی گئی تصاویر بھی سامنے آئیں جو اور زیادہ متنازع ثابت ہوئیں اور جو قندیل بلوچ کی مخصوص شہرت میں مزید اضافہ کر گئیں۔ ان تصاویر میں مفتی عبدالقوی ننگے سر تھے اور ان کی جناح کیپ قندیل بلوچ نے اپنے سر پر پہن رکھی تھی۔ یہ ایک الٹرا بےتکلفی کا منظر تھا۔ میڈیا اور معاشرہ اس پر ابھی اپنی اپنی رائے دے ہی رہا تھا کہ اچانک ایک دن قندیل بلوچ اپنے گھر میں مردہ پائی گئی۔ اس کے بھائی نے ا س کا گلا دبا کے اسے قتل کر دیا تھا۔ ہمارا سماج اتنا پڑھا لکھا نہیں کہ وہ ہر معاملے پر ایک سوچی سمجھی اور بصیرت مندانہ رائے دے سکے۔ اس کے باوجود البتہ اس قتل کی مذمت کی گئی اور واشگاف کہا گیا کہ اس کی حرکتیں اپنی جگہ غلط سہی، لیکن اسے اس طرح قتل کردینا کسی صورت جواز نہیں رکھتا۔ یہ بات البتہ فطری ہے کہ مرنے والا جو بھی ہو، وہ اپنی شہرت ہی کے تناظر میں اپنے لیے عوامی ہمدردیاں اور ان کی مثبت رائے جیت سکتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ اجمل پہاڑی اور عبدالستار ایدھی کی وفات کو قوم ایک ہی نظر سے دیکھے۔ بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ قندیل بلوچ کی یہ شہرت بھی اس کی قبر میں دفن ہوتی گئی۔

اب مگر پھر سے قندیل کا تذکرہ سننے میں یوں آیا ہے کہ کچھ لوگوں نے قندیل بلوچ پر فلم بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پر رد عمل دیتے ہوئے محترمہ سعدیہ قریشی صاحبہ نے اپنے اخبار میں کالم لکھا۔ اس کالم میں کالم نگارہ کے مؤقف کی حدت یا آنچ کچھ تیز تھی۔ محترمہ نے کالم میں فاحشہ کا لفظ استعمال کر لیا۔ یہ لفظ اخبار میں چھپ بھی گیا۔ کالم میں یہ لفظ واضح طور پر قندیل بلوچ کے لیے استعمال کیا گیا تھا، اور ظاہر ہے کہ اس کے قتل ہوکے مرنے کے بعد کیا گیا تھا۔ اس ایک لفظ کے سوا اس کالم میں محترمہ کے جذبات کی حدت کے علاوہ کوئی چیز دوسرا مؤقف رکھنے والوں کی گرفت میں نہیں آسکی تھی۔ البتہ وہ قندیل کو ہیرو بنانا چاہتے تھے جبکہ دوسری سوچ رکھنے والے نہیں چاہتے تھے کہ ایسے کردار کو بطور ہیرو پیش کر کے منہ زور خواہشات سے لڑتی ہماری ناپختہ ذہن نسل کو ایسے ہی کسی انجام کے حوالے کر دیا جائے اور یوں پھر سے ہماری کوئی قندیل قبر میں جا اترے۔ نہ ہم مغرب میں جیتے ہیں نہ ہماری سوچ اور زمینی حقائق ہی مغربی ہیں۔ اپنی زندگی اپنی زمیں پر جینا ہی دانشمندی کہلاتی ہے۔ چنانچہ زندگی بڑی قیمتی ہے اور اس کی حفاظت یہی نہیں کہ بیمار ہونے پر علاج کروا لیا جائے، بلکہ اس کی حفاظت اور قدر یہ بھی ہے کہ صحتمندانہ سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے خود کو بیمار ہونے سے بچایا بھی جائے۔ خیر اس کالم کو محترم عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے اپنی وال پر شیئر کر دیا۔ یوں سوشل میڈیا پر اس کا کالم کاپھیلاؤ زیادہ ہوگیا اور اب ان لوگوں کے لیے بھی اپنا موقف پیش کرنا ضروری ہوگیا، جو شاید یہاں کالم شیئر نہ ہونے کی صورت میں چپ ہی رہتے۔ بات زیادہ اہمیت اس وقت اختیار کر گئی جب رؤف کلاسرا صاحب نے بھی خاکوانی صاحب کی اس پوسٹ پر اپنے نقطۂ نظر سے کمنٹ کر دیا۔ خاکوانی صاحب نے اس کمنٹ کے جواب میں اپنے مؤقف کی ذرا زیادہ تفصیل سے وضاحت کر دی۔ پھر اس کمنٹ کو الگ سے پوسٹ بنا کے بھی اپنی ٹائم لائن سے شیئر کردیا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا نقطۂ نظر پوری وضاحت سے سامنے آجائے۔ بات اب اور زیادہ پھیل گئی تھی۔ اس پر دو طے شدہ سٹیک ہولڈرز یعنی لبرلز اور غیر لبرلز کے درمیان لفظی چاند ماری شروع ہوگئی۔ پوسٹیں اور بلاگز لکھے گئے۔ اگرچہ لفظی گولہ باری کی یہ جنگ لبرل اور غیرلبرل خیالات میں جاری پرانے کبڈی میچ ہی کا اک تازہ راؤنڈ تھی۔ البتہ اب کے اس کے لیے اکھاڑا ’فاحشہ‘ کا لفظ چنا گیا۔

اس پر کئی طرح کے مؤقف سامنے آئے۔ کچھ نے کہا باقی سب ٹھیک ہے مگر یہ فاحشہ کا لفظ زیادہ سخت ہے، بہت سے لوگوں نے کالم کے بہاؤ میں آئے اس لفظ کو نظرانداز کرکے کالم کی روح اور مرکزی خیال پر توجہ دی اور چپ ہو رہے۔ دوسری جانب اسی لفظ کو لے کر مگر رگڑائی، دھلائی اور دھنائی کا کام بہ اہتمام شروع کر دیاگیا۔ اب یہ جنگ کسی حد تک شاید انا کی جنگ بھی بن گئی۔ ایک طرف فاحشہ کے لفظ کے استعمال سے نہ صرف دائیں بازو کی اخلاقیات کا جنازہ نکلتا دکھایا جانے لگا، اور صفیں سجا کے نمازِ جنازہ بھی پڑھائی جانے لگی اور یہ نمازجنازہ سری نہیں جہری اور وہ بھی لاوڈ سپیکر پر پڑھائی جانے لگی۔ اس پر دائیں جانب والے اگر پہلے اس لفظ کے استعمال کو عجلت میں لکھا گیا ایک لفظ کہہ کر کچھ معذرت خواہ ہو رہے تھے تو اب وہ بھی ڈٹ گئے۔ کچھ دوستوں نے اس پر آیات میں سے فحاشی کے لفظ کا استعمال بھی دکھانا شروع کر دیا۔ یہیں مجھے لگا کہ اب مجھے بھی کچھ بات کرلینی چاہیے۔ اولاً یہ بات اس لفظ کے ساتھ کھڑے لوگوں سے ہوگی اور پھر دوسرے دھڑے سے۔

میری رائے یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ استعمال نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ایسا کہنے میں رکاوٹ وہ حدیث ہے جس میں فرمایاگیا ہے کہ لا تسبوالاموات۔ یعنی مرگئے لوگوں کو برا نہ کہو۔ یہ ایک عام حدیث ہے۔ یعنی اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کسی طرح کے مرگئے لوگ اس قاعدے سے مستثنیٰ بھی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ عمومی طور پر سبھی طرح کے مرگئے لوگ اس حوالے سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ وفات پا گئے لوگوں کو برا نہ کہنے کی وجہ بھی اس حدیثِ مبارکہ میں موجود ہے کہ، انھوں نے جو کیا وہ اس کی جزا کی جنت یا سزا کے کٹہرے میں پہنچ چکے ہیں۔ جب معاملہ عدالت میں پہنچ جائے تو دنیا میں بھی اس پر بات نہیں کی جاتی۔ یہ تو پھر ایسی عدالت ہے جس سے سبھی کو گزرنا ہے اور ایک انسان جب اس مرحلے میں ہو تو وہ اپنی زندگی کے سب سے مشکل مرحلے میں ہوتا ہے، ایسے موقع پر بطور انسان وہ ہماری دعا اور ہمدردی کا حق رکھتا ہے۔ یہ وقت سبھی پر آنا ہے۔

مرگئے لوگوں کو برا نہ کہنے کی قرآن مجید میں ذکر کردہ ایک مثال ہمیں وہاں بھی ملتی ہے جب اپنے دربار میں مکالمے کے وقت فرعون سیدنا موسیٰ سے پوچھتا ہے، اگر ہمارا دین نجات دہندہ نہیں تو ہمارے مرگئے آباؤ اجداد کے بارے کیا حکم صادر فرماتے ہو؟ فرمایا، ان کا علم میرے رب کو ہے، مجھے نہیں، یعنی ان کے سٹیٹس کے بارے میں نبی نے بات نہیں کی حالانکہ ان کا سٹیس نبی پر واضح تھا کہ وہ گمراہی میں مرگئے تھے۔ دوسری وجہ، سیدنا موسی اور ان کے برادر جن کے لیے بھی سیدنا موسیٰ نے نبوت مانگ لی تھی، کو فرعون کی طرف بھیجتے وقت اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی۔ تم دونوں اس سے نرمی سے بات کرنا۔ یعنی اگر فرعون جیسے تاریخی جابر اور ظالم سے بات نرمی سے ہوگی تو باقی سب مجرم و گنہگار زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ان سے دعوتی مقام پر سخت بات نہ کی جائے۔ تیسری وجہ، قرآن مجید کا یہ اسلوب کبھی نہیں رہا کہ وہ نام لے کر لوگوں کو برا کہے۔ ہاں نام لے کر اچھا تو کہا گیا مگر کسی کی برائی ذکر کرتے وقت برائی کا ذکر باقی رکھا گیا اور برے شخص کا نام حذف کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو سوائے ابولہب کے کسی شخص کی قرآن مجید میں نا م لے کر مذمت نہیں ملے گی۔ ہاں برائی اور برے رویے کی مذمت البتہ ہر ضروری جگہ مل جائے گی۔ ابولہب کا نام کیوں لیا گیا۔ اس کی ایک وجہ ہے جو فی الوقت ہمارے موضوع سے خارج ہے۔ واضح رہے کہ یہ جو فرعون کی مذمت ہوئی، تو یہ بھی اس کا نام نہیں، لقب تھا۔ یوں آج مفسرین طے کرتے ہیں کہ موسیٰ کے وقت کا فرعون کون تھا، اس کا کیا نام تھا۔ بعض کہتے ہیں رعمیسیس تھا۔ قرآن نے بہرحال نام نہیں لیا۔

یہی اسلوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، جب آپ کسی کی برائی دیکھتے تو فرماتے، لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ یوں یوں کرنے لگے ہیں۔ برائی سے نسبت کرتے ہوئے نام آپ نہیں لیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آ رہا تھا، سیدہ عائشہ پاس تھیں، آپ نے اس کے آنے سے پہلے فرمایا کہ یہ اپنے قبیلے کا بدترین آدمی ہے، جب پاس آیا تو آپ نے بڑی محبت، مہربانی اور احترام کا سلوک فرمایا، سیدہ نے بعد میں پوچھا تو فرمایا، بدترین آدمی وہ ہے جس کے شر کی وجہ سے لوگ اس کی عزت کرنے پر مجبور ہوں۔ تو یہ بھی دلیل ہے کہ برے آدمی سے برا سلوک نہ کرنا سنت اور سیرت ہے۔

پھر یہ ہرگز دلیل نہیں کہ اگر فحاشی کا لفظ قرآن مجید میں آگیا تو اب ہم اسے کسی بھی شخص کے لیے بول سکتے ہیں۔ ہاں اگر قرآن نے اسے کسی خاص شخص کا نام لے کر منسوب فرمایا ہوتا تو اسے ایک دلیل سمجھا جا سکتاتھا، اگرچہ اس پر عمل کی بات پھر ہمیں رسول کے رویے سے لینا تھی. یہ ایسے ہی ہے کہ ہم کہیں چونکہ ڈکشنری میں ڈاکو کا لفظ موجود ہے لہذا کسی کو بھی ڈاکو کہا جا سکتا ہے۔ چونکہ قرآن میں بعض لوگوں کو جہنمی کہا گیا ہے، لہٰذا ہم کسی کو بھی جہنمی کہہ سکتے ہیں۔ برائی کا ذکر ہونا ایک بات ہوتاہے اور اسے کسی شخص سے جوڑ دینے سے اس کی نوعیت یکسر بدل جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جو خصوصیات کسی انجام کی ذکر کی گئی ہوں، کسی شخص کے مطابق وہ کسی میں پائی بھی جاتی ہوں تو بالضبط انھیں کسی شخص پر، نام لے کر چسپاں کرنا، ایک مشکل ترین وادی ہے، جس سے گزرنا خطرے سے خالی نہیں۔

اب چند سوالات لبرلز سے
دوستو! آپ آخر اپنے نظریات میں یکسو ہوکر سرخرو کیوں نہیں ہو جاتے۔ جب لباس اتار دینے کو ڈکشنری عریانی یا بےلباسی کہتی ہے تو اس پر عمل کرنے والے کو وہی کہنے پر کہ جو وہ کرتا یا کرتی ہے، آپ ناراض کیوں اور سیخ پا کیوں ہو جاتے ہیں؟ سٹرپ ٹیز کا اگر ایک مطلب ہے، اور کوئی اسے قبول کرتا ہے اور اس پر عمل کرنے کا اعلان کرتا ہے تو آپ اس عمل کے کرنے والے کے بجائے محض اس عمل کے بیان کرنے والے پر ناراض کیوں ہو جاتے ہیں۔ اوپر بیان کی گئی باتیں تو مذہبی ہیں کہ جو ہمیں ایسا کہنے سے روکتی ہیں۔ آپ تو مگر آزادی کی بات کرتے ہو، پھر اس آزادی پر مذہبی لوگوں کو عمل کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے نقطہ نظر کے مطابق ان کی آزادی پر خوش ہونے کے بجائے ناراض کیوں ہوجاتے ہو؟ آپ کی طرف سے یہ ہونا ہمیں مشکوک کر دیتا ہے کہ خود آپ بھی اپنے نظریے پر کامل ایمان نہیں رکھتے۔ یا آپ بس ایک نظریاتی چیز کے پیچھے تو ضرور ہیں مگر اسی پر عمل کا نتیجہ دیکھنے کے روادار یا متحمل آپ نہیں ہو۔ کیا آپ میری بات سمجھ گئے ہیں؟ دراصل اب مجھے بات ختم کرنی ہے، گو آپ سے تخاطب کے لیے مواد ابھی باقی ہے۔ لفظ لیکن بہت ہوگئے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.