ہاں آپ سب کچھ بتائیں!! (ضیغم قدیرکے جواب میں) - شہیر شجاع

ہاں آپ سب کچھ بتائیں، مگر ہر بات کی ایک منطق بھی ہوتی ہے ۔ غالب گمان ہے لفظ منطق کے حقیقی مفہوم سے آشنا ہوں گے ۔ جب بات کولر میں لگے گلاس کی ہوتی ہے اسے اس لیے باندھا جاتا ہے کیونکہ یہاں بد تہذیبی ہے، اس میں بے ایمانی نہیں شامل۔ چور کا کوئی ایمان نہیں ہوتا، اس کی تربیت غلط ہوتی ہے اور کوئی کولر کا گلاس چوری نہیں کرتا۔ بلکہ پانی پی کر اسے واپس اپنی جگہ پہ نہیں رکھتا۔ آپ کولر لگانے والے کو تھر کے باسیوں کا سوگ سناتے ہیں؟ کیا پتہ اس نے تھر کے لیے کتنی امداد پہلے ہی بھیج رکھی ہو ؟ اللہ کا گھر محفوظ نہ ہونے کی ذمہ داری عام شہری کی نہیں، پر اخلاقی فرض ضرور ہے اور یہ دو مختلف باتیں ہیں ۔ ذمہ داری پر سوال اٹھتا ہے، اخلاقی ذمہ داری پر جوابدہی نہیں ہوتی (کیونکہ استطاعت کا ہونا نہ ہونا نا معلوم ہے )۔ اور جو لوگ مسجدیں بنواتے ہیں وہ زکٰوۃ و عشر، صدقات و فطر، خیرات و عطیات بھی دیتے ہیں ۔ پڑوسی بھوکا سوتا ہے یہ محض ایک کہاوت ہے یا ایسے مواقع پر کہا جانے والا محاورہ، کیونکہ ہم نے بہرصورت اعتراض کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے ایسے اعتراض موزوں ترین ہوتے ہیں ۔ مسجد جائے عبادت ہے، اس کی حفاظت و دیکھ بھال کی جس کی استطاعت ہے وہ ذمہ داری اٹھاتا ہے اور عموماً وہ ذمہ دار اکثر مسجد کی گلی کے رہنے والے بھی نہیں ہوتے ۔ اسی طرح انسانیت کی خدمت کے مختلف ذرائع ہیں ۔ جو حتی الامکان اپنی مدد آپ کے تحت پورے ہورہے ہیں اور وہ بھی پاکستان ہی ہیں ۔

روشنی کی کرن دیکھنا ایک اچھی سوچ ہے، جواب میں جو تحریر سامنے آئی اس میں ہر جواب میں بد ظنی کا اظہار ہے جو کہ کم از کم روشنی کی کرن جھانکنے پر اعتراض کہا جاسکتا ہے یا اس سے آنکھیں چرانا۔ اگر ہم دونوں تحاریر پر طائرانہ نگاہ ڈالیں تو دونوں ایک دوسرے سے متضاد ہیں ۔ پہلی تحریر مکمل طور پر معاشرتی اصلاح اور سماجی رویوں پر مشتمل ہے جبکہ جواب میں سماج اور ریاستی اداروں کا باہمی مقابلہ کیا گیا ہے جو کہ کسی بھی طرح اس پہلی تحریر کا جواب نہیں ہو سکتا۔ بے شک ہمارا معاشرہ تہذیب و اخلاق کے پیمانوں سے ماورا ہوتا جارہا ہے ۔ جہاں قندیل بلوچ (اللہ جل شانہ مرحومہ کی مغفرت فرمائیں ) جیسوں کو ہیرو بنا کر پیش کیے جانے کی سوچ جنم لیتی ہے تو دوسری جانب نہایت ہی سخت الفاظ میں اس سوچ پر اظہار رائے کیا جاتا ہے ۔ ایک سوچ اخلاقی رویوں کے پاسداران کو ابھارنے کا موجب ہوتی ہے تو دوسری شدت کا بیانیہ بن کر سامنے آتی ہے ۔ سو چہار جانب منفی رویے دیکھنے میں آتے ہیں اور اس کی وجہ منفیت کی جانب زیادہ توجہ دینا ہے جبکہ ہر واقعہ، عمل، مشاہدہ وغیرہ منفی و مثبت دونوں صفات کا حامل ہوتا ہے ۔ اب یہ تجزیے کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ منفیت کی نفی کرے اور اثبات کو ابھارے ۔ اس جوابیہ تحریر کا بھی جائزہ لیا جائے تو یہ بھی فوری رد عمل کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے ، جس میں ایک مثبت رائے کو قبول نہ کرنے کی ضد محسوس ہوتی ہے ۔ یہی وہ رویہ ہے جس سے سماج کو دور کرنے کے لیے روشنی کی کرن کی جانب دیکھنے کی استدعا کی گئی تھی کہ تلاش وہ کریں جس کی سماج کو ضرورت ہے اور جو معاشرت کے لیے زہر قاتل ہے اس پر تنقید کریں ۔ یہ بھی ایک فن ہے جو لکھنے والے کے ذریعے قاری کی ذہن سازی کرتا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں دونوں چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہے ایک کے لیے اس کے دل میں نفی کے جذبات جنم لیں اور دوسرے کو اپنانے کے۔ لکھنا ہی کمال نہیں پڑھنے کا بھی ایک سلیقہ ہے ۔ اور پڑھتے وقت ذہن خالی رکھنا ہر رد عمل سے عاری رکھنا اشد ضروری ۔ یوں ہو تو بصیرت نہیں پیدا ہوجاتی ؟

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

محض تنقید، تنقید، تنقید آگے جا کر تنقیص کی صورت میں نمودار ہوتی ہے ۔ اور اسی روش نے نظریات کے تصادم کو شدت پسندانہ رویہ فراہم کیا ہے ۔ درپیش مسئلے پر سب سے پہلے غور کیا جانا ضروری ہے ۔ اس کے بعد اس مسئلے کے عناصر کا تجزیہ اپنی فہم و ادراک کی کسوٹی پر پرکھنا، تب جا کر کسی نتیجہ خیزی کی جانب پہنچا جا سکتا ہے ۔ بصورت دیگر ایک خوبصورت، صحت مند تحریر پر بھی کچھ یوں مدافعانہ ردعمل سامنے آتا ہے کہ قاری بھی غش کھا کر گر پڑے ۔ عصر حاضر میں تو ہم پاکستانی اتنے بد اعتماد ہو چکے ہیں ہمیں کوئی کیا سبز باغ دکھائے ؟ کوئی سبز باغ پر سچ بھی بول رہا ہو تو ہم کہاں یقین کرتے ہیں ؟ خامیوں کو سامنے لانا اور چیز ہے ۔ مثبت رویے کی استدعا اور چیز ۔ ان دونوں کو خلط ملط نہیں ہونا چاہیے ۔