ہمسفر کہانی - نورین تبسم

”اوراس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیا تاکہ تمہیں اِس سے سکون حاصل ہو۔اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔یقیناً اس میں غوروفکر کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں“۔ (سورہ الروم، آیت 21)

تخلیقِ کائنات کے بعد انسان کا انسان سے اولین تعلق ہی اس دُنیا کا سب سے اہم رشتہ ہے۔ وہ بنیادی تعلق جو عرش پر قائم ہوا اور فرش پر لانے کا سزاوار ٹھہرا۔ اِس تعلق کی پہچان دنیاوی اور اخروی سکون کی ضمانت ہے۔ وہ تعلق جو انسان کی فطرت میں ازل سے رکھ دیا گیا ہے لیکن پھر بھی اس کے کھوج میں ساری زندگی در بدر رہتا ہے۔

زندگی کے بڑھتے ادوار میں تعلقات کے حوالے سے تین طرح کے رشتے سامنے آتے ہیں۔

سب سے اہم اور سب سے پہلے ہمارے خون کے رشتے ہوتے ہیں، وہ ہمارے اور ہم اُن کے لیے لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ دُنیا میں ہر شے سے بڑھ کر ان پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ ان کی محبت اور چاہت ہمارے لیے سرمایۂ حیات ہوتی ہے۔

دوسرے نمبر پر ہمارے دوست اور مہربان ہیں ہمارے وجود کا وہ حصہ جو پُور پُور سیراب کر دیتے ہیں، بسا اوقات ہم خون کے رشتوں سے بڑھ کر اپنے دوستوں کو اہمیت دیتے ہیں کہ جنم کے رشتے تو بنے بنائے ملتے ہیں۔ اُس میں کسی مرضی یا پسند ناپسند کا حق حاصل نہیں ہوتا جبکہ دوستی کا رشتہ پورے خلوص اور سچائی سے ہم خود اُستوار کرتے ہیں۔ واقعی مخلص دوست اللہ کا وہ انعام ہے کہ جس کا شُکر ادا کرتے زبان نہیں تھکتی۔ دوستی کے علاوہ بھی کُچھ تعلق ایسے اٹوٹ ہوتے ہیں کہ کوئی آس، کوئی اُمید، کوئی رابطہ اور کوئی خواہش نہ ہونے کے باوجود دل کی دھڑکن کے ساتھ سفر جاری رہتا ہے۔

آخر میں اب آتے ہیں سب سے ناپائیدار رشتے کی جانب۔ زندگی کا وہ موڑ کہ آگے کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ آخرت کی منزل کی طرح کہ اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے لیکن جوہوگا جس کے ساتھ ہوگا اس بارے میں کوئی نہیں جان سکتا سوائے قادرِ مُطلق کے۔

مرد یا عورت کا اپنے آپ کو کسی انجان کے حوالے کر دینے کا فیصلہ وہ قدم ہے جو ایک بار اُٹھ جائے تو پھر کبھی پلٹ نہیں سکتا۔ یہ زندگی کی سلیٹ پر انمٹ سیاہی سے لکھی جانے والی ایسی تحریر ہے جس کے نقش مٹانا ناممکن ہیں۔
یہ رشتہ چاہے باہمی رضامندی سے طے ہو یا بڑوں کی شفقت کے سائےتلے۔
مجبوری کے بوجھ سےمضبُوط ہو یاسمجھوتے کی چادر سے سنوارا جائے۔
والہانہ عشق و مُحبت سے مہکتا ہو یا پھر پورے اعتماد اور یقین سے ایک نئے سفرکا آغاز کیا جائے۔
اتنا بودا، اتنا کمزور ہوتا ہے کہ فقط تین الفاظ سے کانچ کی چوڑی کی طرح ٹوٹ جاتا ہے۔ اب ایسے رشتے پر کوئی فخر کرے، بھروسہ کرے یا جان کو روگ لگائے۔ بس ایک مرحلہ ہے جو طے کرنا ہے چاہے خوشی سے کرو یا مایوسی سے۔ اِسی لیے انسان اپنے سارے تعلقات سارے رشتوں میں اس ساتھ کو سب سے کم اہمیت دیتا ہے۔ اس رشتے کی ایک منفی صفت اس کا خوف ہے کہ اس کو برقرار رکھنے کی کوشش میں انسان اپنے دیگر رشتوں سے دستبردار ہونے پر بھی راضی ہو جاتا ہے۔
وہ تعلق جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مرد اس موڑ پر اپنی آزادی کھو دیتا ہے اور عورت خوشی۔ غرض انسان ساری عُمر اس تردّد میں گُزار دیتا ہے کہ اُس نے اس رشتے سے کیا کھویا کیا پایا۔ اپنے آپ کو حوصلہ دیتے اور خوش گُمان رکھنے میں عمر تمام ہو جاتی ہے۔ کہیں مذہب کی آڑ میں صبر شُکر کی تسبیح پڑھی جاتی ہے تو کہیں کوئی اور آپشن نہ ہونے کا سوچ کر گُزارہ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت، صبر و استقامت کا کوہ ہمالیہ - محمد نورالہدی

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رشتہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے۔ بال کی مثال کو سامنے رکھیں اور بال کو دیکھا جائے تو اس سے زیادہ کمزور اور بےحقیقت شے کوئی نظر نہیں آتی کہ وزن ہے نہ پیمائش، ساخت ہے نہ رنگ روپ اور سب سے بڑھ کر نہ ہی کوئی احساس ہے، ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا۔ کوئی درد نہیں کوئی تکلیف نہیں، کُچھ بھی تو نہیں اور قُدرتی طور پر دوبارہ اپنی جگہ کبھی بھی نہیں آسکتا۔ اگر سوچا جائے تو رنگ ہی رنگ، جلوے ہی جلوے کہ اگر ان کو سمیٹ کر رکھیں۔ توجہ دیں تو نہ صرف ہماری خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ہماری ذہنی اور جسمانی صلاحیت کے نکھار میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمیں خود اعتمادی بخشتے ہیں۔ لوگوں کے سامنے سر اُٹھا کر چلنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ ہماری نِگہداشت سے مضبُوط ہوتے ہیں۔ اپنا پن برقرار رکھتے ہیں اورآخری عمر تک ساتھ نہیں چھوڑتے۔

یہ رشتہ اگر بال کی طرح ہے توبال شیشے میں بھی آجاتا ہے، وہاں یہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ ہماری توقعات، خواہشات اور خوشیاں کانچ کے ایک نازک برتن کی مانند ہوتی ہیں، ہم اُنہیں بڑا سینت سینت کر پروان چڑھاتے ہیں، زمانےکے سرد وگرم سے بچاتے ہیں۔ سب سے اہم بات کہ اُس کو بڑی مہارت اور نفاست سےسنبھالنا چاہیے، اس میں ہم لاپرواہی دکھا دیتے ہیں اور دوسری چیزوں کی طرح اس کو بھی روزمرّہ کا ایک کام جان کر ٹیک اٹ فور گرانٹڈ لیتے ہیں، اس میں جس خاص توجہ اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہےاُس طور ہماری تربیت ہی نہیں ہو پاتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بےدھیانی سے اس شیشے میں جب بال آجاتا ہے تو پھر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ کیا ہوگیا۔ ستم یہ کہ اس وقت بھی ہم بال ہی کو کوستے ہیں۔ اب جتنا مرضی سنبھالو جیسے چاہے رکھو، بال تو وہیں رہے گا۔ ساری عمر وہی برتن استعمال کرنا پڑتا ہے تو کُچھ تو آنکھیں بند کر کے اپنا مطلب نکالتے رہتے ہیں، یہ جانے بِنا کہ اس کی شفافیت کو ہم نے مسخ کیا ہے۔ اور زیادہ عقل مند ہوں تو بال پر الزام دھرتے ہیں کہ سارا مزہ کرکرا کر دیا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ بات کبھی بھی نہیں بگڑتی۔ سب تہس نہس ہونے کے باوجود اگر خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا جائے تو کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آتا ہے اور یہ وہی راستہ ہوتا ہے جو سیدھا اور پُرسکون ہوتا ہے۔ جس میں گِلہ شِکوہ ہوتا ہے اور نہ پچھتاوا اور نہ ہی مایوسی۔ ہر چیز نے ختم ہو جانا ہے، خوشیاں باقی رہیں گی اور نہ غم، پھرچیزوں، رشتوں پر ماتم کرنا، اُن سے دل لگانا، اُن کو اپنا سرمایہ جاننا فقط خام خیالی ہی تو ہے۔

تقدیر کا چکّر رُخ بدلتا ہے اور آزمائشوں کی بارش سے رشتوں اور چہروں کی اصلیت جب دُھل کر سامنے آتی ہے تو انسان کا بےاختیار اپنی عقل کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ساری ترتیب اُلٹ جاتی ہے۔ دل جہاں اپنوں کی بےوفائی کا گِلہ کرتا ہے وہیں دوستوں کی ہمدردی اور دل جوئی بھی صرف وقتی ہوتی ہے، عملی طور پر وہ ہمارے لیے کُچھ بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن کُچھ رشتے کچھ تعلق یکدم اتنے قیمتی اور اتنے اہم ہوجاتے ہیں کہ انسان پچھلی ساری باتیں بُھول جانے پر مجبُور ہو جاتا ہے۔ کبھی وہ ساتھ جو پانی پر بنے مکان سے زیادہ مضبوط نہیں دِکھتا، وقت کی تیزوتُند آندھی میں چٹان ثابت ہوتا ہے۔ ساری بات اور سارا کھیل احساس کا ہے کہ جس وقت جس لمحے آپ کو کسی کی اہمیت و ضرورت کا ادراک ہوجائے، وہ لمحہ اپنی مُٹّھی میں قید کر لینا چاہیے۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ساتھ جس میں عام حالات میں کوئی گہرائی دکھائی نہ دے لیکن جب مشکل وقت آن پڑے تو نظر آئے کہ سارے راستے اِسی منزل کی طرف جا رہے ہیں۔ کسے خبر کہ جو سفر مادیت سے شُروع ہو، وہ روحانیت کی جانب پہلا قدم بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بات عین حق ہےکہ انسان کا آغازِسفر روح سے جسم کی جانب اور اختتام ِسفر جسم سے روح کا ہے۔ اللہ اور انسان کے مابین تعلق کے بعد اور تخلیق ِکائنات کے بعد ایک انسان کا دوسرے انسان سے پہلا تعلق یہی رشتہ ہے جس پر آنے والے سب رشتوں سب احساسات کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ اس ساتھ میں کسی دوسرے فرد کی گُنجائش ہے اور نہ ضرورت، یوں کہہ لیں کہ روح کا تعلق اللہ سے جُوڑ کر ہم سکون حاصل کرتے ہیں تو جسم کا سکون بھی صرف اور صرف ایک ہی سے مل سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ ابدی سکون کی تلاش ہو ورنہ دُنیا میں نشہ آور اشیاء کی کمی نہیں، جو صرف وقتی طور پر کسی کو مُطمئن کرسکتی ہیں۔ ہمیں فقط اصل نقل کا فرق پہچاننے کی ضرورت ہے۔ عشق ِحقیقی کا منبع اگر خدائے واحد ہے تو عشقِ مجازی کا مرکزِ نگاہ بھی صرف اور صرف ایک ہونا چاہیے۔ جب پوری سچائی اور اخلاص سے اپنے رب کو یاد کر کے ابدی سکون نصیب ہوتا ہے تو دُنیاوی زندگی کے سکون کے لیے بھی فردِ واحد سے مُکمل ذہنی وجسمانی ہم آہنگی بُہت ضروری ہے۔ یہ حرفِ آخر ہرگز نہیں۔ کسی بھی معاملے میں حتمی رائے آخری سانس سے پہلے نہیں دی جا سکتی۔ ”اللہ ہرشے کو اس کی اصل ماہیت میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے“۔ آمین یا رب العالمین

یہ بھی پڑھیں:   مجھے آپ سے ایک بات کہنی ہے - عنبرین خان

حرفِ آخر
حقیقت ِزندگی ایک سہی لیکن ہر ایک پر الگ انداز سے عیاں ہوتی ہے۔ کبھی شاعر فقط اپنی شاعری کا لبادہ اوڑھ کر محبوب کے لمس کی لذت پا لیتا ہے تو کبھی انسان ساری زندگی لمس چھو کر بھی اصل کیفیت کے خمار سے لاعلم رہتا ہے۔

ازدواجی زندگی محض ایک رُخ ہے، حوالہ ہے، راستہ ہے۔ خوشی کے حصول کا۔ لیکن یہ بھی ”دو اور لو“ کی پالیسی پر چلتی رہے تو انسان خوشیوں کے اُڑن کھٹولے پر سفر کرتا رہتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جن کی قسمت میں زندگی کا یہ روپ دیکھنا نہ لکھا ہو یا ان سے زندگی کا یہ روپ چھن جائے، ان کے لیے حدود وقیود کے اندر رہتے ہوئے طمانیت وسکون کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
ازدواجی زندگی دنیاوی رشتوں کا ایک موسم ہے۔ کتاب زیست کا ایک باب ہے جس کے ہرورق پرایک نئی تحریر نئی زبان میں لکھی ملتی ہے۔ اس کو سمجھنا اور اس کے امتحان میں پاس ہونا زندگی کے باقی امتحانوں میں کامیاب ہونے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ لیکن اس میں ناکامی زندگی کی مکمل ناکامی نہیں، بس پھر ہر محاذ پر زیادہ محنت زیادہ سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔

یہ تُرپ کا وہ آخری پتہ بھی ہے جس پر سارے کھیل کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار ہے۔ جو بات وقت پر سمجھ آجائے اُتنا جلد انسان اپنے آپ کو ایک بڑے اور آخری امتحان کے لیے تیار کر سکتا ہے۔ وہ امتحان جس کے سامنے یہ چھوٹے چھوٹے پرچے محض کھیل تماشا، دھوکے کا سامان ہیں۔ لیکن کیا کریں اُس امتحان میں بیٹھنے کے لیے ان پرچوں میں کامیاب ہونا بہت ضروری ہے۔ انٹری ٹیسٹ اچھا ہو تو بڑے ادارے میں داخلہ ملنے کی اُمید رکھی جا سکتی ہے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.