پانامہ کیس، مستقبل کے آئینے میں - خرم علی شفیق

کسی نے خوب کہا کہ پانامہ کے شہریوں نے پچاس برس میں اپنی ریاست کا نام اتنی دفعہ استعمال نہیں کیا ہوگا جتنی دفعہ پاکستانیوں نے ایک سال میں کیا ہے۔ جہاں تک مقدمے کے فیصلے کا تعلق ہے، اُس کے فوری اثرات کے بارے میں بھی اِتنا کچھ کہا جا چکا ہے کہ مزید کچھ کہنے کی گنجایش کم ہے۔ البتہ بعض واقعات کچھ دُور رَس اثرات بھی رکھتے ہیں۔ شاید ہمیں اِس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا اِس مقدمے کے کچھ ایسے اثرات بھی ہو سکتے ہیں جو فی الحال ظاہر نہ ہوں لیکن آگے چل کر تاریخ کا رُخ بدل دیں؟ جج صاحبان میں سے کسی نے سماعت کے دوران بھی کہا تھا کہ ایسا فیصلہ دیں گے جو بیس برس تک قوم کی رہنمائی کرے گا۔

اجازت دیجیے کہ پہلے میں تاریخ سے دو مثالیں پیش کروں۔ 1906ء میں برصغیر کے مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ بنائی۔ اس کی بنیاد اِس اصول پر رکھی گئی کہ مسلمان ایک قوم ہیں۔ اس لیے لیگ کا مقصد خطے کے مسلمانوں کے لیے جداگانہ نیابت کا حق حاصل کرنا تھا یعنی مسلمانوں کی نمایندگی صرف مسلمان ہی کریں۔ حکومت نے یہ مطالبہ فوراً ہی تسلیم کر لیا مگر کانگریس نے قبول نہ کیا۔ دس برس بعد 1916ء میں لیگ نے کانگریس کے ساتھ وہ معاہدہ کیا جسے ”میثاقِ لکھنؤ“ کہتے ہیں۔ میثاقِ لکھنؤ کے فوری اثرات اتنے برے تھے کہ علامہ اقبال نے خطبۂ الٰہ آباد میں اسے مسلم قیادت کی سنگین غلطی قرار دیا۔ جن صوبوں میں مسلم اکثریت تھی، میثاق کے تحت مسلمانوں نے وہاں اُن اختیارات سے دستبردار ہونا قبول کر لیا جو جمہوریت کی رُو سے اکثریت کو حاصل ہوتے ہیں۔ بدلے میں کانگریس نے بعض ایسی رعایات دیں جن سے بظاہر کچھ فائدہ نہ تھا۔ اِس طرح میثاقِ لکھنؤ کے بارے میں وہی کچھ محسوس کیا جا سکتا تھا جو بعض لوگوں نے ”جے آئی ٹی“ کے قیام کی خبر سن کر محسوس کیا ہے۔

دوسری طرف چونکہ میثاق کے تحت کانگریس نے جداگانہ نیابت کا اصول تسلیم کر لیا، اس لیے انگریزوں کو بھی اگلی اصلاحات میں یہ اصول برقرار رکھنا پڑا۔ وہ اصلاحات 1919ء میں متعارف کروئی گئیں اور 1935ء تک نافذ رہیں۔ انہی کے تحت ہندوستان میں پہلی دفعہ عام انتخابات ہوئے، اگرچہ بعض لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم بھی رکھا گیا۔ انتخابات 1920ء، 1923ء اور 1926ء میں ہوئے۔ پہلے دو مواقع پر عوام نے کچھ خاص حصہ نہ لیا کیونکہ ”عدم تعاون“ کا نعرہ فضاؤں میں گونج رہا تھا۔ لیکن تیسرے انتخاب تک نعرہ سرد پڑ چکا تھا، اس لیے بڑی گرم جوشی کے ساتھ حصہ لیا گیا۔ جداگانہ نیابت کا اصول رائج ہونے کی وجہ سے مسلمان انتخاب میں عملاً ایک علیحدہ قوم کے طور پر شریک ہو رہے تھے۔ اِس لیے انتخابی جوش و خروش نے جمہوریت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کو بھی عملی بنیاد فراہم کر دی۔ یہ میثاقِ لکھنؤ کے دُور روس اثرات تھے جو قیامِ پاکستان کی بنیاد بن گئے۔

دوسری مثال یہ ہے کہ مارچ 1927ء میں مسلم رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ وہ جداگانہ نیابت کے بجائے اُن علاقوں میں حکومت حاصل کریں گے جہاں اُن کی اکثریت ہے۔ یہی بات علامہ اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد اور قراردادِ لاہور کے ذریعے بالآخر قیامِ پاکستان کا مطالبہ بن گئی۔ مارچ 1927ء میں پہلی دفعہ یہ مقصد متعین ہونے کے ٹھیک دس برس بعد 1936ء میں محمد علی جناح نے مسلم لیگ کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔ لیگ اُس وقت قریباً ختم ہو چکی تھی۔ انھوں نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے جو نئے آئین کے تحت 1937ء میں ہو رہے تھے۔ اُن میں بہت بری طرح شکست ہوئی۔ اس طرح لیگ کو زندہ کرنے کی کوشش کا نتیجہ بھی فوری طور پر کچھ نہ نکلا۔ مگر سب جانتے ہیں کہ بالآخر لیگ کی اس نئی زندگی کی وجہ سے ہی 1946ء کے انتخابات میں بے مثال کامیابی حاصل ہوئی اور پاکستان قائم کیا جا سکا۔

میثاقِ لکھنؤ اور لیگ کو دوبارہ زندہ کرنا ہماری تاریخ سے دو مثالیں ہیں جب فوری طور پر کچھ نہیں ملا مگر بعد میں سب کچھ مل گیا۔ وجہ یہ تھی کہ دونوں مواقع پر وہ مقاصد سامنے رکھے گئے جو قوم نے پہلے سے اپنائے ہوئے تھے۔ دوسری باتیں نظرانداز کر دی گئیں۔ اتفاق سے دونوں اقدامات کا سہرا قائداعظم کے سر ہے، جن کا قول تھا کہ کوئی بھی اقدام کرتے ہوئے اپنی توجہ فوری نتائج تک محدود مت رکھیے بلکہ بیس سال آگے کی سوچیے۔

ہم بھی اگر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو دس برس پہلے قوم نے ایک فیصلہ کیا تھا۔ ایک مقصد اپنایا تھا۔ یہ تحریکِ وکلأ (Lawyers’ Movement) تھی۔ کیا ہم پانامہ کیس کے فیصلے پر بحث کرتے ہوئے تحریکِ وکلأ کے مقاصد کو سامنے رکھ سکتے ہیں؟ یقیناً ہمیں اس فیصلے کے ذریعے وہی اُصول استحکام حاصل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ طے ہوگیا ہے کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ وزیراعظم اور اُس کے خاندان کو بھی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر جواب دینے کی ضرورت ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں اُن کے نجی اثاثوں کی تفتیش کریں گی۔ یہ اُس مقصد کی تجدید ہے جسے ہم نے دس برس پہلے تحریکِ وکلأ کے ذریعے متعین کیا تھا۔

یہ درست ہے کہ اِس وقت ہماری خواہش ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہو، آیندہ انتخابات میں ایسے رہنما منتخب ہوں جن کے دامن بدعنوانی کے دھبوں سے پاک ہوں۔ خدا کرے کہ یہ خواہشات پوری ہوں۔ لیکن بالفرض اگر تحقیقاتی ٹیم کے نتائج میثاقِ لکھنؤ کی طرح فوری نتائج سے محروم ہوں، آیندہ انتخابات 1937ء کی طرح مایوس کن ہوں تب بھی ہم بتدریج اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ قائم کر سکتے ہیں جہاں قانون کی نظر میں ہر شخص برابر ہو۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم انفرادی خواہشات اور توقعات سے بلند ہو کر دیکھنے کی عادت ڈالیں اور یاد رکھیں کہ قومی مقاصد فوراً حاصل نہیں ہوا کرتے۔ اُن کے لیے مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔

Comments

خرم علی شفیق

خرم علی شفیق

خرم علی شفیق اقبالیات کے ماہر ہیں اور صدارتی اقبال ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ تحقیق و تصنیف کے علاوہ ورکشاپس اور آن لائن کورسز پیش کرنا ان کی مصروفیات میں شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */